سعودیہ میں میزائل حملوں کے بعد پاکستانی خوف سے دوچار

یمن کے حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ سمیت اہم تنصیبات پر خوفناک میزائل حملوں کے بعد سعودی عرب میں مقیم پاکستانی شہری خوف، غیر یقینی صورت حال اور معاشی مشکلات سے دوچار ہیں، ایک طرف سکیورٹی خدشات نے انہیں عدم تحفظ کا شکار کر دیا ہے تو دوسری جانب فضائی آپریشنز کی معطلی، کاروباری سرگرمیوں میں کمی اور روزگار متاثر ہونے کے باعث ان کی آمدنی بھی گھٹ گئی ہے۔

ریاض ایئرپورٹ پر کام کرنے والے ایک پاکستانی شہری زبیر اکرم کے مطابق وہ گزشتہ 8 برس سے اس ہوائی اڈے پر ملازمت کر رہے ہیں اور ماضی میں ریاض کو انتہائی محفوظ مقام سمجھتے تھے، تاہم حالیہ حملوں کے بعد ان کے دل میں بھی خوف بیٹھ گیا ہے۔ ان کے مطابق حملے کے بعد ایئرپورٹ پہنچنے پر وہاں کے حالات اور حملے کے اثرات نے عملے کے ارکان میں اپنی حفاظت کے حوالے سے تشویش پیدا کر دی ہے، جبکہ پاکستان میں موجود ان کے اہل خانہ بھی صورت حال پر پریشان ہیں۔

ریاض میں مقیم پاکستانیوں کے مطابق اگرچہ سعودی عرب میں روزمرہ زندگی مکمل طور پر رکی نہیں، تاہم لوگوں کے ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہو گیا ہے کہ آیا ریاض پہلے کی طرح محفوظ ہے یا نہیں۔ پاکستانی شہریوں کا کہنا ہے کہ حملوں کے بعد لوگ اپنی نقل و حرکت اور حفاظت کے بارے میں زیادہ محتاط ہو گئے ہیں۔ دوسری جانب سعودی حکام کا مؤقف ہے کہ حفاظتی اقدامات کیے جا رہے ہیں اور ملک میں زندگی معمول کے مطابق جاری ہے۔

حالیہ حملوں کے بعد پاکستانی شہریوں کو سوشل میڈیا پر تصاویر اور ویڈیوز شیئر کرنے کے حوالے سے بھی احتیاط برتنا پڑ رہی ہے۔ بی بی سی اردو سے گفتگو کرنے والے پاکستانیوں کے مطابق حکام کی جانب سے موبائل فون اور سوشل میڈیا پر پیغامات بھیجے جاتے ہیں جن میں حملوں، میزائلوں کو روکنے کی کارروائیوں اور متاثرہ مقامات سے متعلق تصاویر، ویڈیوز یا معلومات شیئر نہ کرنے کی ہدایت کی جاتی ہے، جبکہ خلاف ورزی کی صورت میں قانونی کارروائی سے خبردار کیا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے بعض پاکستانی شہری اپنی شناخت ظاہر کرنے سے بھی گریز کرتے ہیں۔

حوثیوں کے حملوں اور سکیورٹی خدشات کے اثرات تعلیم اور خدمات کے شعبوں پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔ ریاض میں مقیم پاکستانی استاد اسما کے مطابق تعلیمی ادارے بند ہونے کے باعث وہ اپنے شوہر کے ساتھ گھر سے آن لائن کلاسیں لے رہی ہیں، تاہم تدریسی سرگرمیاں جاری رہنے کے باوجود تشویش ختم نہیں ہوئی۔ ان کے مطابق غیر ملکی محنت کشوں کے بچوں اور ان کے والدین میں بھی روزگار اور مستقبل کے حوالے سے پریشانی پائی جاتی ہے۔

حملوں کے باعث کاروباری سرگرمیاں متاثر ہونے سے ہوٹلوں میں کام کرنے والے پاکستانیوں کو بھی مشکلات کا سامنا ہے۔

ریاض کے ایک ہوٹل میں ملازمت کرنے والے مجتبیٰ خان کے مطابق لوگوں کے باہر نکلنے میں کمی کے باعث ہوٹل میں کام نمایاں طور پر گھٹ گیا ہے۔ ایک فور اسٹار ہوٹل میں کام کرنے والے پاکستانی عبداللہ کا کہنا ہے کہ متعدد بکنگز منسوخ ہو چکی ہیں اور ان کا ہوٹل تقریباً خالی ہو گیا ہے۔ ان کے مطابق انتظامیہ نے کام نہ ہونے کی وجہ سے انھیں اگلی کال کا انتظار کرنے کو کہا ہے، جس سے ان کی آمدنی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

فضائی آپریشنز کی معطلی نے ٹیکسی ڈرائیوروں کی آمدنی کو بھی متاثر کیا ہے۔

 

ریاض میں کام کرنے والے پاکستانی ٹیکسی ڈرائیور نصیر اللہ کے مطابق وہ پہلے روزانہ 250 سے 400 سعودی ریال تک کما لیتے تھے، تاہم ایئرپورٹ اور سیاحوں سے متعلق کام تقریباً ختم ہونے کے باعث اب بعض دنوں میں ان کے پاس 50 ریال بھی نہیں بچتے۔ ان کے مطابق سڑکوں پر ٹریفک بھی کم دکھائی دیتی ہے اور لوگ پہلے کی نسبت کم باہر نکل رہے ہیں۔ یوں حملوں کے اثرات صرف سکیورٹی تک محدود نہیں رہے بلکہ روزانہ اجرت یا کمیشن پر انحصار کرنے والے پاکستانیوں کی مالی مشکلات بھی بڑھ گئی ہیں۔

حوثیوں کے حملوں نے سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں کے لیے سکیورٹی خدشات کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ 11 اکتوبر 2026 کو ریاض کے شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایک اور حملے میں ایک پاکستانی شہری ہلاک جبکہ 11 افراد زخمی ہو گئے۔ اس واقعے نے سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں کی تشویش میں مذئد اضافہ کر دیا ہے، خصوصاً ان افراد کی جو ایئرپورٹس، ہوٹلوں اور دیگر خدمات کے شعبوں سے وابستہ ہیں۔ سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں کے لیے موجودہ صورت حال نے سلامتی، روزگار، آمدنی اور اہل خانہ کی پریشانیوں کو ایک ساتھ بڑھا دیا ہے۔

شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملوں کے بعد فضائی سفر بھی شدید متاثر ہوا ہے اور متعدد بین الاقوامی فضائی کمپنیوں نے ریاض کے لیے پروازیں عارضی طور پر معطل یا منسوخ کر دی ہیں۔ سعودی حکام کے اعلان کے مطابق ایئرپورٹ کو کم از کم 17 اکتوبر تک بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا تھا، جبکہ مختلف ممالک نے اپنے شہریوں کو صورت حال کے پیش نظر احتیاط برتنے کی ہدایت کی ہے۔ اگرچہ سعودی حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں زندگی معمول کے مطابق جاری ہے، تاہم متاثرہ پاکستانی شہری امید کر رہے ہیں کہ سکیورٹی صورت حال جلد بہتر ہو گی اور ان کی معمول کی زندگی بحال ہو سکے گی۔

Back to top button