مراد سعید ایمرجنسی کے نفاذ کے ذمہ دار کیوں قرار پائے؟

عمران خان کی وزارت عظمی کے دوران چکنے لونڈے کا لقب پانے والے تحریک انصاف کی رہنما مراد سعید کو حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کی ناکامی اور خیبر پختون خواہ میں گورنر راج کے نفاذ کا ذمہ دار قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ تمام سیاسی فیصلہ سازی وزیراعلی سہیل آفریدی کی بجائے مراد سعید ہی کر رہے تھے۔

وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ خان نے بھی تصدیق کی یے کہ عمران خان کے قریبی سابق وفاقی وزیر مراد سعید ہی حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کی ناکامی کے ذمہ دار ہیں۔ حکومتی رہنماؤں کا دعویٰ ہے کہ لانگ مارچ کے اغاز سے مذاکرات کی ناکامی تک بظاہر سہیل آفریدی مرکزی کردار ادا کر رہے تھے، تاہم تمام تر اہم سیاسی فیصلے مراد سعید کی مشاورت سے کیے جا رہے تھے۔

ان کے مطابق جب بھی حکومت اور پی ٹی آئی کے مابین مذاکرات میں پیش رفت ہوتی اور لانگ مارچ ختم کرنے یا کسی معاہدے پر پہنچنے کی امید پیدا ہوتی تو مراد سعید وزیر اعلی آفریدی کو مزید شرائط پیش کرنے کا مشورہ دے دیتے، اور یوں معاملات تعطل کا شکار ہو جاتے۔ یاد رہے کہ سینیٹ میں خطاب کرتے ہوئے محسن نقوی نے دعویٰ کیا کہ مذاکرات کے دوران معاہدے کے مسودے میں ترامیم کے بعد اسے سہیل آفریدی کو بھیجا گیا، لیکن انہوں نے فیصلہ کرنے کے بجائے مراد سعید سے مشورہ کیا۔ وزیر داخلہ کے مطابق جس رات مذاکرات کامیاب ہونے کے قریب پہنچے اور صدر آصف علی زرداری کی جانب سے معاہدے پر دستخط کیے جانے کا معاملہ سامنے آیا، تب مزید شرائط پیش کرنے کی تجویز دی گئی، جس کے بعد اتفاق رائے نہ ہوسکا۔

محسن نقوی نے سوال اٹھایا کہ اگر تحریک انصاف کی مذاکراتی کمیٹی خود فیصلے کرنے کا اختیار نہیں رکھتی تھی تو اسے مذاکرات کی ذمہ داری کیوں سونپی گئی تھی۔ رانا ثنا اللہ نے بھی مراد سعید کے کردار پر سوال اٹھاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ علی امین گنڈاپور کی جگہ سہیل آفریدی کو وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا بنانے کا مشورہ بھی مراد سعید نے دیا تھا۔ ان کے مطابق مراد سعید روپوش ہونے کے باوجود صوبے کی سیاست اور تحریک انصاف کے فیصلوں پر اثرانداز ہو رہے ہیں۔ رانا ثنا اللہ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ مراد سعید افغانستان میں موجود ہیں۔

خیال رہے کہ مراد سعید کا تعلق ضلع سوات کی تحصیل کبل سے ہے۔ انہوں نے پشاور یونیورسٹی سے ماحولیاتی علوم میں تعلیم حاصل کی اور عملی سیاست کا آغاز تحریک انصاف کی طلبہ تنظیم انصاف سٹوڈنٹس فیڈریشن سے کیا۔ وہ تنظیم کے بانی ارکان میں شامل تھے اور بعدازاں اس کے مرکزی صدر بھی رہے۔ مراد سعید 2013 کے انتخابات میں سوات سے تحریک انصاف کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے۔ 2018 میں دوبارہ کامیابی کے بعد انہیں عمران خان کی وفاقی کابینہ میں شامل کیا گیا۔ ابتدا میں وزیر مملکت بنائے جانے کے بعد وہ وفاقی وزیر برائے مواصلات اور پوسٹل سروسز مقرر ہوئے۔

طلبہ سیاست سے وفاقی کابینہ تک ان کا سفر تحریک انصاف میں ان کے بڑھتے ہوئے سیاسی اثرورسوخ کی عکاسی کرتا تھا۔ یہی وہ دور تھا جب انہیں عمران خان سے قربت کی وجہ سے چکنا لونڈا قرار دیا جانے لگا۔ تاہم خان سے ان کی قربت کی اہم وجوہات میں پی ٹی آئی سے طویل وابستگی، نوجوان کارکنوں میں مقبولیت اور کپتان کے سیاسی مؤقف کا بھرپور دفاع شامل تھا۔ ان کی پارٹی اور حکومت میں تیز ترین ترقی کو عمران خان کے نوجوان رہنماؤں پر اعتماد کا نتیجہ قرار دیا جاتا تھا۔

تاہم عمران حکومت کے خاتمے کے بعد مراد سعید کی سیاسی مشکلات میں شدت 9 مئی 2923 کے حملوں کے بعد آئی۔ عمران کی گرفتاری کے خلاف ملک بھر میں ہونے والے مظاہروں اور فوجی تنصیبات سمیت سرکاری عمارتوں پر حملوں کے الزام پر تحریک انصاف کے کئی رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف مقدمات درج ہوئے۔ مراد سعید بھی مختلف مقدمات میں مطلوب قرار پائے جس کے بعد سے وہ سیاسی منظرعام سے غائب ہو گے۔ ان کی طویل روپوشی نے ان کی سیاسی سرگرمیوں کو محدود کردیا، جبکہ ان کے خلاف قانونی کارروائیاں جاری رہیں۔

اپنی روپوشی کے دوران 2025 میں مراد سعید سینٹ کے رکن منتخب ہو گئے تھے۔ مارچ 2926 میں راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے جی ایچ کیو حملہ کیس میں مراد سعید کو دس سال قید بامشقت کی سزا سنا دی۔ وہ ان لوگوں میں شامل تھے جنہیں اس کیس میں اشتہاری قرار دیا گیا تھا۔ بعد ازاں الیکشن کمیشن نے ان کی سینیٹ سے نااہلی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا تھا۔ ان مقدمات اور عدالتی فیصلوں نے ان کے سیاسی مستقبل کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔

پولیس کو مطلوب اور مفرور مراد سعید کے ٹھکانے کے بارے میں رانا ثنا اللہ کا دعویٰ ہے کہ وہ افغانستان میں موجود ہیں اور وہاں سے خیبر پختونخوا کی سیاسی فیصلہ سازی پر اثرانداز ہو رہے ہیں۔ تازہ ترین اطلاع یہ ہے کہ خیبر پختون خواہ میں صوبائی حکومت کی معطلی کے بعد مراد سعید کے ٹھکانے کی تلاش تیز کر دی گئی ہے۔

Back to top button