سیاسی وفاداریاں بدلنے والی ایم کیو ایم کا مستقبل کیا ہے؟

سینئر صحافی اور تجزیہ کار مظہر عباس نے کہا ہے کہ سال 2018 میں پی ٹی آئی کی اتحادی بننے والی ایم کیو ایم 2022 میں پی پی پی کی اتحادی تو بن گئی لیکن دیکھنا یہ ہے کہ کہیں اگلے عام انتخابات میں یہ فیصلہ پارٹی کو بھگتنا تو نہیں پڑ جائے گا؟ اس کا اندازہ اگلے الیکشن کے نتائج سے ہی ہو گا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے پیکا آرڈیننس کالعدم قرار دے دیا

اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں مظہر عباس کہتے ہیں کہ 30؍ سال پہلے 19 جون 1992ء کو کراچی میں ہونے والے فوجی آپریشن کے نتیجے میں دہشت گردی ختم ہو چکی ہوتی تو مزید تین آپریشن نہ کرنے پڑتے، البتہ متحدہ قومی موومنٹ کو توڑنے کا جو عمل تب شروع ہوا تھا وہ اپنے منطقی انجام تک پہنچتا نظر آ رہا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ اس سے جو سیاسی خلا پیدا ہو رہا ہے اس کو کون پر کرے گا۔ اپنے سوال کا خود ہی جواب دیتے ہوئے مظہر کہتے ہیں کہ اس کی واضح شکل آئندہ ہونے والے بلدیاتی الیکشن، ایک اور ضمنی الیکشن اور 2023ء یا قبل از وقت عام انتخابات میں سامنے آجائے گی مگر نئے سیاسی رجحانات بظاہر صاف نظر آرہے ہیں۔

اس وقت ایم کیوایم کے جتنے بھی گروپس ہیں لندن سے بہادرآباد تک اور پی آئی بی سے لانڈھی اور نرسری تک، ان میں ’انا‘ کے مسائل زیادہ ہیں جو بظاہر ختم ہوتے نظر نہیں آرہے۔ غلطیوں اور مبینہ جرائم میں سب کا کہیں نہ کہیں کوئی حصہ نظرآتا ہے اور ریاستی سطح پر مہاجر سیاست سے جڑا ہر گروپ ڈرائی کلیننگ کے بعد بھی ہنوز ’’گرے لسٹ‘‘ میں ہے۔ مظہر کہتے ہیں کہ آپ بھی سوچتے ہوں گے یہ گرے لسٹ کہاں سے آگئی۔ FATF کے بعد یہ اصطلاح سامنے آئی ۔ یقین جانیں ہماری سیاست میں بھی اس طرح کی ’لسٹ‘ موجود ہے یہاں تو ایک زمانے میں پی پی پی جیسی جماعت ’بلیک لسٹ‘ تھی بعد میں مسلم لیگ (ن) گرے لسٹ میں آگئی اور اب خطرہ ہے کہ عمر ان خان کے ’نیوٹرل‘ پر متواتر حملوں کے نتیجے میں تحریک انصاف بھی کسی لسٹ میں نہ چلی جائے۔

ایم کیوایم کامعاملہ مگر ان سب سے مختلف ہے۔ ایم کیو ایم (لندن) اب بھی بلیک لسٹ میں ہے اور گو کہ قانونی طور پر وہ کالعدم جماعت نہیں مگر 90 اب بھی نوگو ایریاہے۔ 22؍ اگست 2016ء کو ایم کیوایم پاکستان نے اپنا ر شتہ لندن سے توڑ لیا، پارٹی آئین سے ’بانی‘ کا لفظ بھی نکال دیا اور خود بانی کو بھی نکال دیا مگر اس وقت بھی ان کے لوگوں کو پرانے مقدمات کا سامنا ہے۔ سیکٹر اور یونٹ آفس کھولنے کی اجازت نہیں۔

مظہر کے بقول، 19 جون 1992ء کا میں چشم دید گواہ ہوں۔ ایم کیو ایم میں تقسیم کا عمل 1991ء میں شروع ہوگیا تھا جب بانی کے دو قریب ترین وفادار آفاق اور عامر جو اس وقت کے پارٹی سیٹ اپ میں ’زونل انچارج‘ تھے، پہلے بیرون ملک بھیجے گئے پھر نکال دیئے گئے اور پوری تنظیم معطل کردی گئی۔ اس عمل نے پارٹی کے اندر تشدد کی سیاست کو ایک نیا رخ دیا اور اس کے بعد سے آج تک کئی سو لوگ مار دیئے گئے۔ جون کے آپریشن کی تیاری فروری 1992ء میں شروع ہوگئی تھی بلکہ نومبر یا دسمبر 1991ءسے اور اسی وجہ سے سندھ کے سابق وزیراعلیٰ جام صادق علی مرحوم نے بانی متحدہ الطاف حسین کو آگاہ کردیا اور ملک سے نکل جانے کا مشورہ دیا۔ وہ گئے تو پھر واپس نہ آئے۔مارچ 1992ء کو جنرل آصف نواز نے اس وقت کے وزیر اعظم میاں نواز شریف کو سندھ میں ڈاکوئوں کے خلاف اور ان کے سیاسی سرپرستوں جن کو ’’72 بڑی مچھلیوں‘‘ کا نام دیا گیا کے حوالے سے رپورٹ جمع کرائی اورآپریشن کی اجازت مانگی۔ مئی 92ء کے شروع میں کراچی میں اجلاس ہوا جس میں سابق صدر غلام اسحاق خان بھی موجود تھے اور ایم کیوایم کی قیادت بھی موجود تھی۔ 28؍مئی کو آپریشن شروع ہوا مگر ایک افسوسناک واقعے کے بعد جس میں نو دیہاتیوں کو ڈاکو اور دہشت گرد کہہ کر ہلاک کردیا گیا آپریشن رک گیا اور اس میجر ارشد کو ملٹری کورٹ نے پھانسی دے دی۔

مظہر کہتے ہیں کہ 19؍ جون کے آپریشن کا جنرل آصف نواز، نواز شریف اور غلام اسحاق خان کو علم تھا اسی لئے اس وقت کے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے اسکے خلاف بیان دیا اور ایم کیو ایم حکومت سے باہر آگئی۔ آپریشن کیلئے پولیس افسران کی فہرست بنی اس وقت رائو انوار سکھر میں اور بہادر علی بدین میں تعینات تھے انہیں کراچی ٹرانسفر کروایا گیا۔ اہم ترین بات یہ کہ ان سب کو ایک واضح ہدایت دی گئی کہ اگر کوئی گرفتاری کے بعد ’لانڈھی‘ والوں کے ساتھ جانا چاہے تو جانے دیا جائے۔ اس پالیسی پر دونوں بڑی ایجنسیوں میں اختلاف پایا گیا مگر ایم کیو ایم کے حکومت سے نکلنے کے بعد سندھ حکومت بچانا بھی درکار تھا۔بہت سے رہنما اور کارکن لندن سے تعلق توڑنے پر تیار ہوئے مگر وہ آفاق اور عامر خان کے ساتھ نہیں جانا چاہتے تھے، ان میں کچھ اراکین قومی اور سندھ اسمبلی نے دبائو میں حکومت کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا اور ان کو ایجنسیوں کے حصار میں لایا اور لے جایا جاتا۔ ایم کیو ایم میں الطاف حسین کے بعد سب سے معتبر رہنما چیئرمین عظیم احمد طارق تھے وہ منظر عام پر لائے گئے تو پارٹی کے کئی رہنما ان کے ساتھ آگئے۔ ان سب کو گلشن اقبال میں ایک گھر دلوا کر رکھا گیا اور ان سب کی نگرانی رائو انوار نے کی۔ تاہم یکم مئی 1993ء کو عظیم طارق اپنے دوستوں سے یہ کہہ کر کہ میں آج رات اپنی فیملی کے ساتھ رہنا چاہتا ہوں گھر چلے گئے اور وہیں ٹارگٹ کلنگ کا شکار ہوگئے۔ کہتے ہیں بعد میں ان کو مارنے والے بھی مارے گئے۔

بقول مظہر عباس ایم کیو ایم کے بانی چیئرمین عظیم احمد طارق کا قتل پارٹی کیلئے بڑا نقصان تھا۔ وہ ان چند لوگوں میں سے تھے جو اختلافات اور تقسیم کو ختم کرانے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ وہ جب منظر عام پر آئے تو 1992کے آپریشن کے دوران انہوں نے ایک نشست میں کہا، ’’میں نے تفتیش کرنے والوں سے کہا کہ ہماری جماعت کو ختم کر دیں یا ان کے رہنمائوں کو، جب تک عوامل زندہ رہیں گے اس طرح کی جماعتیں اور گروپس بنتے رہیں گے جب کچھ زور زبردستی کی تو میں نے کہا یار مارتے بھی ہو اور رونے بھی نہیں دیتے۔‘‘

عظیم احمد طارق پارٹی کے اندر چل رہے معاملات سے پریشان تھے، الطاف حسین نے1990 کے بعد پارٹی کے اندرونی اختلافات کو ختم کرنے کے حوالے سے کئی بار کوشش کی۔ بہرحال بقول پارٹی کے ایک بانی رکن کے ’’جب پیسہ اور پاور آئی ‘‘تو ہم اپنے نظریے سے ہٹ گئے ورنہ جو حمایت ایم کیو ایم کے حصے میں آئی تھی وہ نہ پہلے اور شاید نہ آئندہ کبھی کسی کو مل پائے۔ ہم نے دلوں پر راج کرنے کے بجائے علاقوں کو کنٹرول کرنا شروع کر دیا،اپنے ہی لوگوں کو خوف زدہ کر دیا۔ جب سلک کا کرتا کھدر کے کرتے کی جگہ لے لے، جب فخریہ انداز میں بسوں اور موٹر سائیکل پر اسمبلی جانے والے بڑی بڑی گاڑیوں میں آنا شروع کر دیں۔

مظہر عباس کہتے ہیں کہ جب دہری شہریت لے لی جائے تو ایسے میں نظریہ اور فلسفہ کہیں پیچھے رہ جاتا ہے۔ اور ایسا ہی کچھ اس جماعت کے ساتھ ہوا جس کے اوپر سے لیکر نیچے تک سب ذمہ دار ہیں۔ کون سی ایجنسی ہے جس کے ہاتھوں ہم استعمال نہیں ہوئے۔ ایم کیو ایم کے خلاف کئی آپریشن ہوئے،1992 پھر 1995،1998اور 2008میں تو لیاری گینگ وار کے ذریعے عذیر بلوچ کو بھی استعمال کیا گیا اور خود بقول اس وقت کے سندھ کے وزیر داخلہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا ایک لاکھ اسلحہ کے لائسنس دیئے گئے۔ آخری آپریشن جو کسی نہ کسی شکل میں اب بھی جاری ہے، 2014ءمیں ہوا۔ ایم کیو ایم پھر بھی انتخابی کامیابیاں حاصل کرتی رہی یہاں تک کہ آخری بڑی کامیابی 2013ءکے الیکشن میں ملی جب پارٹی غالباً 21میں سے 18قومی اسمبلی کی سیٹیں جیتیں۔

1991کی تقسیم کے بعد 2010 میں اس وقت پارٹی کے اندر اختلافات نے شدت اختیار کی جب ذوالفقار مرزا آپریشن کے بعد بھی سابق وزیر داخلہ رحمان ملک کے کہنے پر ایم کیو ایم (لندن) نے ایم کیو ایم (پاکستان) کی رائے مانگی تو یہاں اس کی مخالفت ہوئی۔ مظہر بتاتے ہیں کہ پارٹی کے اندر رائے شماری کرائی گئی تو اکثریت نے شمولیت اختیار کرنے کے خلاف ووٹ دیا پھر بھی کمزور وزارتیں لے کر حکومت میں شامل ہو گئے۔ یہ ابتدا تھی آنے والے طوفان کی۔

ایم کیو ایم کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر عمران فاروق طویل ترین روپوشی اختیار کرنے کے بعد منظر عام پر آئے تو اس طرح کی خبریں آنے لگیں کہ وہ کوئی الگ گروپ بنا رہے ہیں۔ اسی دوران وہ اچانک لندن پہنچ گئے۔ کہتے ہیں ویزا انہیں ہیتھرو ایئرپورٹ پر ملا۔ ایک بار لندن سے ان کا فون آیا تو میں نے کہا ڈاکٹر صاحب کتاب لکھ ڈالیں ۔ایسی روپوشی تو کسی نے نہیں دیکھی، انہوں نے بڑا معنی خیز جملہ کہا تھا ’’مظہر بھائی طوفان سونامی میں بدل جائے گا، زندہ رہے تو سوچیں گے۔‘‘ پھر 2010 میں لندن میں انہیں قتل کر دیا گیا۔ اب پارٹی خاص حد تک انتشار کا شکار ہو چکی تھی۔ بیلٹ باکس میں ایک لاکھ ووٹ پڑ بھی جائیں تو آپ کو تو پتا ہی ہوتا ہے کہ آپ خود اب کہاں کھڑے ہیں۔ اسی دوران عامر خان نےجو مشرف کےدور میں آفاق کے ساتھ گرفتار ہوئے تھے، ایم کیو ایم کے مطالبے پر، پارٹی میں واپسی کی درخواست کی تو رابطہ کمیٹی میں اس معاملے پر تقسیم نظر آئی۔ وہ بھی ایک عجب منظر تھا جب جنرل ورکرز اجلاس میں انہوں نے سب سے معافی مانگی۔ یہ بات بہرحال اب تک راز ہی ہے کہ آفاق سے اختلاف کیا ہوا اور واپسی کیسے ہوئی۔ بہرحال آہستہ آہستہ انہوں نے اپنی جگہ بنالی مگر انیس قائم خانی کو پیچھے کر دیا گیا۔ کچھ پارٹی رہنمائوں کا کہنا ہے کہ یہ طے ہوا تھا کہ عامر کو رابطہ کمیٹی میں نہیں لیا جائیگا۔

مظہر عباس کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم میں اختلافات بڑھنے کی ایک بڑی وجہ دو لندن اور پاکستان کی رابطہ کمیٹیوں کا بننا تھا۔ الطاف حسین سمیت لندن میں بیٹھے پارٹی رہنمائوں کی سوچ اور اپروچ یہاں کے رہنمائوں سے مختلف تھی۔ 2013کے انتخابات میں تو پہلی بار ایسا ہوا کہ پارٹی کے اندر سے بغاوت ہوئی اور خاموشی سے یا تو تحریک انصاف کو ووٹ پڑوائے گئے یا زور زبردستی والی پالیسی میں اوپر کی ہدایت کے برخلاف نرمی اختیار کی گئی۔ نتیجہ آیا تو ایم کیو ایم نے قومی اسمبلی میں کراچی سے 21 سے 18سیٹیں جیتیں۔ مگر پی ٹی آئی کو 8 لاکھ ووٹ پڑ گیا۔ اسے قومی اسمبلی کی ایک سیٹ ملی جو بظاہر کوئی طوفان کی وجہ نہیں تھی۔ مگر دوسرے روز رات کو جو جنرل ورکرز اجلاس میں ہوا اور جس طرح رابطہ کمیٹی اراکین کو بے عزت کیا گیا وہ پارٹی کے زوال کا باعث بنا۔بہت سے ممبران اور تنظیمی رہنما پارٹی چھوڑ کر ملک سے باہر چلے گئے۔

2016 ایم کیو ایم کے نقطہ نظر سے بدترین سال تھا۔ اسی سال تین مزید گروپ سامنے آئے۔ سب سے پہلے مصطفٰی کمال نے اپنے ساتھیوں سمیت ایک جذباتی پریس کانفرنس میں الطاف حسین اور پارٹی سے الگ ہو کر پاک سر زمین پارٹی بنائی۔

اس سے زیادہ خوفناک صورتحال اس وقت سامنے آئی جب22اگست 2016کو کراچی پریس کلب کے باہر ایم کیو ایم کے بھوک ہڑتالی کیمپ سے خطاب کے دوران اچانک الطاف حسین نے پاکستان مخالف نعرے لگوانے شروع کر دیئے پھر نجی چینل پر حملہ ہو گیا۔ وہ دن غالباً شہری سندھ کی اپنے زمانے کی مقبول ترین جماعت کی مقبولیت کا آخری دن تھا۔ بعد میں پہلے مرحلے میں ایم کیو ایم (پاکستان) اور ایم کیو ایم (لندن) کی راہیں جدا ہوئیں، پھر یہاں اختلاف بڑھا تو ایک ایم کیو ایم ( تحریک بحالی) بن گئی۔

لندن سے بہت سے رہنما الگ ہو کر امریکہ، کینیڈا یا جنوبی افریقہ چلے گئے،کچھ لوگ دبئی میں ہیں۔ مظہر عباس کے بقول اس بات کا قوی امکان ہے کہ الیکشن 2018 میں ایم کیو ایم ( پاکستان) کی نشستیں جان بوجھ کر کم کی گئی ہوں۔ لیکن اہم سوال یہ ہے کہ سال 2018 میں پی ٹی آئی کی اتحادی بن جانے بعد 2022 میں پی پی پی کا اتحادی بن جانا ایم کیو ایم کو کتنا مہنگا پڑے گا۔ اس کا اندازہ اگلے الیکشن کے نتائج سے ہو گا۔

Back to top button