ن لیگ نے پرائی مہنگائی کا ڈھول اپنے گلے میں کیوں ڈالا؟

سینئر صحافی اور تجزیہ کار نصرت جاوید نے کہا ہے کہ عوام پر مہنگائی کا عذاب نازل کرنے والے وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل مسلم لیگ (نون) کے اس گروپ سے وابستہ تھے جو عمران خان کو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے ہٹانے کا حامی نہیں تھا۔ اسکی وجہ یہ سوچ تھی کہ عمران سے جان چھڑانے کے بعد ملک کی بدتر معاشی صورتحال اگلی حکومت کے لیے ایک چیلنج بن جائے گی۔ لہذا نون کے اس گروپ کا موقف تھا کہ اگر عمران سے جان چھڑانی پڑ بھی جائے تو اس کے بعد فوری الیکشن کی طرف بڑھا جائے کیونکہ پاکستان جس اقتصادی گرداب میں گھرچکا ہے اس سے نبردآزما ہونے کے لئے ”فریش مینڈیٹ“ کے تحت قائم ہونے والی حکومت ہی کوئی ”سخت اور غیر مقبول“ فیصلے لینے کی جرات دکھا سکتی ہے۔ مگر نواز شریف کے نام سے منسوب جماعت کی اکثریت اس کے لئے تیار نہیں تھی۔ لہذا عمران کو نکال کر انکی کی جگہ شہباز شریف نے وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھال لیا اور مفتاح اسماعیل کو وزیر خزانہ تعینات کر دیا گیا۔ اس کا نتیجہ سب کے سامنے ہے اور اب ن لیگ کے وزیر خزانہ کو روزانہ عوام پر مہنگائی کے بم گرانے پڑتے ہیں حالانکہ یہ سارے معاہدے عمران خان نے آئی ایم ایف کے ساتھ کیے تھے۔
چھکا لگاتے ہوئے باؤنڈری پر کیچ آؤٹ ہونے والا کپتان
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں نصرت جاوید کہتے ہیں کہ عوام کی اکثریت اس حقیقت سے لاعلم ہے کہ عمران خان نے وزارت عظمیٰ سے فراغت کے بعد اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیہ اپناتے ہوئے اپنی عوامی حمایت کا جو ”جلوہ“ دکھایا تھا اس سے ہماری ریاست کے دائمی اداروں میں براجمان چند اہم افراد بھی گھبرا گئے تھے۔ان میں یہ سوچ ابھری کہ عمران خان کو رام کرنے کے لئے نئے انتخابات کا اعلان کردیا جائے۔ یہ سوچ ”پیغام“ کی صورت وزیر اعظم شہباز شریف تک پہنچی تو وہ گھبرا گئے۔ انہیں خبر تھی کہ رواں مالی سال کے لئے جو بجٹ تیار کرنا پڑے گا وہ عوام کی اکثریت کے لئے ناقابل برداشت ہوگا۔ بجٹ منظور کروا لینے کے فوری بعد مسلم لیگ (نون) اگر انتخاب میں گئی تو اپنے روایتی ”ووٹ بینک“ سے محروم ہو جائے گی۔ اس سوچ کے بعد یہ سوال بھی اٹھا کہ موجودہ حکومت نیا بجٹ تیار کرنے کی اذیت کیوں اٹھائے۔ اسے منظور کروانے میں اپنی توانائی بھی کیوں ضائع کرے۔ گومگو کے اس عالم نے شہباز شریف کو اپنی کابینہ کے سرکردہ اراکین سمیت لندن جانے کو مجبور کیا۔ لیکن وہاں ان کے ”قائد“ نے ڈٹے رہنے کا حکم صادر کیا۔ ان کا موقف تھا کہ اب چونکہ عمران خان فوری الیکشن کا مطالبہ کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے ہیں لہٰذا اب سرنڈر کرنے کی آپشن نہیں اپنائی جائے گی۔
نصرت جاوید کے بقول، مختصراًیوں کہہ لیں کہ رواں مالی برس کے لئے جو بجٹ تیار ہوا ہے وہ نواز شریف کی ”اجازت“ سے تیار ہوا ہے۔ یہ ”اجازت“ دیتے ہوئے ”قائد“ نے اس امر کو بھی یقینی تصور کیا کہ موجودہ حکومت کو قومی اسمبلی کی بقیہ مدت ختم ہونے تک آئندہ برس کے اگست تک برقرار رکھا جائے گا۔ شاید اس دوران ”وقت اچھا بھی آئے گا ناصر“ والا ماحول بھی میسر ہوجائے۔ لیکن بقول نصرت، اقتدار کا کھیل بہت سفاک ہوتا ہے۔ جو بجٹ مفتاح اسماعیل نے قومی اسمبلی کے روبرو رکھا وہ یقیناً جان لیوا ہے۔ اسکی بدولت پیٹرول، گیس اور بجلی کی قیمتوں میں ناقابل برداشت اضافہ ہوا ہے۔موجودہ حکومت میں شامل دیگر جماعتیں اگر اس بجٹ سے فاصلہ اختیار کریں تو سمجھا جاسکتا ہے۔ مگر تلخ حقیقت یہ ہے کہ مسلم لیگ (نون) کے اراکین پارلیمان اور کٹر حامیوں کی اکثریت بھی ”سخت بجٹ“پیش کرنے کا مفتاح اسماعیل کو یک و تنہا ذمہ دار ٹھہرارہی ہے۔ اسی باعث ہر دوسرے دن ”باوثوق ذرائع“ سے ”خبر“ چلوادی جاتی ہے کہ نواز حکومت کے گزشتہ دو ادوار میں معاشی رونق دکھانے والے اسحاق ڈار وطن واپس لوٹ رہے ہیں۔ اب دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اسحق ڈار شاید جولائی کے دوسرے ہفتے میں وطن لوٹ آئیں گے اور بطور سینیٹر اپنے عہدے کا حلف لیں گے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اسکے بعد وہ مفتاح اسماعیل کی جگہ وزارت خزانہ کا منصب سنبھال لیں گے۔
لیکن نصرت جاوید کہتے ہیں کہ میں وثوق کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ اگر اسحاق ڈار لوٹ بھی رہے ہیں تو وہ فی الفور وزارت خزانہ کا منصب نہیں سنبھالیں گے۔ عالمی معیشت کے نگہبان ادارے اور ہمارے ہاں حکومتوں کی آمد ورفت کے ”کلید بردار“ واضح انداز میں خواہش مند ہیں کہ جو بجٹ تیار ہوا ہے اسے ”پٹڑی“ پر چڑھانے کا فریضہ بھی فی الحال مفتاح اسماعیل ہی ادا کریں۔ اس طرح پیغام دیا جائے کہ حکومت جو ”سخت اقدامات“ لے چکی ہے انہیں ہر صورت بروئے کار لایا جائے گا۔ویسے بھی مفتاح اسماعیل کی جولائی اور اگست کے درمیان فراغت فقط نئے انتخاب کو یقینی بنانے کا پیغام ہی دے گی۔ لہذا ابھی ایسا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔
