اسٹیبلشمنٹ نے خیبر پختون خواہ کو اپنی تجربہ گاہ بنا لیا؟

نامور تجزیہ کار سلیم صافی نے کہا ہے کہ طاقتور فیصلہ سازوں نے خیبر پختونخوا کو ایک لیبارٹری بنا کر رکھ دیا ہے، جہاں جس کے جی میں جو تجربہ آئے، وہ کر لیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق اب صوبے کو انتظامی لحاظ سے دو حصوں میں تقسیم کرنے کا نیا تجربہ کیا جا رہا ہے، تاہم لکھ کر رکھ لیجیے کہ چند ماہ بعد یہ فیصلہ کرنے والے خود سر پیٹ رہے ہوں گے۔
روزنامہ جنگ میں اپنے تجزیے میں سلیم صافی نے لکھا ہے کہ خیبر پختونخوا کا ایک حصہ قبائلی اضلاع اور ان سے متصل چار اضلاع پر مشتمل ہے، جبکہ دوسرا حصہ باقی صوبے پر مشتمل ہے۔ اس تقسیم کے حق میں دلیل یہ دی جا رہی ہے کہ دہشت گردی سے زیادہ متاثرہ قبائلی اضلاع اور ان سے ملحقہ علاقوں پر خصوصی توجہ دے کر وہاں ترقیاتی کاموں اور امن و امان کی صورت حال کو بہتر بنایا جائے، لیکن ان کے بقول یہ انتظام ایک مذاق کے سوا کچھ نہیں، جس سے نہ پورے صوبے کا انتظامی نظام پیچیدہ ہو جائے گا بلکہ ان 12 اضلاع میں بھی مسائل بڑھیں گے۔
سلیم صافی کے مطابق باقی صوبے کے چیف ایگزیکٹیو گورنر ہیں، جن کی معاونت کے لیے گیارہ مشیروں پر مشتمل ٹیکنوکریٹس کی ٹیم بنائی گئی ہے، جبکہ قبائلی اضلاع اور ان سے متصل چار اضلاع کا چیف ایگزیکٹیو ایک سرکاری افسر، ایڈیشنل چیف سیکرٹری کو مقرر کیا گیا ہے، جو گورنر کے بجائے وزیراعظم کو رپورٹ کرے گا۔ ان بارہ اضلاع کے لیے 48 رکنی مشاورتی کونسل بھی قائم کی گئی ہے، جس میں روایتی قبائلی ملکانان کو شامل کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فاٹا کے انضمام کے بعد جن روایتی ملک سرداروں کا کردار ختم کیا گیا تھا، انہیں اس فیصلے سے دوبارہ فعال کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ اس مشاورتی کونسل کا چیئرمین سابق گورنر شوکت اللہ کو بنایا گیا ہے، جو فاٹا انضمام کے مخالف تھے، جبکہ وائس چیئرمین ملک خان مرجان ہیں، جو انضمام مخالف تحریک میں پیش پیش رہے۔ کونسل میں شامل کیے گئے بیشتر ارکان بھی روایتی ملک سردار ہیں، جبکہ جمعیت علمائے اسلام کے نامزد کردہ چھ ارکان نے اس کا حصہ بننے سے انکار کر دیا ہے۔ سلیم صافی کے مطابق وائس چیئرمین بنتے ہی ملک خان مرجان کی دو ویڈیوز سامنے آئیں، جن میں ایک میں وہ لوگوں کو مبارک باد دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ انہوں نے پولیس، عدالتوں اور انضمام سے ان کی جان چھڑا دی، جبکہ دوسری میں وہ افغان اور پاکستانی طالبان کے ساتھ مذاکرات پر زور دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ حکومت اختیار دے تو قبائلی مشیران یہ مسئلہ حل کر سکتے ہیں۔
سلیم صافی کہتے ہیں کہ ملک خان مرجان کے ان بیانات پر شدید تنقید کے بعد مشاورتی کونسل کے ترجمان محمود جان بابر کو وضاحت کرنا پڑی کہ یہ ان کی ذاتی رائے ہے۔ ان کے مطابق اس کونسل کا چرچا تو بہت ہے، لیکن وفاقی حکومت کے حکمنامے میں اس کے اختیارات اور کردار کا واضح تعین نہیں کیا گیا۔ کونسل نہ اپنا سربراہ منتخب کر سکتی ہے اور نہ ہی اس کی سفارشات پر عمل درآمد ایڈیشنل چیف سیکرٹری کے لیے لازمی قرار دیا گیا ہے۔ یوں یہ ایک ایسی مشاورتی کونسل بن کر رہ گئی ہے جو مشورے تو دے سکتی ہے، لیکن انتظامی فیصلوں پر اس کا کوئی واضح اختیار نہیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر ان 12 اضلاع کا انتظام بھی گورنر کے پاس رہتا تو کیا زیادہ بہتر نہ ہوتا، یا پھر گریڈ 21 کے ایک افسر کو چیف ایگزیکٹیو بنا دینا زیادہ مناسب ہے؟ ان کے بقول اگر گورنر باقی صوبے کا انتظام چلا سکتے ہیں تو ان بارہ اضلاع کی ذمہ داری بھی انہیں سونپی جا سکتی تھی۔ اس نئے انتظام سے ترقیاتی کاموں میں تیزی آنے کے بجائے اختیارات کی تقسیم کے باعث مشکلات بڑھنے کا خدشہ ہے۔ مثال دیتے ہوئے انہوں نے لکھا ہے کہ ڈیرہ اسماعیل خان کی یونیورسٹی صوبائی وزیر تعلیم یا گورنر کے ماتحت ہے، ایسے میں اگر ایڈیشنل چیف سیکرٹری وہاں کوئی کام کرنا چاہیں تو انہیں گورنر اور صوبائی وزیر سے رجوع کرنا پڑے گا یا نہیں، اس بارے میں کوئی وضاحت موجود نہیں۔
سلیم صافی کے مطابق یہی ابہام صحت سمیت دیگر محکموں کے معاملات میں بھی پیدا ہوگا۔ اگر ٹانک کے کسی ہسپتال میں تبدیلی یا انتظامی اقدام کی ضرورت پیش آتی ہے تو کیا بارہ اضلاع کا چیف ایگزیکٹیو صوبائی وزیر صحت کی منظوری کے بغیر فیصلہ کر سکے گا؟ اسی طرح ان اضلاع کے لیے مختلف محکموں کے الگ سیکرٹری مقرر کیے جائیں گے، جو ایڈیشنل چیف سیکرٹری کے ماتحت ہوں گے، لیکن ان کے ماتحت عملہ صوبائی حکومت کے کنٹرول میں رہے گا۔ اس صورت میں تبادلوں اور تعیناتیوں کا اختیار کس کے پاس ہوگا، صوبائی حکومت کے پاس یا نئے چیف ایگزیکٹیو کے پاس؟ ان کے بقول اختیارات کی یہ غیر واضح تقسیم انتظامی معاملات کو مزید الجھا دے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایڈیشنل چیف سیکرٹری کی نگرانی کے لیے وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی سربراہی میں وفاقی وزرا کی ایک کمیٹی بھی قائم کی گئی ہے، حالانکہ ان میں سے بیشتر وزرا نے گزشتہ ڈھائی برس کے دوران ان اضلاع کا دورہ تک نہیں کیا اور نہ ہی وہ وہاں کے زمینی حقائق سے پوری طرح واقف ہیں۔ یہ دلیل بھی دی جا رہی ہے کہ الگ انتظام کا مقصد ان اضلاع کے لیے مختص فنڈز کو دوسرے اضلاع میں منتقل ہونے سے روکنا ہے، لیکن سلیم صافی کے مطابق اس مقصد کے لیے اتنے طویل انتظامی ڈھانچے کی ضرورت نہیں تھی، کیونکہ چیف سیکرٹری ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے بھی ان فنڈز کو مخصوص اضلاع میں خرچ کرنے کا پابند بنا سکتے تھے۔ ان کے بقول ترقیاتی کام ہوں یا امن و امان کے لیے اقدامات، یہ سب صوبائی حکومت کے تحت زیادہ تیزی اور بہتر انداز میں کیے جا سکتے تھے، جبکہ نئی مشاورتی کونسل کے ارکان اپنے اپنے علاقوں میں اثرورسوخ بڑھانے کی کوشش کرتے رہیں گے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اس دوہرے انتظامی نظام کے خالقوں کو فی الحال ان پر تنقید ناگوار گزرے گی، لیکن چند ماہ بعد وہ خود سر پیٹ رہے ہوں گے کہ انہوں نے علاقے کے عوام اور خود کو کس مصیبت میں ڈال دیا ہے۔
