اسٹیبلشمنٹ PTI کو ادھ موا کر کے زندہ کیوں رکھے گی؟

سینئر اینکر پرسن اور تجزیہ کار جاوید چوہدری نے کہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ عمران خان کو جیل میں قید رکھے گی، تاہم تحریک انصاف کو مکمل طور پر ختم کرنے کے بجائے ادھ موا کرکے زندہ رکھا جائے گا تاکہ ضرورت پڑنے پر اسے مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کو دباؤ میں لانے کے لیے استعمال کیا جا سکے۔
ایک ٹی وی انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ نہ تحریک انصاف کو مرنے دے گی اور نہ ہی اسے مکمل طور پر آزادانہ سیاسی کردار ادا کرنے دے گی، کیونکہ اس جماعت کو دونوں بڑی سیاسی جماعتوں پر دباؤ برقرار رکھنے کے لیے ایک چٹان کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ جاوید چوہدری نے کہا کہ تحریک انصاف کا برا وقت 2021ء میں تب شروع ہوا تھا جب جنرل فیض حمید کے تبادلے کے معاملے پر عمران خان ڈٹ گئے اور انہیں ڈی جی آئی ایس آئی کے عہدے پر برقرار رکھنے کی ضد کی۔ ان کے مطابق عمران خان چاہتے تھے کہ آئی ایس آئی کی سربراہی کو کور کمانڈر کے مساوی حیثیت دے کر جنرل فیض حمید کے لیے آرمی چیف بننے کا راستہ نکالا جائے، تاہم جنرل قمر باجوہ نے واضح کیا کہ فوجی روایات کے تحت کم از کم ایک سال کور کمانڈر رہنے کے بغیر آرمی چیف نہیں بنا جا سکتا۔
جاوید چوہدری کے بقول، عمران خان نے اس مقصد کے لیے قانون میں ترمیم کی تجویز بھی دی، لیکن جنرل باجوہ نے اسے مسترد کر دیا۔انہوں نے بتایا کہ جنرل قمر باجوہ نے ایک ملاقات میں عمران خان کو خبردار کیا تھا کہ تحریک انصاف ان کے ہاتھ سے نکل رہی ہے، مگر عمران کا خیال تھا کہ وہ 26 سال سے سیاست کر رہے ہیں اور ان کے حامی انہیں چھوڑ کر کہیں نہیں جائیں گے۔ جاوید کے مطابق جنرل باجوہ نے جواب دیا کہ فوج بھی 75 سال سے سیاسی معاملات دیکھ رہی ہے اور اپنے تجربے کی بنیاد پر آپ کو بتایا جا رہا ہے کہ پارٹی آپ کے ہاتھ سے نکل چکی ہے۔ ان کے بقول، بعدازاں اتحادی جماعتوں کی علیحدگی اور ایم کیو ایم کے حکومتی اتحاد سے نکلنے کے فیصلے نے بھی تحریک انصاف کی سیاسی تنہائی میں اضافہ کیا، جبکہ آصف زرداری نے بھی صورت حال کو بھانپ لیا تھا کہ اب اسٹیبلشمنٹ تحریک انصاف کی پشت پناہی نہیں کر رہی۔
جاوید چوہدری نے کہا کہ جنرل باجوہ کا یہ مؤقف کہ ’’ہم نے عمران خان کی حکومت کو گرایا نہیں، لیکن بچایا بھی نہیں‘‘ کا مطلب یہی تھا کہ اسٹیبلشمنٹ نے عمران کی حکومت بچانے کے لیے مداخلت سے گریز کیا تھا۔ ان کے مطابق، عمران خان اس غیر جانب داری پر ناراض تھے اور چاہتے تھے کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ ان کی حمایت جاری رکھے، حتیٰ کہ جب نواز شریف یا میر شکیل الرحمٰن کے مقدمات میں سہولتیں دی گئیں تو بھی عمران نے اس پر اعتراض کیا۔ جاوید چوہدری کے بقول، اس وقت تحریک انصاف کی عوامی مقبولیت بہت ذیادہ تھی، اس لیے اسٹیبلشمنٹ نے بھی اسے غلطیاں کرنے دیں، جس کے نتیجے میں عمران نے پنجاب اور خیبر پختون خوا کی حکومتیں ختم کیں، اسمبلیوں سے استعفے دیے اور رفتہ رفتہ سیاسی تنہائی کا شکار ہوتے چلے گے۔ اس کا حتمی نتیجہ یہ نکلا کہ اج عمران خان جیل میں ہیں اور ان کی جماعت کی سٹریٹ پاور ختم ہو چکی ہے۔
بشریٰ بی بی کے سیاسی کردار بارے سوال پر جاوید چوہدری نے کہا کہ عمران کی اپنی انا اور ضد بہت زیادہ تھی، جبکہ بشریٰ بی بی ان رویوں کو مزید تقویت دیتی تھیں۔ ان کے مطابق، عمران دوسروں کی بات ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے تھے اور یہی طرزِ عمل ان کے سیاسی زوال کا ایک اہم سبب بنا۔ تاہم، جاوید چوہدری نے واضح کیا کہ تحریک انصاف مکمل طور پر ختم یا کالعدم نہیں ہوگی، کیونکہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کے لیے اس جماعت کا وجود سیاسی طور پر اہم ہے۔ ان کے بقول، اگر تحریک انصاف مکمل طور پر ختم ہو گئی تو مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کو قابو میں رکھنا مشکل ہو سکتا ہے، اس لیے ایک ایسی سیاسی قوت کا برقرار رہنا ضروری سمجھا جاتا ہے جو دونوں جماعتوں پر دباؤ ڈال سکے۔
انہوں نے پیش گوئی کی کہ عمران خان جیل ہی میں رہیں گے، اور ان کی جان کو بھی کوئی خطرہ نہیں ہے۔ جاوید چوہدری کے مطابق، تحریک انصاف ماضی کی طرح مستقبل میں بھی سیاسی غلطیاں دہراتی رہے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ تحریک انصاف کو مکمل طور پر ختم کرنے کے بجائے ایسی حالت میں برقرار رکھے گی جہاں وہ سیاسی منظرنامے سے غائب بھی نہ ہو اور آزادانہ طور پر اسٹیبلشمنٹ کے لیے چیلنج بھی نہ بن سکے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف دراصل فوج کی پیداوار تھی اور جنرل شجاع پاشا اور جنرل اشفاق پرویز کیانی کے ادوار میں اسے منظم کرنے اور آگے بڑھانے میں اسٹیبلشمنٹ کا مرکزی کردار رہا۔ اسی پس منظر کی وجہ سے فوجی اسٹیبلشمنٹ تحریک انصاف کو مکمل طور پر ختم نہیں ہونے دے گی، اور اسے دباؤ میں رکھ کر اپنے سیاسی عزائم کے لیے محفوظ رکھے گی۔
