پاکستان ایران گیس پائپ لائن منصوبے کو آگے کیوں نہیں بڑھا رہا؟

ملک بھر میں 21اپریل کو ہونے والے ضمنی الیکشن کے نتائج نے تحریک انصاف کے نام نہاد مقبولیت اور مظلومیت کے بیانئے کی ہوا نکال دی۔ ضمنی انتخابات کے نتائج نے جہاں پی ٹی آئی کیلئے پریشان کن صورتحال پیدا کر دی ہے وہیں پنجاب میں آنے والے الیکشن نتائج نے ن لیگ کااعتماد بڑھادیا ہے۔ ضمنی الیکشن میں تحریک انصاف کا ووٹر مایوسی کا شکار نظر آیا جس کی وجہ سے پارٹی 8 فروری جیسی کارکردگی نہ دکھا سکی جبکہ تحریک انصاف کے ووٹر کے باہر نہ نکلنے کا فائدہ ن لیگ کو بڑی لیڈ کی صورت میں ہوا۔ پنجاب میں قومی اسمبلی کی 2 اور صوبائی اسمبلی کی 12 نشستوں پر ضمنی الیکشن ہوا، جن میں سے قومی اسمبلی کی دونوں اور صوبائی اسمبلی 9 نشستوں پر نون لیگ کامیاب ہوگئی۔جن میں سے صوبائی اسمبلی کی ایک نشست عام انتخابات میں تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار نے جیتی تھی۔ایک طرف جہاں حکمران جماعت مسلم لیگ ن نے ضمنی انتخابات کے نتائج کو ’کارکردگی کی جیت‘ قرار دیا ہے، وہیں پاکستان تحریک انصاف نے انہیں ’نو فروری کے نتائج کا ری پلے‘ قرار دیتے ہوئے عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔
تاہم ضمنی انتخابات کے نتائج آنے کے بعد حکمران اتحاد نے شفافیت کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ ’پی ٹی آئی کی جانب سے آٹھ فروری کے انتخابات میں دھاندلی کا بیانیہ دفن ہو چکا ہے، کیونکہ مسلم لیگ سمیت تمام حکومتی اتحادی جماعتوں کے امیدواروں نے ضمنی انتخابات میں واضح اکثریت سے کامیابی حاصل کی ہے، جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ حالیہ عام انتخابات بھی شفاف تھے۔ یہ نشستیں جن جماعتوں نے جیت کر خالی کی تھیں وہ واپس جیت لی گئی ہیں۔‘صوبائی وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے ضمنی انتخابات کے نتائج کو ’کارکردگی کی جیت‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’عوام نے پروپیگنڈہ اور جھوٹ کی سیاست کو مسترد کر دیا ہے۔ یہ نواز شریف پر اعتماد ہے۔‘تحریک انصاف ختم ہو چکی اور دھاندلی کا رونا شروع ہو گیا ہے۔‘
تاہم پی ٹی آئی کے رہنما شوکت بسرا نے ’ضمنی الیکشن میں عام انتخابات سے زیادہ دھاندلی‘ کا الزام عائد کرتے ہوئے حکمران جماعت کو چیلنج دیا کہ ’الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے ذریعے وہ ملک کے کسی بھی حلقے میں الیکشن کروائیں اور جیت کر دکھائیں۔‘شوکت بسرا کے مطابق ’جس طرح آٹھ فروری کے بجائے نو فروری کو اسٹیبشلمنٹ اور الیکشن کمیشن کی مدد سے پی ڈی ایم جماعتوں کے امیدوار دھاندلی سے کامیاب ہوئے، ضمنی الیکشن میں بھی وہی ری پلے تھا۔ یہ بتائیں ڈیڑھ ماہ میں ایسا کون سا جادو ہوا کہ یہ دوبارہ کامیاب قرار پائے۔ فرق صرف یہ ہے پہلے فارم 47 کے ذریعے انہیں جتوایا گیا، اس بار پولنگ ایجنٹس کو نکال کر فارم 45 ہی جعلی بنائے گئے۔‘ نون لیگ کو ووٹ ووٹرز نے نہیں بلکہ انتطامیہ نے ڈالے ہیں۔ہمیں پہلے بھی دھاندلی سے ہرایا گیا اس بار بھی نظام نے ہماری جیت شکست میں بدلی ہے۔‘
اسی طرح پی ٹی آئی رہنما شعیب شاہین نے ضمنی الیکشن کو ’نو فروری کے نتائج کا ری پلے‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی جماعت نے دھاندلی کے خلاف جمعے کو احتجاج کی کال دے رکھی ہے جبکہ انتخابی نتائج کو عدالت میں چیلنج کرنے کی بھی تیاری کی جا رہی ہے۔
سیاسی جماعتوں کے بیانات تو ایک طرف لیکن سیاسی تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ ضمنی الیکشن میں پی ٹی آئی کی شکست میں ’قیادت کے فقدان‘ کا پہلو واضح ہے۔تجزیہ کار سلمان غنی کے بقول: ’جہاں بھی حکومتی امیدوار کامیاب ہوئے ہیں وہ نشستیں پہلے سے ہی ان ہی جماعتوں نے جیتی تھیں۔ اس لیے دوبارہ کامیابی پر ویسے تو سوال غیر موثر ہے، البتہ یہ بات ضرور ہے کہ ہمارے نظام کی خامیوں سے انتخابی شفافیت پر ہر ہارنے والا سوال ضرور اٹھاتا ہے۔‘ انہوں نے مزید کہا: ’پی ٹی آئی کی شکست میں سب سے بڑی وجہ وہ خود ہیں کیونکہ انہوں نے پہلے کی طرح ضمنی الیکشن میں بھی ٹکٹوں کی تقسیم پر تنازعات کھڑے کروا لیے۔ جس کی وجہ سے متعلقہ حلقوں میں ووٹ تقسیم ہو گیا جس کا خمیازہ ۔تحریک انصاف کو انتخابی شکست کی صورت میں بھگتنا پڑا
سلمان غنی کے مطابق: ’عام انتخابات کی طرح ضمنی میں بھی قیادت کا فقدان رہا۔ کہیں متحرک مہم دکھائی دی، نہ ہی کوئی اہم رہنما کسی حلقے میں ووٹرز کو متحرک کرتا دکھائی دیا۔ مرکزی قیادت کی ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی سے بھی ووٹرز مایوس ہوئے۔ امیدوار اپنے طور پر ہی مہم چلاتے رہے۔ اس کے علاوہ اس بار عام انتخابات کے نتائج دیکھ کر مسلم لیگ ن کا ووٹر زیادہ نکلا جبکہ پی ٹی آئی کا ووٹر مایوسی کی وجہ سے زیادہ نہیں نکلا۔‘بقول سلمان غنی: ’جس طرح آٹھ فروری کو مسلم لیگ ن کے ووٹرز کم
نکلنے پر انہیں متوقع نتائج نہیں ملے اس بار پی ٹی آئی کے ساتھ وہی ہوا۔‘
