وقت بدلنے کے ساتھ ساتھ عوام کے پہناوئوں میں بھی جدت آگئی

پہناوا ہمیشہ وہی اچھا ہوتا ہے جو انسان کی شخصیت کی ترجمانی کرے اور پہننے میں آرام دہ ہو، لباس پہننے سے چہرے پر اطمینان ہونا چاہئے نہ کے بے آرامی، اور گھٹن کا احساس نمایاں ہو۔انڈیپینڈنٹ اردو کے صحافی حسنین جمال نے اس حوالے سے بتایا کہ ہمیں بچپن میں ایک کہاوت بار بار سنائی جاتی تھی کہ کھاؤ من بھاتا اور پہنو جگ بھاتا، یعنی کھانا اپنی مرضی کا اور کپڑے وہ پہننا جو دوسرے بتائیں کہ آپ کو سجتے ہیں، باتیں دونوں غلط ہیں لیکن ابھی دوسری والی پہ فوکس رکھتے ہیں۔آپ نے کسی پارٹی میں جانا ہے، ادھر لوگوں سے ملنا ہے، بات چیت کرنی ہے، اٹھنا بیٹھنا ہے، تھوڑا سا کچھ کھانا بھی ہے لیکن آپ نے کچھ ایسا پہن لیا کہ جس میں حرکت کرنا بھی مشکل ہو ۔۔۔ ایسا کیوں ہوا؟ کیوںکہ آپ کو بتایا گیا ہے کہ اچھی فٹنگ میں آپ نے سمارٹ اور خوبصورت دکھنا ہے، اس لیے جو مرضی ہو جائے پارٹی کا مطلب ہے وہ لباس جو اپنی سلائی، فٹنگ اور اکڑاؤ کی وجہ سے آپ کو لکڑی کی طرح سیدھا رکھے، یا پھر وہ کپڑے کہ جن میں سانس لینا بھی مشکل ہو اور جنہیں گھر آ کے آپ اتاریں اور دل کرے کہ گھما کر دور پھینکیں۔لباس آرام دہ ہے، آپ کی طبیعت کا ہے، مرضی سے پہنا ہے، خود آئینہ دیکھ کر اچھا لگ رہا ہے تو آپ میں وہ اعتماد آتا ہے جو لوگوں میں گھلنے ملنے کے لیے ضروری ہے۔ جب پہلا قدم ہی غلط اٹھا لیا تو آگے کوئی بہت بڑا فنکار ہو گا جو اسے نبھا جائے ورنہ لوگوں میں پاؤں رکھتے ہی سب سے پہلے خود کو اپنے کپڑوں کے ٹھیک ہونے کی ٹینشن شروع ہو جائے گی۔حسنین جمال کے مطابق مہنگائی بہت زیادہ ہو چکی ہے، عام ترین پارٹی ویئر اتنے پیسوں میں آتا ہے کہ ہم جیسے لوگ اسے پہن کے کھانے پینے سے پہلے کئی مرتبہ سوچتے ہیں اور نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ گھر واپس آ کر دوسری شفٹ لگائی جاتی ہے تاکہ اس تکلف کی مار سے بچا جا سکے جس کی وجہ سے بھوکے پیٹ آنا پڑا۔کیا صاف ستھرے استری شدہ عام کپڑے پہن کر کسی فنکشن میں نہیں جایا سکتا؟ کیا دو تین جوڑوں کو صرف کسی فنکشن کے لیے الگ سے نہیں رکھا جا سکتا؟ ایسے کپڑے جو آرام دہ ہوں اور اپنی جیب کے مطابق ہوں؟حسنین جمال نے کہا کہ سوٹ پہنا ہے تو ٹائی ضرور لگائیں، ٹائی پہنی ہے تو گلا گھونٹ لیں، سب سے اوپر والا بٹن ضرور لگائیں، آستین آدھے بازو کی نہ ہو، پتلون کا پائنچہ زیادہ نیچے یا اوپر نہ ہو، پائنچے کی چوڑائی اتنی ہو، موزے ایسے ہوں، جوتے ویسے ہوں ۔۔۔ یہ سب چیزیں کیوں کروں؟ اس لیے کہ دوسروں کو اچھی لگ رہی ہیں؟ دوسروں کو ایک نارمل فٹنگ کا سوٹ، جس کے اندر بینڈ گول گلے والی قمیص ہو، کوئی ٹائی نہ ہو، موزے نہ ہوں، آرام دہ کالے جوتے ہوں، یہ آخر اچھا کیوں نہیں لگ سکتا؟دفتری مجبوری ہے تب بھی کوٹ اتار کر آستینیں چڑھانے سے تو کوئی کبھی منع نہیں کرتا، پھر کیوں انسان اتنا جکڑا یا کسا ہوا رہے؟ بڑی مشکل سے پچھلے چار پانچ سال میں شلوار قمیض دوبارہ پارٹی ویئر کا رتبہ حاصل کر پائی ہے، جوتے ایسی چیز ہیں جہاں دنیا جہان کی بے زاری کا جنم ہوتا ہے۔ ہمیں سکھایا گیا کہ سخت لیدر سول والے جوتے خوبصورت لگتے ہیں ۔۔۔ بھائی وہ ایک گھنٹے کے لیے ہوتے ہیں، جس نے دن بھر چلنا ہے وہ کیوں پہنے آخر چار قسم کے لیدر جوتے؟ربر سول والا صاف ستھرا مناسب رینج کا جوتا، جس کے اندر ایکسٹرا فوم رکھوایا ہو، مارکیٹ میں عزت کا درجہ کیوں نہیں پا سکتا؟ پشاوری چپل تک آپ ایسی پہنتے ہیں جو بفضل خدا فرش جتنی سخت ہوتی ہے، اس میں جوگر قسم کا آرام دہ سول آج تک کیوں نہیں آ سکا سوائے ایک آدھے برانڈ کے؟جوتے، بنیان اور انڈروئیر آرام دہ ہونے کا اطمینان آپ کے چہرے پہ نظر آئے گا، ایک الگ سکون ہو گا، آزما کر دیکھ لیں۔آخری اور سب سے اہم بات یہ کہ ڈریس ڈیزائنر علیحدہ ہوتا ہے، گرومنگ انسٹرکٹر بالکل الگ چیز ہے، فیس بک پہ چلتے پھرتے آپ جو کچھ دیکھتے ہیں اسے دماغ پہ طاری نہ کریں۔ پرسنیلٹی تب بنے گی جب اپنی مرضی کی چیز آپ پہنیں گے اور اس میں آرام سے اٹھنے بیٹھنے کے قابل ہوں گے، کسی کو دیکھ کر، سن کے، زبردستی میں جو چیز خود پر مسلط کریں گے، یقین کریں وہ پوری زندگی بے آرامی کے
علاوہ کچھ نہیں دے گی۔
