اسحاق ڈار نے ARY سے دو کروڑ جرمانہ جیت کر عطیہ کردیا

مسلم لیگ نون کے سینیٹر اور سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے لندن میں اے آر وائے ٹی وی کے خلاف ہتک عزت کا کیس جیتنے کے بعد حاصل ہونے والی دو کروڑ روپوں سے زائد جرمانے کی رقم خیراتی ادارے شریف ٹرسٹ کو عطیہ کردی ہے جس سے مستحق غریبوں کا مفت علاج کیا جائے گا۔ یاد رہے کہ

اسحاق ڈار نے اے آر وائی کے یوکے براڈکاسٹر این وی ٹی وی کے خلاف برطانیہ کی ہائیکورٹ سے ہتک عزت کا کیس جیتا تھا

جس کے نتیجے میں اے آر وائی کو بھاری جرمانہ عائد کیا گیا تھا۔

اسحاق ڈار کو جرمانے کی صورت میں 85000 برطانوی پاؤنڈز یعنی 2 کروڑ دس لاکھ روپے ملے ہیں۔ یہ جرمانہ اے آر وائی کے برطانوی نشریاتی ادارے این وی ٹی وی نے ادا کیے ہیں جو کہ سلمان اقبال کی ملکیت ہے۔ اسحاق ڈار کے وکلا نے تصدیق کی کہ ہتک عزت کے مقدمے میں انکی نمائندگی کرنے والی قانونی ٹیم کو قانونی فیس ادا کرنے کے بعد اسحاق ڈار نے ہرجانے کی وصولی شریف ٹرسٹ کو عطیہ کردی ہے۔

اسحاق ڈار نے بھی تصدیق کی ہے کہ انہوں نے شریف ٹرسٹ کو ہتک عزت کے دعوے کی رقم عطیہ کر دی ہے۔ انہوں نے یہ عطیہ ان غریب لوگوں کے علاج کے لیے دیا ہے جو شریف میڈیکل سٹی اسپتال لاہور سے طبی سہولیات حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ان کا عملہ شریف ٹرسٹ کے لوگوں سے رابطہ کرے گا۔ اسحاق ڈارمکامکہنا ہے کہ عطیہ شدہ رقم کو شریف میڈیکل سٹی اسپتال کے ذریعے صرف مستحق غریب لوگوں کے علاج کے لیے استعمال کیا جائے۔

اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ انہوں نے ہتک عزت کا مقدمہ شروع کرتے وقت اس بات پر زور دیا تھا کہ انہیں کسی ٹی وی چینل کے خلاف قانونی مقدمہ سے پیسہ کمانے میں کسی قسم کی کوئی دلچسپی نہیں لیکن انکا مقصد یو کے ہائیکورٹ میں اے آر وائے کے جھوٹے بیانیے کے خلاف کیس جیتنا اور ریکارڈ درست کرنا تھا۔ یاد رہے کہ اے آر وائے نے اسحاق ڈار پر منی لانڈرنگ، کرپشن اور سرکاری عہدے کے غلط استعمال کے بے بنیاد الزامات عائد کیے تھے۔

اے آر وائی نیوز کے پروگراموں ’رپورٹرز‘ اور ’پاور پلے‘ میں کرپشن، اختیارات کا ناجائز استعمال اور ایک خاتون کو دھمکیاں دینے کے الزامات کے خلاف اسحاق ڈار نے لندن ہائی کورٹ سے ہتک عزت اور ذاتی زندگی میں غیرقانونی مداخلت کی بنیاد پر رجوع کیا تھا۔ نیو ویژن ٹی وی نے عدالت میں اعتراف کیا کہ ان کے پروگراموں میں نشر ہونے والے الزامات ’بے بنیاد‘ تھے۔ اسحاق ڈار سے تحریری معذرت میں کہا گیا ہے کہ ’نیو ویژن ٹیلی ویژن پر آٹھ جولائی 2019 کو دی رپورٹرز پروگرام نشر ہوا۔ جس میں چوہدری غلام حسین اور صابر شاکر نے دعویٰ کیا کہ اسحاق ڈار نے حکومت پاکستان کا پیسہ چرایا اور وہ پاکستان واپس آنے کی اجازت پر چرائی ہوئی رقم واپس کرنے پر آمادہ تھے۔

پروگرام میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا تھا کہ اسحاق ڈار کے بینک اکاؤنٹس کا سراغ لگا لیا گیا ہے۔ جن میں چرائے گئے لگ بھگ ایک ارب ڈالر موجود ہیں۔ پروگرام میں دعویٰ کیا گیا کہ اسحاق ڈار نے کسی کو موت کی دھمکیاں دلوائیں تاکہ وہ فرد پاکستان سے باہر چلا جائے۔‘ معذرت میں کہا گیا ہے کہ ’اول یہ کہ اسحاق ڈار نے حکومت پاکستان کا کوئی پیسہ نہیں چرایا۔ دوئم یہ کہ اسحاق ڈار کے کسی بینک اکاؤنٹ کا سراغ نہیں ملا۔ نتیجتاً پیسے چرانے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ سوئم یہ کہ اسحاق ڈار کی جانب سے پاکستان واپسی کی اجازت ملنے کی شرط پر پیسہ واپس کرنے کا دعویٰ جھوٹا اور من گھڑت ہے۔ اور چہارم یہ کہ اسحاق ڈار نے کسی فرد کو موت کی دھمکیاں نہیں دیں۔‘

اے آر وائے کے خلاف کیس جیتنے کے بعد اسحق ڈار نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے کہا کہ اے آر وائی کے این وی ٹی وی نے برطانیہ میں اعلانیہ ان سے معافی مانگی ہے اور تمام الزامات کو غیر مشروط طور پر واپس لیا ہے۔ اسکے علاوہ عمران خان اور ان کی تحریک انصاف کے لیے نرم گوشہ رکھنے والے ٹی وی چینل نے لندن ہائیکورٹ کو حلف دیا ہے کہ وہ ان الزامات میں سے کسی کو نہیں دہرائے گا ورنہ اس پر مزید بھاری جرمانہ عائد کردیا جائے گا۔

واضح رہے کہ اے آر وائی کے خلاف ماضی میں جنگ گروپ کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمٰن، جے ایس بینک، ملالہ یوسفزئی کے والد ضیا الدین یوسفزئی، ناصر بٹ اور معروف صنعت کار میاں محمد منشا بھی کیسز جیت چکے ہیں۔ تمام اے آر وائے ٹی وی اپنی جھوٹی خبریں چلانے کی روش سے باز نہیں آتا۔

Ishaq Dar donated Rs. 20 million from ARY video

Related Articles

Back to top button