بھارتی لڑکا جہاز گرانے کے لیے پاکستانی فاز میزائل تیار

پاکستان نے اپنے پہلے مقامی طور پر تیار کردہ فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائل ’’فاز‘‘ کا کامیاب تجربہ کر لیا ہے، جس کا بنیادی مقصد بھارتی فضائیہ کے جدید لڑاکا طیاروں کو طویل فاصلے سے نشانہ بنانے کی صلاحیت حاصل کرنا اور پاکستان کو غیر ملکی فضائی ہتھیاروں پر انحصار سے نجات دلانا ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق یہ میزائل پاکستان اور بھارت کے درمیان فضائی جنگی صلاحیتوں کی دوڑ میں اہم پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب بھارت کے رافیل طیارے یورپی ساختہ میٹیور میزائلوں سے لیس ہیں اور نئی دہلی طویل فاصلے تک مار کرنے والے جدید میزائلوں کی تیاری پر بھی کام کر رہا ہے۔ اسکے علاوہ بھارت اپنے آسترا میزائل پروگرام کو بھی وسعت دے رہا ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق 2019 کے فضائی تصادم اور گزشتہ برس مئی میں دونوں ملکوں کے درمیان فوجی کشیدگی کے بعد طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے لہذا اسوقت پاکستان کا فوکس میزائل ٹیکنالوجی کی صلاحیت کو مزید بہتر کرنا ہے۔
پاکستان فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ کے مطابق فاز پاکستان کا پہلا مقامی طور پر تیار کردہ ایئر ٹو ایئر میزائل ہے، جسے 3 نومبر کو کامیابی سے آزمایا گیا۔ یہ جدید ٹرمینل گائیڈینس سسٹم سے لیس ہے اور طویل فاصلے پر دشمن کے فضائی اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کی اہمیت صرف ایک نئے میزائل کی تیاری نہیں بلکہ پاکستان کی دفاعی صنعت میں جدید ٹیکنالوجی، تحقیق اور خود انحصاری کی صلاحیت پیدا کرنا بھی ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق فاز میزائل پائلٹ کی براہِ راست نظر سے باہر موجود دشمن کے طیارے کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے۔ اس کے دو بنیادی ورژن تیار کیے گئے ہیں، اس کی مار کرنے کی حد تقریباً 100 کلومیٹر ہے، جبکہ فاز کے مستقبل کے ورژن کی رینج 180 کلومیٹر یا اس سے بھی زیادہ ہونے کا امکان ہے۔ حالیہ کامیاب تجربے میں استعمال کیا گیا فاز میزائل دشمن کے طیارے سے خارج ہونے والی حرارت کی محض نشاندہی کرنے کے بجائے اس کی مکمل تھرمل تصویر بناتا ہے، جسکے باعث اسے فلیئرز سے گمراہ کرنا نسبتاً مشکل ہو سکتا ہے۔ اس میزائل کا ایک ورژن تقریباً 40 سے 45 کلومیٹر کے فاصلے پر ہدف کی شناخت کر سکتا ہے، جبکہ دوسرے ورژن میں نصب ریڈار تقریباً 20 سے 25 کلومیٹر کے فاصلے پر خود ہدف تلاش کرکے اسے نشانہ بنا سکتا ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق فاز کی تیاری میں پاکستان نے اپنے سابقہ میزائل پروگرامز کے تجربے سے فائدہ اٹھایا ہے، تاہم اسکی اہم ٹیکنالوجی میں مقامی سطح پر پیش رفت کی گئی ہے۔ ایئر ویپنز کمپلیکس میں تجربات کے بعد اس میزائل کو زمین سے فضا میں مار کرنے والے نظام میں تبدیل کرنا ممکن ہوا ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان مستقبل میں فاز ٹو پر بھی کام کر رہا ہے، جس کی متوقع رینج 180 کلومیٹر سے زیادہ ہو سکتی ہے۔ فاز کی تیاری پاکستان فضائیہ کے لیے اس لیے بھی اہم ہے کہ اس وقت اس کے ایف 16 طیارے امریکی اے آئی ایم 120 جبکہ جے ایف 17 اور جے 10 طیارے چین کے پی ایل سیریز کے میزائل استعمال کرتے ہیں۔ پاکستان کے جدید فضائی ہتھیاروں میں چینی ساختہ پی ایل 15 ای بھی شامل ہے، تاہم مقامی میزائل کی تیاری سے پاکستان کو اپنے لڑاکا طیاروں کے ہتھیاروں کے انتخاب، ان میں تبدیلی اور انضمام پر زیادہ کنٹرول حاصل ہوگا۔ دفاعی ماہرین کے مطابق جے ایف 17 بلاک تھری میں جدید اے ای ایس اے ریڈار کی موجودگی کے پیش نظر مقامی میزائل ٹیکنالوجی کی تیاری بھی اہم ہے تاکہ طیاروں کے ریڈار اور میزائلوں کے درمیان بہتر مطابقت پیدا کی جا سکے۔
تاہم فاز کا موجودہ ورژن صلاحیت کے اعتبار سے پاکستان کے پاس موجود جدید چینی پی ایل 15 میزائل سے پیچھے ہے، اس لیے اس کی اصل اہمیت مستقبل کے جدید میزائلوں کے لیے ٹیکنالوجی کی بنیاد فراہم کرنا ہے۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ فاز کی کامیابی کو محض اس کی موجودہ مار کرنے کی صلاحیت کے تناظر میں نہیں دیکھنا چاہیے بلکہ یہ پاکستان کے لیے راکٹ موٹر، گائیڈنس اور سیکر ٹیکنالوجی میں خود انحصاری کی جانب اہم قدم ہے۔ اس منصوبے سے مستقبل میں زیادہ فاصلے تک مار کرنے والے فضائی اور زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل تیار کرنے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ تاہم ابھی یہ واضح نہیں کیا گیا کہ فاز کو پاکستان فضائیہ کے کن لڑاکا طیاروں پر نصب کیا جائے گا اور اسے باقاعدہ طور پر فضائی بیڑے میں شامل کیا گیا ہے یا نہیں۔
