اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی چھٹی پکی کیوں ہو گئی؟

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کا طویل اقتدار ختم ہونے جا رہا ہے کیونکہ 19 رکنی عرب اتحاد نے ان کے مخالف اپوزیشن رہنما اور سابق آرمی چیف گادی آئزن کوٹ کی حمایت کرکے انہیں وزیراعظم بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ عرب جماعتوں کی حمایت اور نیتن یاہو کے اتحادیوں کی جانب سے ساتھ چھوڑنے کے بعد آئزن کوٹ کو اسرائیلی پارلیمنٹ کے 120 میں سے 67 ارکان کی حمایت حاصل ہو گئی ہے، جبکہ حکومت بنانے کے لیے 61 ارکان کی اکثریت درکار ہے۔
اس پیش رفت نے اسرائیل میں اقتدار کی تبدیلی کی راہ ہموار کردی ہے، تاہم نیتن یاہو کی وزارت عظمیٰ کا خاتمہ ابھی باضابطہ طور پر نہیں ہوا۔ اسرائیل میں حالیہ الیکشن کے بعد حکومت سازی کے لیے سیاسی جماعتوں کے درمیان جوڑ توڑ جاری ہے اور نیتن یاہو کے اہم اتحادی یونائیٹڈ توراہ جوڈ ازم نے حیران کن طور پر اب انکی حمایت سے انکار کردیا ہے۔ دوسری جانب اپوزیشن جماعت یشار نے عرب جماعتوں کی حمایت ملنے کے بعد نیتن یاہو کی جانب سے مل کر حکومت بنانے کی پیشکش مسترد کردی ہے اور اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ سے مطالبہ کیا ہے کہ گادی آئزن کوٹ کو حکومت بنانے کا باضابطہ مینڈیٹ دیا جائے۔ اپوزیشن کا مؤقف ہے کہ موجودہ پارلیمانی صورت حال میں آئزن کوٹ کے پاس حکومت تشکیل دینے کے لیے مطلوبہ حمایت موجود ہے۔
ادھر عرب جماعتوں کے اتحاد جوائنٹ لسٹ کے سربراہ یوسف جبارین نے صدر ہرزوگ سے ملاقات کے دوران آئزن کوٹ کی حمایت کا اعلان کیا۔ جوائنٹ لسٹ کے پاس پارلیمنٹ کی 11 نشستیں ہیں، جبکہ رعام پارٹی کے سربراہ منصور عباس نے بھی نیتن یاہو کو اقتدار سے باہر رکھنے کے لیے اپوزیشن امیدوار کی حمایت کا فیصلہ کیا ہے۔ رعام پارٹی کی پارلیمنٹ میں 8 نشستیں ہیں۔ اس طرح دونوں عرب جماعتوں کی مجموعی 19 نشستوں کی حمایت نے حکومت سازی کے پارلیمانی حساب کتاب کو تبدیل کردیا ہے، تاہم جوائنٹ لسٹ نے واضح کیا ہے کہ وہ نئی حکومت میں شامل نہیں ہوگی، جبکہ رعام پارٹی کی حکومتی اتحاد میں شمولیت کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ گادی آئزن کوٹ اسرائیل کے سابق آرمی چیف ہیں اور نیتن یاہو کے مخالف اپوزیشن رہنما کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ عرب جماعتوں کی حمایت کے بعد انہیں مجموعی طور پر 67 ارکان کی حمایت حاصل ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، جو حکومت بنانے کے لیے درکار اکثریت سے چھ نشستیں زیادہ ہے۔ تاہم سیاسی مبصرین کے مطابق کسی امیدوار کے حق میں ارکان کی حمایت کی سفارشات اور عملی طور پر ایک مستحکم حکومتی اتحاد تشکیل دینا دو مختلف معاملات ہیں۔
آئزن کوٹ کو عرب جماعتوں کے ساتھ بعض سیاسی اور نظریاتی اختلافات کے باوجود حکومت سازی کے لیے مشترکہ لائحہ عمل طے کرنا ہوگا۔ نیتن یاہو نے عرب جماعتوں کی جانب سے آئزن کوٹ کی حمایت پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ دہشت گردی کی حمایت کرنے والی اسلامی جماعتیں اسرائیل کے لیے اندرونی خطرہ ہیں اور ایسی جماعتوں پر انحصار کرنے والی کوئی بھی حکومت ملک کے تحفظ کی ضمانت نہیں دے سکتی۔ ان کے اس بیان کو عرب جماعتوں کے سیاسی کردار اور اسرائیلی حکومت سازی میں ان کی حمایت کے خلاف ایک واضح سیاسی مؤقف قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب اپوزیشن کا کہنا ہے کہ حکومت سازی کا فیصلہ پارلیمانی اکثریت اور جمہوری عمل کے تحت ہونا چاہیے۔ اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ نے نئی حکومت کی تشکیل کے لیے مختلف جماعتوں کے رہنماؤں سے مشاورت کی ہے اور آئزن کوٹ کو حکومت بنانے کا مینڈیٹ دینے کے معاملے پر غور جاری ہے۔ صدر ہرزوگ نے اس موقع پر امریکا کے ساتھ تعلقات کو اسرائیل کے لیے انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے اسرائیل کے لیے امریکی امداد میں کمی کے اعلان پر تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ خبر ان کے لیے بجلی بن کر گری ہے، تاہم امریکا اور اسرائیل کے درمیان موجودہ فوجی امداد کا معاہدہ 2028ء تک نافذ العمل ہے۔
اسرائیلی سیاست میں اس تبدیلی کی ایک اہم وجہ نیتن یاہو کے اتحادیوں کی حمایت میں کمی اور اپوزیشن جماعتوں کی مشترکہ حکمت عملی بھی ہے۔ عرب جماعتوں کی جانب سے پہلی مرتبہ اس نوعیت کی پارلیمانی حمایت نے اسرائیل میں حکومت سازی کے روایتی سیاسی اتحادوں کو نئے چیلنج سے دوچار کردیا ہے۔ اگر آئزن کوٹ 67 ارکان کی حمایت کو عملی حکومتی اتحاد میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہوگئے تو نیتن یاہو کی طویل سیاسی حکمرانی ختم ہو جائے گی۔
تاہم ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ نیتن یاہو کی وزارت عظمیٰ باضابطہ طور پر ختم ہوگئی ہے، کیونکہ اسرائیلی آئینی طریقہ کار کے تحت صدر کی جانب سے حکومت سازی کا مینڈیٹ ملنے اور نئی حکومت کے لیے کنیسٹ میں مطلوبہ اکثریت ثابت کرنے کا مرحلہ باقی ہے۔ اگر آئزن کوٹ مطلوبہ حمایت برقرار رکھنے اور نئی حکومت تشکیل دینے میں کامیاب ہوگئے تو اسرائیل میں اقتدار کی تبدیلی عمل میں آجائے گی، بصورت دیگر سیاسی تعطل برقرار رہ سکتا ہے اور ملک کو دوبارہ انتخابات کی طرف جانا پڑ سکتا ہے۔ اس وقت اسرائیلی سیاست کا سب سے اہم سوال یہی ہے کہ آیا 19 عرب ارکان کی حمایت نیتن یاہو کے اقتدار کے خاتمے اور ایک نئی حکومت کے قیام کا سبب بن سکے گی۔
