6 ماہ میں پٹرول 250 سے 300 روپے فی لیٹر ہونے کا امکان

باخبر ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ اگلے چھ ماہ میں پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں 250 روپے سے 300 روپے تک ہو جانے کا قویٰ امکان ہے۔ حکومتی ذرائع نے تسلیم کیا ہے کہ نئے مالی سال کے بجٹ میں ایندھن پر لیوی کا ہدف 22-2021 کے مقابلے 610 ارب سے بڑھا کر 750 ارب تک کرنے کے بعد مالی سال 23-2022 میں عوام کا روز مرہ کا سفر مزید مہنگا ہونے کا امکان ہے۔ عوام پہلے سے ہی پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں فی لیٹر 60 روپے کے بڑے اضافے کو ہضم کرنے کے کوشش کر رہے ہیں، یاد رہے کہ یہ اضافہ صرف دو ہفتوں کے دوران کیا گیا اور اس کی وجہ سابقہ عمران حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف کے ساتھ کیا جانے والا معاہدہ تھا۔

اداکارہ صاحبہ نے کبھی بیٹی کی خواہش کیوں نہیں کی؟

پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے نے عوام کے زندگی گزارنے کے اخراجات پر اضافی دباؤ ڈالا ہے، شہری خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتوں، بجلی اور گیس کے بڑھتے ہوئے بلوں کی وجہ سے پہلے ہی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ وزارت توانائی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی شرائط کو پورا کرنے کے لیے سابقہ حکومت پیٹرولیم لیوی میں بتدریج اضافہ کرتی رہی، تاہم حکومت نے صارفین کو کچھ ریلیف دینے کے لیے جنرل سیلز ٹیکس کو ختم کر دیا تھا۔ کچھ ماہ قبل پیٹرول کی قیمتیں 150 روپے سے 160 روپے تک تھیں لیکن عمران حکومت نے خود کو خطرے میں محسوس کرتے ہوئے عوامی حمایت حاصل کرنے کی خاطر آئی ایم ایف سے کیے گئے معاہدے کےبرعکس پٹرول کی قیمت کو 140 روپے فی لیٹر کر دیا تھا۔ چنانچہ اب نئی حکومت کو اقتدار میں آنے کے بعد آئی ایم ایف سے قرض کی اگلی قسط حاصل کرنے کے لیے عمران حکومت کی جانب سے کیے گئے معاہدے پر عمل کرنا پڑ رہا ہے جس کے نتیجے میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں اگلے چھ ماہ میں 250 روپے سے 300 روپے فی لیٹر تک ہونے کا امکان ہے۔

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت آئی ایم ایف کی شرائط کو پورا کرنے کے لیے پیٹرولیم لیوی میں اضافہ کرنے کے ساتھ آئل مصنوعات پر جنرل سیلز ٹیکس بھی وصول کرنے جا رہی ہے جس کے نتیجے میں پٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہو جائیں گی۔

ذرائع کا خیال ہے کہ اگلے بجٹ کے فوری بعد حکومت کی جانب سے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں فی لیٹر 25 روپے سے 30 روپے تک اضافہ کیے جانے کا امکان ہے لہٰذا پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں آنے والے 6 مہینوں میں 280 روپے سے 300 روپے فی لیٹر تک بڑھنے کے امکانات ہیں۔ یاد رہے کہ جب رواں برس جنوری میں ڈیزل کی قیمت141 روپے 62 پیسے فی لیٹرتھی تو جنرل سیلز ٹیکس 7.31 روپے تھا جبکہ پیٹرول پر لیوی 17روپے 13 پیسے تھا۔ اب ڈیزل کی قیمت 204 روپے 14 پیسے فی لیٹر ہے لیکن اس پر جی ایس ٹی اور پیٹرولیم لیوی مقرر نہیں ہیں۔

یکم جنوری کو جب پیٹرول کی قیمت 144روپے 82 پیسے فی لیٹر تھی تو پیٹرولیم لیوی اور سیلز ٹیکس بالترتیب 17 روپے 62 پیسے اور 3 روپے 53 پیسے فی لیٹر تھا۔ اب پیٹرول کی قیمت 209 روپے 86 پیسے فی لیٹر ہے مگر پیٹرولیم لیوی اور جی ایس ٹی صفر ہیں۔ لہذا جب لیوی اور جی ایس ٹی لگے گا تو پٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہو جائیں گی۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ 23-2022 کا بجٹ، ایندھن پر عائد ٹیکس کے ساتھ ساتھ سبسڈی میں کمی کی وجہ سے مہنگائی کو بڑھا سکتا ہے۔اسکے علاوہ پیٹرولیم لیوی کے ہدف کو پورا کرنے کے لیے حکومت کو تیل کی قیمتوں میں 30 روپے فی لیٹر اضافہ کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ لیوی کی مختص رقم تیل کی قیمتوں کو 250 روپے فی لیٹر تک بڑھانے کے حکومتی ارادے کو ظاہر کرتی ہے۔ معاشی ماہرین نے توقع ظاہر کی کہ سال 23-2022 کے اوسط صارف پرائس انڈیکس میں افراط زر کی شرح 13.5 فیصد تک بڑھ جائے گی۔

تاہم حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ مستقبل میں عالمی منڈیوں میں تیار پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر مضبوط ہونے کی صورت میں حکومت خاطر خواہ اضافہ کرنے کے بجائے کم از کم پیٹرولیم کی قیمتوں کو برقرار رکھ سکے گی۔

Related Articles

Back to top button