پنجاب حکومت کا’اپنا کسان بینک‘ قائم کرنے کا اعلان

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نےاپنا کسان بینک قائم کرنے، زرعی قرضوں پر شرحِ سود میں رعایت اور کسان کارڈ کے ذریعے فی ایکڑ قرض کی رقم بڑھانےسمیت اہم اعلانات کردیئے۔
لاہور میں صوبے بھر سے تعلق رکھنے والے چھوٹے، درمیانے اور بڑے کاشتکاروں کے نمائندوں سے ملاقات کے دوران مریم نواز شریف نے کہا کہ کسان کارڈ کاشتکاروں سے محبت کا ثبوت ہے۔ اس کے ذریعے 10 لاکھ سے زائد چھوٹے کاشتکار مستفید ہو رہے ہیں اور گندم کی بوائی کے لیے انہیں ڈیڑھ سو ارب روپے کے بلاسود قرضے دیے جائیں گے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ پاکستان کی معاشی ترقی کا پہیہ پنجاب کے کاشتکاروں کے بغیر نہیں چل سکتا، پنجاب ملک کی غذائی ضروریات کا 70 فیصد پورا کر رہا ہے۔
وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ پنجاب میں پہلی مرتبہ اپنا کسان بینک قائم کیا جائے گا، جس کے ذریعے کاشتکاروں کو پیوٹ کے ذریعے ایک کروڑ روپے تک قرض بلا سود فراہم کیا جائے گا، جبکہ 3 کروڑ روپے تک قرض پر 2 فیصد اور 5 کروڑ روپے تک قرض پر 5 فیصد شرحِ سود مقرر کرنے کا اعلان کیا گیا۔
مریم نواز شریف نے کسان کارڈ کے ذریعے ڈی اے پی سپورٹ پروگرام شروع کرنے کا بھی اعلان کیا۔ ان کے مطابق کھاد کی قیمتوں میں اضافے کے پیش نظر کسان کارڈ پر فی ایکڑ قرض کی رقم 30 ہزار روپے سے بڑھا کر 33 ہزار 500 روپے کردی گئی ہے، جس سے 10 لاکھ کاشتکار مستفید ہوں گے۔ اس پروگرام کے تحت پنجاب میں 17 ارب روپے کی لاگت سے 50 لاکھ ایکڑ رقبے کو کور کیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ وزیراعظم کی سربراہی میں گندم کی امدادی قیمت 4 ہزار 500 روپے فی من مقرر ہونے پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا۔ گندم کی خریداری کا منصوبہ بھی جلد باقاعدہ طور پر شروع کیا جائے گا، جبکہ ڈیجیٹل طریقہ کار کے تحت خریداری کے لیے آن لائن پورٹل متعارف کرایا جائے گا۔
مریم نواز شریف کا کہنا تھا کہ کسانوں کو کھاد، بیج اور زرعی ادویات کے حصول کے لیے دربدر ہونے سے بچانے کی خاطر کسان کارڈ شروع کیا گیا۔ ان کے بقول حکومت اور کاشتکاروں کے درمیان اعتماد کا رشتہ مضبوط ہے اور کسانوں سے تقریباً 100 فیصد قرضوں کی واپسی ہوئی ہے۔ ڈیجیٹل نظام کے باعث کاشتکاروں کو میرٹ پر قرضے مل رہے ہیں اور درمیانی کردار ادا کرنے والے افراد کی جانب سے کسانوں کو اپنے قابو میں رکھنے کا سلسلہ بھی کم ہوا ہے۔
