پاکستان کا طالبان کے خلاف فضائی حملے کرنے کا فیصلہ

 افغانستان میں طالبان حکومت کی مہمان نوازی کے مزے لوٹنے والی تحریک طالبان پاکستان کے خیبر پختونخوا، بلوچستان اور پنجاب میں بڑھتے ہوئے دہشت گرد حملوں کے بعد اب پاکستانی عسکری حکام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا ہے اور انھوں نے پاک افغان سرحد پر موجود ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں کو پاک فضائیہ کے ذریعے نشانہ بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ پاکستان کا موقف ہے کہ افغان طالبان کسی مسلح تنظیم کو اپنی سرزمین پاکستان یا کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہ دیں جبکہ افغان طالبان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ اس کا اپنا اندرونی مسئلہ ہے۔ یاد رہے اس سے پہلے پاکستان نے افغان طالبان حکومت کے اصرار پر ٹی ٹی پی کے ساتھ امن مذاکرات شروع کیے تھے جو انکے سخت رویے کی وجہ سے ناکام ہوگئے۔

پاکستان میں دہشت گردی کے بڑھتے واقعات کے بعد حالیہ کور کمانڈرز کانفرنس اور اس کے بعد قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں سیکیورٹی کی صورتحال پر اہم فیصلے کیے گئے ہیں اور پاکستانی طالبان کو منہ توڑ جواب دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ عسکری ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ پاک افغان سرحد پر موجود تحریک طالبان کے ٹھکانوں پر فضائی حملہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور سب سے پہلے پہلے افغان صوبے ننگرہار کو ٹارگٹ بنایا جائے گا جہاں پاکستانی طالبان جنگجوؤں کی ایک کثیر تعداد موجود ہے۔ تاہم یہ خدشہ موجود ہے کہ اگر پاکستان افغانستان کی سرزمین پر فضائی حملے کرتا ہے تو اس سے دونوں ملکوں کے مابین پہلے سے کشیدہ تعلقات اور بھی خراب ہو جائیں گے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان حالات کشیدہ ہیں اور ان کے تعلقات نے بدتر شکل اختیار کر لی ہے۔ سینیئر صحافی اور تجزیہ کار سمیع یوسفزئی کا کہنا ہے کہ اگرچہ پاکستان کو اس وقت اپنی ہی پالیسیوں کا رد عمل دیکھنے کو مل رہا ہے لیکن صورتحال یہ ہے کہ افغان طالبان کے پاس کوئی باقاعدہ منظم فوج نہیں ہے۔ انہوں نے طاقت کے ذریعے حکومت پر قبضہ کیا تھا۔ پاکستان کو اس صورتحال کو مختلف طریقے سے دیکھنے کی ضرورت ہے اور اسی تناظر میں پاکستان کو ان سے بات کرنا ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’افغان طالبان اپنے ملک کے اندر اپنے لوگوں پر رحم نہیں کرتے جہاں خواتین کے ساتھ بد سلوکی کی جاتی ہے، اپنے لوگوں کو مارا جاتا ہے، تو ایسے میں ان کا رویہ پڑوسی ممالک کے ساتھ کیسا ہوگا۔‘

کچھ دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دراصل افغان طالبان پاکستانی طالبان کو اسکام آباد پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ افغان طالبان کو دنیا میں تسلیم نہیں کیا گیا اور ان کے لیے مشکلات بڑھتی جا رہی ہیں۔ ماضی کے برعکس اس مرتبہ پاکستان نے بھی انھیں تسلیم نہیں کیا جس وجہ سے افغان طالبان کو بھی مایوسی ہوئی ہے۔ دفاعی امور کے ماہر اور تجزیہ کار بریگیڈیئر ریٹائرڈ محمود شاہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کو افغانستان سے بات کرنی چاہیے تھی اور ان سے کہنا چاہیے کہ وہ ٹی ٹی پی کی افغانستان کی پناہ گاہوں کو ختم کرے اور ان تمام عناصر کو پاکستان کے حوالے کرے۔ ان کا خیال ہے کہ پاکستان کو ٹی ٹی پی کے ساتھ مزاکرات کی ضرورت ہی نہیں تھی اور نہ ہی ’پاکستان کا آئین اس کی اجازت دیتا ہے کہ حکومت کی جرائم پیشہ گروپ کے ساتھ مزاکرات کرے۔‘

بظاہر پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑی کشیدگی کی وجہ تحریک طالبان کے بڑھتے ہوئے حملے ہیں۔ ماضی میں بھی جب افغانستان میں حامد کرزئی اور پھر اشرف غنی کی حکومت قائم تھی، ان دنوں بھی پاکستان کی جانب سے بار بار یہی کہا جاتا رہا ہے کہ پاکستان میں حملوں کے لیے افغانستان کی سرزمین استعمال ہو رہی ہے اور یہ کہ حملہ آور افغانستان سے آکر پاکستان میں حملے کرتے ہیں۔ پاکستان میں حکام نے آرمی پبلک سکول پر حملہ اور دیگر بڑے حملوں کے بارے میں بھی یہی کہا تھا کہ حملہ آور افغانستان سے آئے تھے۔ اس کے برعکس افغانستان کا کہنا تھا کہ حملہ آور پاکستان کے اندر ہی موجود ہیں۔

سمیع یوسفزئی کا کہنا ہے کہ گزشتہ چالیس سال سے دونوں ممالک کے درمیان جو سلسلہ جاری تھا اب اس وقت صورتحال اس کے بالکل مختلف ہو گئی ہے۔ افغانستان پر جب روس حملہ آور ہوا تو اس کے بعد سے پاکستان سے لوگ جا کر افغانستان میں لڑتے رہے اور ان کے بقول یہ سلسلہ اس کے بعد بھی جاری رہا۔ افغانستان مسلسل یہ الزام عائد کرتا رہا ہے کہ پاکستان سے لوگ آکر افغانستان میں کارروائیاں کرتے ہیں لیکن پاکستان اس کی تردید کرتا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب صورتحال الٹ ہو گئی ہے۔ انکا کہنا ہے کہ پاکستان گزشتہ ایک سال سے اندرونی طور پر بدقسمتی سے سیاسی عدم استحکام کا شکار ہے جس وجہ سے ملکی پالیسی خاص طور پر بین الاقوامی سطح پر پالیسی متاثر ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ طالبان کے ساتھ تعلقات ویسے نہیں تھے جیسے ہونے چاہییں اور جب حالات خراب ہو جاتے ہیں تو ایسی صورتحال میں ایسی قوتیں بھی کام شروع کر دیتی ہیں جو ملک کے اندر حالات خراب کرنا چا ہتی ہیں۔

افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے لیے افغان طالبان کے ساتھ امریکہ نے دوہا میں مزاکرات شروع کیے تھے جس میں دیگر شرائط کے ساتھ ایک شق یہ بھی تھی کہ افغانستان میں کسی میں تنظیم یا انفرادی طور کسی کو افغانستان کی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف دہشت گردی یا تشدد کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔ اس میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ افغان طالبان القاعدہ اور دیگر شدت پسند تنظیموں کے خلاف کارروائیاں کریں گے تاکہ ان کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے۔گزشتہ سال اگست میں افغان طالبان طاقت کے بل بوتے پر اقتدار میں آئے اور حکومت کا کنٹرول سنبھالا۔ افغان طالبان کے اس طرح کابل پہنچنے پر پاکستان پر الزام بھی عائد کیے جاتے رہے کہ ان طالبان کو پاکستان کی حمایت حاصل تھی۔

اس کے باوجود افغان طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد بھی پاک افغان سرحد پر حالات کشیدہ رہے اور مختلف مقامات پر سرحد پر باڑ کو اکھاڑ دیا گیا تھا اور اس کے علاوہ مختلف اوقات میں سرحد پار سے پاکستان کے مختلف علاقوں پر حملے بھی کیے جاتے رہے۔ افغان طالبان نے اس دوران پاکستان اور ٹی ٹی پی کے درمیان مصالحت کی کوششیں کی اور مزاکرات کا سلسلہ شروع ہوا جن کے لیے ثالثی کا کردار افغان طالبان ادا کرتے رہے۔ اس دوران کچھ عرصے کے لیے جنگ بندی بھی کی گئی لیکن اس کے خاتمے کے بعد پاکستان میں حالات ایک مرتبہ پھر کشیدہ ہیں۔

دفاعی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ  عمران کے دور میں جنرل باجوہ اور جنرل فیض نے طالبان کے ساتھ مذاکرات کی جو پالیسی اپنائی آج قوم اس کا خمیازہ بھگت رہی یے۔ آج عسکری حکام بھی تسلیم کرتے ہیں کہ شدت پسند حکومت کے ساتھ مزاکرات کے دوران مختلف علاقوں میں پھیل گئے اور اپنے نئے ٹھکانے بنا لیے جس کے نتیجے میں پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ سمیع یوسفزئی کا کہنا  ہے کہ پاکستان کو ٹی ٹی پی کیساتھ ایسی پالیسی اختیار کرنا ہوگی جس سے صورت حال بہتر کی جا سکے۔ اکا کہنا ہے کہ پاکستان کو افغان طالبان کو ایک باقاعدہ منظم فوج نہیں بلکہ ایک مسلح طاقتور گروپ کے طور پر دیکھنا ہوگا کیونکہ اب اس گروپ کو پاکستان کے اندر ٹی ٹی پی کی شکل میں ایک موثر پلیٹ فارم بھی دستیاب ہے۔

پی پی ،جماعت اسلامی نے مہاجروں کو دیوار میں چنوانے کا معاہدہ کر لیا

Back to top button