مونس الٰہی کا فرنٹ مین کس نے اور کس لیے اغوا کیا؟

وفاقی حکومت نے وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی پر دباؤ بڑھانے کے لیے ان کے صاحبزادے مونس الہی کے قریبی دوست اور پریما دودھ بنانے والی کمپنی کے مالک احمد فاران کو ان کا فرنٹ مین قرار دیتے ہوئے گرفتار کر لیا ہے۔ وزارت داخلہ نے پرویز الٰہی کی دوسری اہلیہ سائرہ انور کے علاوہ مونس الٰہی کی اہلیہ تحریم الٰہی کے نام بھی ای سی ایل پر ڈال دیے ہیں اور ان کے بیرون ملک جانے پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ اس کے علاوہ پرویزالٰہی کے دوسرے صاحبزادے راسخ الہی اور ان کی اہلیہ زہرہ الٰہی کے نام بھی ای سی ایل پر ڈال دیئے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ پنجاب اسمبلی کے دو ملازمین چوہدری قیصر اقبال بھٹی اور ارشد اقبال اور مونس کی کمپنی کی ایک ملازمہ ارم امین کے نام بھی ای سی ایل پر ڈال دیئے گئے ہیں۔ ایف آئی اے ذرائع کا کہنا ہے کہ ان تینوں کے خلاف مونس الہی کے فرنٹ مین ہونے کے الزام پر کاروائی کا آغاز کیا گیا ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ان تینوں کے بینک اکاؤنٹس میں ہونے والی مشکوک ٹرانزیکشنز پر انکوائری کا آغاز کیا گیا ہے۔

ایف آئی اے کے مطابق ان تینوں کے اکاؤنٹس سے مونس الہیٰ اور انکے خاندان کے افراد کے اکاؤنٹس میں پیسے منتقل ہوئے۔ ان تینوں کے بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات ان کے پروفائل سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے 15 جون 2022 کو وفاقی تحقیقاتی ادارے نے مونس الہٰی کیخلاف مقدمہ درج کر کے ان کے دو فرنٹ مین نواز بھٹی اور مظہر اقبال کو گرفتار کیا تھا جن کی بعد میں ضمانت ہوگئی تھی۔ مونس الہٰی کے خلاف مقدمہ منی لانڈرنگ کے الزام میں درج کیا گیا تھا۔

دوسری جانب اپنے فرنٹ مینوں اور خاندان کے افراد کے خلاف کارروائی کا آغاز ہونے پر مونس برہم ہو گئے۔انہوں نے الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ کل میرے ایک دوست کو کچھ لوگوں نے لاہور سے اٹھا لیا ہے۔ ایف آئی اے والے قسمیں کھاتے ہیں کہ ہم نے اسے نہیں اٹھایا۔ مونس نے ٹویٹر پر لکھا کہ کچھ دن بعد ان کے دوست کو اچانک ایف آئی اے والوں کے حوالے کر دیا جائے گا اور اسے مجبور کیا جائے گا کہ بندے کے خلاف پرچہ دو، اس کے بعد مونس نے لکھا کہ ان لوگوں کو سمجھ کیوں نہیں آتی کہ ہم نے پی ڈی ایم کے ساتھ نہیں ملنا۔ مونس الٰہی نے اپنے دوست کی گرفتاری کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی شیئر کی لیکن اس کا نام نہیں بتایا۔

تاہم اب پتا چلا ہے کہ مونث کے دوست کا نام فاران خان ولد نذیر احمد خان ہے جو کہ پریما دودھ بنانے والی کمپنی کا مالک ہے۔ واقعے کی ایف آئی آر میں بتایا گیا ہے کہ فاران احمد کو تین ویگو ڈالوں پر آنے والے لوگوں نے اغوا کیا۔ مونس الٰہی نے اہنے مبینہ فرنٹ مینوں کے خلاف کارروائی کے آغاز پر ردِعمل دیتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ راناثناء اللہ کو تنقید کا نشانہ بنایا یے۔  راناثناء اللہ خان کو مخاطب کرتے ہوئے مونس نے کہا کہ رانا صاحب، یہ وہی کیس ہے جو ہائیکورٹ نے خارج کر دیا ہے۔ پی ڈی ایم والو، جب ہم پنجاب میں اپوزیشن میں تھے تب بھی آپ لوگوں سے نہیں ڈرے تھے۔ مونس الہیٰ نے کہا کہ کر لو جو ہوتا ہے تم لوگوں سے، ہم چئیرمین پی ٹی آئی عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں۔

دوسری جانب  تھانہ گارڈن ٹاؤن لاہور میں احمد فاران خان کے بھاٸی سلمان ظہیر کی مدعیت میں اغواء اور چوری کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا۔ ایف آئی آر کے مطابق گارڈن ٹاؤن کا رہاٸشی احمد فاران خان اپنے گھر سے کار میں ڈراٸیور امتیاز کے ہمراہ نکلا۔ گارڈن ٹاؤن سے مسلم ٹاٸون موڑ کی جانب جاتے ہوئے ویگو ڈالے پر سوار چھ مسلح افراد نے گاڑی روک کر احمد فاران خان کو اغواء کر لیا۔ اغوا کار فاران کی لائسنس یافتہ رائفل بھی ساتھ لے گئے۔ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ ڈرائیور نے موبائل فون پرمغوی کے بھائی سلمان ظہیر خان کو اطلاع دی جو موقع پر پہنچے اور پولیس کو مطلع کیا۔ ذرائع کے مطابق پولیس تمام پہلوؤں پر تحقیقات کررہی ہے۔ حساس ادارے کے افسران بھی مغوی کی بازیابی کے لیے کام کررہے ہیں۔ دوسری جانب مونس الہی نے الزام لگایا ہے کہ فاران اس وقت ایجنسیوں کی تحویل میں ہے۔

پی پی ،جماعت اسلامی نے مہاجروں کو دیوار میں چنوانے کا معاہدہ کر لیا

Back to top button