حکومت کا خاتمہ PTI کا امتحان: کتنے لوگ باہر نکلیں گے؟

خیبر پختونخوا میں وفاقی حکومت کی جانب سے ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد اب تحریک انصاف کا سب سے بڑا امتحان شروع ہو چکا ہے، دیکھنا یہ ہے کہ صوبے میں 13 برس سے حکمران جماعت کیا اپنے دعووں کے مطابق واقعی ایسا سخت ردعمل دے پائے گی کہ وفاق کے لیے صوبہ چلانا مشکل ہو جائے؟ وفاقی حکومت کے اتوار کو کیے گئے اس اقدام کے بعد تحریک انصاف کو پہلی مرتبہ اپنی سیاسی طاقت کا مظاہرہ ایک ایسے وقت میں کرنا ہوگا جب اس کا انتظامی اور حکومتی اختیار ختم ہو چکا ہے اور اس کے پاس اقتدار کا وہ ایڈوانٹیج بھی نہیں جسے وہ ماضی میں اپنی سیاست آگے بڑھانے کے لیے استعمال کرتی رہی ہے۔
وفاقی حکومت کے اقدام سے پہلے لانگ مارچ کے دوران وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی اور تحریک انصاف کے دیگر رہنما مسلسل وفاق کو یہ چیلنج دیتے رہے تھے کہ صوبے میں گورنر راج نافذ کرکے دکھایا جائے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے۔ اب جبکہ وفاقی حکومت نے یہ قدم اٹھا لیا ہے تو اصل سوال یہ ہے کہ کیا تحریک انصاف کی قیادت اور اس کے کارکن واقعی سڑکوں پر نکل کر ایسا عوامی ردعمل پیدا کر سکیں گے جو وفاق کے لیے صوبہ چلانا مشکل بنا دے، اگر ایسا نہ ہو پایا تو پھر اقتدار سے محرومی کے بعد پارٹی کی سیاسی طاقت اور عوامی مقبولیت کے دعوے بھی بے نقاب ہو جائیں گے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صوبے میں 13 برس سے مسلسل حکمرانی کے باوجود اب تحریک انصاف کو اپنی مقبولیت ثابت کرنے کے لیے حکومتی وسائل اور انتظامی سرپرستی کے بغیر سیاسی میدان میں اترنا ہو گا۔ ان کے مطابق اس صورت حال میں پہلی ممکنہ شکل یہ ہو سکتی ہے کہ تحریک انصاف سے وابستہ عوام اور کارکنوں کی بڑی تعداد سخت ردعمل دے اور صوبے میں سیاسی بے چینی اس حد تک بڑھ جائے کہ وفاقی حکومت اور اس کے نمائندوں کے لیے حکومتی امور چلانا مشکل ہو جائے۔ تاہم موجودہ حالات میں اس امکان کو عملی شکل دینا آسان دکھائی نہیں دیتا، کیونکہ وفاق نے خیبر پختونخوا میں فوجی دستے تعینات کر دیے ہیں اور امن و امان کی صورت حال پر قابو پانے کے لیے سخت اقدامات کا فیصلہ کیا ہے۔
دوسری ممکنہ صورت یہ ہو سکتی ہے کہ گورنر راج کے خلاف محدود احتجاج ہو اور وقت گزرنے کے ساتھ صوبے میں بھی ایسے حالات پیدا ہو جائیں جیسے پنجاب میں تحریک انصاف کو درپیش ہیں، جہاں پارٹی کے لیے بڑے پیمانے پر احتجاجی تحریک منظم کرنا ایک مشکل چیکنج بن چکا ہے۔ ایسی صورت حال تحریک انصاف کے لیے سیاسی طور پر نقصان دہ ہو سکتی ہے، کیونکہ اس سے پارٹی کے مقبولیت کے دعووں اور عوام کو متحرک کرنے کی صلاحیت پر سوالات اٹھیں گے۔
اس تناظر میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا حکومتی اقتدار اور انتظامی اختیارات کا سہارا ختم ہونے کے بعد تحریک انصاف اپنے حق میں ایک بڑی عوامی تحریک کھڑی کر سکتی ہے؟ 26 نومبر 2024 کے لانگ مارچ کے انجام کو سامنے رکھا جائے تو فوری طور پر ایسے کسی غیر معمولی عوامی ردعمل کے امکانات محدود دکھائی دیتے ہیں جو وفاقی حکومت کے لیے فیصلہ کن سیاسی بحران پیدا کر سکے۔ خیبر پختونخوا میں فوجی دستوں کی تعیناتی اور وفاقی حکومت کے اس عزم کے بعد کہ 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات جیسے حالات دوبارہ پیدا نہیں ہونے دیے جائیں گے، احتجاجی سیاست کے لیے مشکلات مزید بڑھ سکتی ہیں۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ قانون ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی اور خلاف ورزی کرنے والوں کو گرفتار کرکے مقدمات کا سامنا کرنے اور سزاؤں کے عمل سے گزارا جائے گا۔ اس لیے تحریک انصاف کی قیادت کو نہ صرف کارکنوں کو متحرک کرنے بلکہ احتجاج کو ایک منظم اور پُرامن سیاسی حکمت عملی کے تحت آگے بڑھانے کا چیلنج بھی درپیش ہوگا۔
تاہم وفاقی حکومت کے لیے بھی یہ فیصلہ خطرات سے خالی نہیں، کیونکہ ملک پہلے ہی اندرونی اور بیرونی چیلنجز سے دوچار ہے اور خیبر پختونخوا میں انتظامی کنٹرول سنبھالنے سے اس کی ذمہ داریوں میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔ حکومت کا خیال ہے کہ اس اقدام کے ذریعے صوبے میں امن و امان بہتر بنانے، افغانستان کے ساتھ پیدا ہونے والے مسائل سے نمٹنے اور ملک میں دہشت گردی پر قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے، لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ سیاسی کشیدگی میں اضافے سے وفاق کو ایک نیا محاذ کھولنا پڑے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے صوبے میں جہاں تحریک انصاف کی سیاسی جڑیں مضبوط سمجھی جاتی ہیں، محض انتظامی اختیارات کی منتقلی سے حکمرانی کے مسائل حل کرنا آسان نہیں ہوگا۔ وفاقی حکومت کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ اس کا فیصلہ صرف سیاسی مخالفین کو اقتدار سے محروم کرنے کے لیے نہیں بلکہ صوبے میں امن، بہتر انتظامیہ اور مؤثر حکمرانی قائم کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔
تجزیہ کار عاصمہ شیرازی کے نزدیک گورنر راج اور ایمرجنسی کا نفاذ وفاقی حکومت کے لیے ایک ناپسندیدہ عمل تھا۔ ان کے مطابق سہیل آفریدی کی جانب سے مذاکرات نہ کرنے کا فیصلہ تحریک انصاف کی ناکامی تھی، جبکہ وفاقی حکومت نے مسائل کے حل کے لیے آئین میں موجود ایک غیر معمولی اور ناپسندیدہ راستہ اختیار کرکے اپنی سیاسی ناکامی کا تاثر بھی پیدا کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ماضی میں بھی ملک میں ایمرجنسی نافذ کی جاتی رہی ہے، لیکن اس کے نتائج کوئی زیادہ حوصلہ افزا نہیں رہے۔ عاصمہ شیرازی کے مطابق خیبر پختونخوا تحریک انصاف کے پاس اپنی صوبائی حکومت کی صورت میں آخری سیاسی قلعہ تھا اور اس کے ہاتھ سے نکل جانے کے بعد پارٹی کو صوبے میں سیاسی نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ تاہم اس فیصلے کے اثرات صرف تحریک انصاف تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ وفاقی حکومت کو بھی اس کے سیاسی اور انتظامی نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔
گرفتاری کے بعد آفریدی کے ٹرائل اور نااہلی کا امکان
عاصمہ شیرازی کے مطابق وفاقی حکومت کو اب ایسے صوبے میں بہتر گورننس کرکے دکھانا ہوگی جہاں وہ اس سے پہلے تحریک انصاف پر ناقص حکمرانی کے الزامات عائد کرتی رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک مقبول جماعت کی سیاسی حکومت ختم کیے جانے سے عام شہریوں میں بھی ناراضی پیدا ہو سکتی ہے، جبکہ گورنر فیصل کریم کنڈی کی قیادت میں صوبے کے انتظامی امور سنبھالنے والی حکومت کے لیے انتہا پسندوں کے خلاف کارروائیوں، امن و امان کی بحالی اور شہریوں کو بہتر سہولتیں فراہم کرنے کا امتحان آسان نہیں ہوگا۔ ان کے خیال میں زیادہ بہتر راستہ یہ ہوتا کہ سہیل آفریدی کے خلاف مقدمات کے فیصلوں کا انتظار کیا جاتا یا ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی جاتی۔ عاصمہ شیرازی کے مطابق مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے لیے بھی خیبر پختونخوا میں مقامی سطح پر سیاسی حمایت حاصل کرنا مشکل ہوگا، کیونکہ صوبے میں تحریک انصاف کی موجودگی اور اس کے ووٹ بینک کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
لیکن موجودہ صورتحال میں تحریک انصاف کی مرکزی قیادت کو درپیش مشکلات بھی اس بات کا تعین کریں گی کہ پارٹی وفاقی حکومت کے ایکشن کا کس حد تک مقابلہ کر پاتی ہے۔ عمران خان کی تینوں بہنیں زیر حراست ہیں، جبکہ پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر اور سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کے لیے موجودہ حالات میں کارکنوں کو بڑے پیمانے پر متحرک کرکے مؤثر احتجاجی تحریک چلانا ایک بڑا چیلنج ہوگا۔ مختصرا یہ کہ تحریک انصاف کے لیے اصل امتحان یہ ہے کہ وہ اقتدار سے محرومی کے بعد بھی اپنی عوامی طاقت ثابت کر سکتی ہے یا نہیں، جبکہ وفاقی حکومت کے لیے کامیابی کا پیمانہ یہ ہوگا کہ وہ سیاسی کشیدگی کے باوجود صوبے میں امن و امان، انتظامی استحکام اور بہتر حکمرانی یقینی بنا پاتی ہے یا نہیں۔
