گرفتاری کے بعد آفریدی کے ٹرائل اور نااہلی کا امکان

 

 

 

 

وفاق کی جانب سے خیبر پختونخوا کی حکومت معطل کرنے اور صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد اب تک پشاور میں کوئی ایسا بڑا احتجاج نہیں ہوا جو صوبے کے نئے حکمرانوں کے لیے پریشانی کا باعث بن سکتا ہو، تاہم امن و امان کی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی اور ان کی کابینہ کے اہم وزراء سمیت تحریک انصاف کے متعدد رہنماؤں کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔

 

تحریک انصاف نے دعویٰ کیا ہے کہ وزیراعلیٰ آفریدی کو گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے اور پارٹی کے کئی سینئر رہنماؤں کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے۔ پی ٹی آئی کے ڈپٹی انفارمیشن سیکرٹری اکرام کھٹانہ کے مطابق حراست میں لیے جانے والوں میں پارٹی کے صوبائی صدر جنید اکبر خان، سپیکر صوبائی اسمبلی بابر سلیم سواتی اور رکن قومی اسمبلی شاہد خٹک کے علاوہ صوبائی کابینہ کے کئی وزراء بھی شامل ہیں۔

 

دوسری طرف وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ صوبے میں امن برقرار رکھنے کے لیے بعض افراد کو وقتی طور پر گرفتار کیا گیا ہے اور انہیں جلد رہا کر دیا جائے گا۔ ادھر اسلام آباد سے یہ اطلاع آ رہی ہے کہ سابق وزیر اعلی سہیل آفریدی کیخلاف نہ صرف پرانے مقدمات پر کارروائی شروع کی جائے گی بلکہ نئے مقدمات بھی درج کیے جائیں گے جن میں ریاست کے خلاف بغاوت کا الزام بھی شامل ہو سکتا ہے۔ اس دوران بطور رکن صوبائی اسمبلی آفریدی کی نااہلی کا قوی امکان بھی موجود ہے۔ اس حوالے سے آئینی عدالت اور الیکشن کمیشن میں پہلے ہی کیسز چل رہے ہیں۔

 

حکومتی ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا میں تبدیلی کے بعد ایسے مشتبہ افراد کے ٹھکانوں کا سراغ لگایا جا رہا ہے جن پر 9 مئی کے حملوں سمیت مختلف جرائم میں ملوث ہونے کے الزامات ہیں اور جو پنجاب سے فرار ہو کر خیبر پختونخوا میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ ان ذرائع کے مطابق پشاور اور صوبے کے دیگر شہروں میں ایسے افراد کی تلاش کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔

 

دوسری جانب وفاق نے خیبر پختون خواہ میں سول انتظامیہ کی معاونت اور شہریوں کے تحفظ کے لیے آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت فوجی دستے تعینات کر دیے ہیں۔ خیبر پختون خوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد سیاسی کشیدگی کے باوجود صوبائی دارالحکومت پشاور سمیت صوبے کے مختلف علاقوں میں کوئی بڑا احتجاج دیکھنے میں نہیں آیا۔ یاد رہے کہ معزول وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے صوبائی حکومت معطل ہونے کے بعد ایک ویڈیو پیغام میں اتوار کی صبح عوام سے سڑکوں پر نکلنے اور حکومت کے خلاف احتجاج کرنے کی اپیل کی تھی، تاہم ابھی تک پشاور یا کسی اور شہر میں کوئی بڑا عوامی اجتماع منعقد نہیں ہو سکا۔ بعض مقامات پر محدود تعداد میں افراد باہر نکلے جنہیں پولیس نے منتشر کر دیا۔ صوبائی دارالحکومت پشاور میں مجموعی طور پر امن و امان کی صورتحال قابو میں ہے۔

 

دوسری جانب صوبائی حکومت کی معطلی کے بعد بعض مقامات پر اس فیصلے کے حق میں جشن منانے اور مٹھائیاں تقسیم کیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس سیاسی تبدیلی پر عوامی ردعمل یکساں نہیں ہے۔ ادھر اسلام آباد کے باخبر حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرنے کے بعد اس انتظام کو مختصر مدت تک محدود رکھنے کے بجائے طویل عرصے تک چلا ے کی حکمت عملی پر غور شروع کر دیا ہے۔ ان حلقوں کے مطابق یہ امکان بھی زیر غور ہے کہ موجودہ انتظام صوبائی اسمبلی کی آئینی مدت کے اختتام تک برقرار رہے۔ تاہم اس حوالے سے حتمی حکومتی فیصلہ اور اس کی مدت سے متعلق باضابطہ اعلان سامنے آنا ضروری ہے۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایمرجنسی اور گورنر راج کو طویل عرصے تک برقرار رکھنے کی راہ میں حائل آئینی اور قانونی پیچیدگیوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور ابتدائی حکومتی مؤقف یہ ہے کہ آئین میں اس نوعیت کے انتظام کو لمبے عرصے تک چلانے کی گنجائش موجود ہے۔

 

ذرائع کے مطابق صوبائی اسمبلی کی بحالی اور منتخب حکومتی نظام کی طرف واپسی کا اب ایک ہی راستہ بچا یے اور وہ یہ ہے کہ اسمبلی کے منتخب ارکان کی اکثریت ایسے شخص کو وزیر اعلیٰ بنانے پر متفق ہو جائے جو پارٹی یا شخصی مفادات کے بجائے قومی مفادات کو مقدم رکھنے کی یقین دہانی کروائے۔ بظاہر سابق وزیراعلی علی امین گنڈا پور ہی اس پیمانے پر پورا اترتے ہیں لیکن دیکھنا یہ ہے کہ کیا وہ اتنے اراکین اسمبلی کی حمایت حاصل کر پائیں گے کہ دوبارہ وزیراعلی منتخب ہونے کی پوزیشن میں آ جائیں۔

 

اس سے پہلے وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں سول انتظامیہ کی معاونت کے لیے پاک فوج تعینات کرنے کی منظوری دے دی تھے۔ وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت فوج کی تعیناتی کا مقصد انتظامیہ کی مدد کرنا، شہریوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنانا اور سرکاری تنصیبات کو سکیورٹی فراہم کرنا ہے۔ حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ فوجی دستے صوبے میں شہریوں کے تحفظ اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے انتظامیہ کی معاونت کریں گے۔ یہ اقدام ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب صوبائی حکومت کی معطلی کے بعد سیاسی صورتحال غیر یقینی کا شکار ہے اور وفاقی حکومت کسی بھی ممکنہ احتجاج یا امن و امان کی خرابی سے نمٹنے کے لیے اضافی انتظامی اقدامات کر رہی ہے۔

خیبرپختونخوا : ایڈووکیٹ جنرل آفس کے 57 افسران برخاست

وزارت داخلہ کے نوٹیفکیشن کے مطابق پاک فوج کی تعیناتی 11 اکتوبر 2026 کو نافذ کی گئی ایمرجنسی کی مدت تک برقرار رہے گی۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) کے ملٹری آپریشنز ڈائریکٹوریٹ سے مشاورت کے بعد فوجی نفری اور ضروری وسائل کا تعین کریں گے۔ حکم نامے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ فوج کی تعیناتی سے متعلق نوٹیفکیشن آئندہ گزٹ آف پاکستان کے پارٹ ٹو میں شائع کیا جائے گا۔ اس فیصلے کے بعد صوبے میں امن و امان کی ذمہ داریوں کے حوالے سے سول انتظامیہ، پولیس اور فوج کے درمیان رابطہ کاری اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ تاہم فوج کی تعیناتی کے باوجود پشاور میں کسی بڑے احتجاج کا نہ ہونا اور تحریک انصاف کی جانب سے آئندہ کے لائحہ عمل کے بارے میں صورت حال واضح نہ ہونا موجودہ سیاسی منظرنامے کے اہم پہلو ہیں۔

 

خیبر پختونخوا میں موجودہ صورتحال کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ اگرچہ وفاقی حکومت نے گورنر راج اور ایمرجنسی کے ذریعے صوبے کا انتظام سنبھالنے کے فیصلے کیے ہیں، لیکن اس انتظام کو طویل مدت تک برقرار رکھنے کے لیے آئینی اور قانونی تقاضوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ حکومتی حلقے ان پیچیدگیوں کا جائزہ لے رہے ہیں، جبکہ تحریک انصاف کے لیے اپنی قیادت کی گرفتاریوں اور صوبائی حکومت کی معطلی کے خلاف ردعمل کا فیصلہ اہم ہوگا۔ اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ وفاقی حکومت ایمرجنسی اور گورنر راج کے تحت صوبے کا انتظام کس طرح چلاتی ہے، تحریک انصاف احتجاجی تحریک شروع کرنے میں کامیاب ہوتی ہے یا قانونی اور سیاسی راستہ اختیار کرتی ہے، اور آیا فریقین کے درمیان کسی ایسے سیاسی اتفاق رائے کی گنجائش نکلتی ہے جو صوبے میں منتخب حکومت اور انتظامی نظام کے مستقبل کا تعین کر سکے۔

Back to top button