خیبرپختونخوا حکومت کی وجہ سے دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا : طلال چوہدری

وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت آتے ہی سب نے دیکھا کہ حالات کتنے خراب ہوئے۔خیبرپختونخوا حکومت کی نااہلی کی وجہ سے ہی صوبے میں دہشت گردی کے واقعات دوبارہ پروان چڑھے۔ ہمیں بخوبی اندازہ ہےکہ گورنر راج یا ایمرجنسی کوئی پھولوں کی سیج نہیں ہوتی۔
سینیٹر طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت ملک کا 90 فیصد امن بحال ہوگیا تھا لیکن پی ٹی آئی کی حکومت آتے ہی حالات انتہائی خراب ہوگئے۔ خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی نااہلی،انتشاری سیاست اور غیرسنجیدہ رویے کی وجہ سے دہشت گردی میں دوبارہ اضافہ ہوا۔
طلال چوہدری نے کہاکہ نیشنل ایکشن پلان بننے کے بعد دہشت گردی میں نمایاں کمی ہوئی تھی اور 2018 اور 2019 کے دوران خیبرپختونخوا میں کافی حد تک امن بحال ہوگیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت آتے ہی سب نے دیکھا کہ حالات کتنے خراب ہوئےہیں۔خیبرپختونخوا حکومت کی نااہلی کی وجہ سے ہی صوبے میں دہشت گردی کے واقعات دوبارہ پروان چڑھے۔
وزیر مملکت نے انکشاف کیا کہ وزیرداخلہ محسن نقوی نے متعدد بار کہا تھاکہ آئیں مل کر نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کرتےہیں اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو ہرچیز کی پیشکش کی گئی۔جو کچھ پی ٹی آئی والے مانگ رہے ھے اس سے کہیں زیادہ لکھ پڑھ کر انہیں دیا جارہا تھا۔
انہوں نےبتایا کہ وزیراعظم کو جاکر آگاہ کیاگیا کہ پی ٹی آئی والے راضی ہوگئے ہیں اور اب وہ دہشت گردی کے معاملے پر وفاق کے ساتھ تعاون کریں گے۔اس پر پر وزیراعظم نے ہدایت کی کہ جتنی زیادہ گنجائش بن سکتی ہے اس سے بھی زیادہ گنجائش دیں تاکہ دہشت گردی کےخاتمے کے حوالے سے مکمل تعاون حاصل کیا جاسکے۔لیکن افسوس ناک امر یہ ہےکہ وہ بات ہی نہیں مانے۔
طلال چوہدری نے کہا کہ یہ لوگ دانستہ طور پر شہداء کے جنازوں میں شرکت نہیں کرتے،ایسے میں یہ لوگ خود کو کیسے محب وطن کہہ سکتے ہیں۔
چیئرمین پی ٹی آئی کا وفاق سے ایمرجنسی کا فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ
انہوں نے کہا کہ ہمارا بنیادی ہدف یہ ہےکہ ملک سے دہشت گردی کا جڑ سے خاتمہ ہونا چاہیے۔وزیرداخلہ نے بھی یہی مؤقف اپنایا ہےکہ ہماری پوری کوشش ہےکہ جتنی جلدی ممکن ہوسکے حالات کو مکمل طور پر نارمل بنایاجائے۔
طلال چوہدری نے کہا کہ ہمیں بخوبی اندازہ ہےکہ گورنر راج یا ایمرجنسی کوئی پھولوں کی سیج نہیں ہوتی۔
انہوں نے کہاکہ جو لوگ امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورت حال میں مطلوب ہوں گے،انہیں قانون کےمطابق ہرحال میں گرفتار کرلیا جائے گا،کیوں کہ اس بار جو کچھ ہونے جارہا تھا قطعی طور پر کوئی سیاسی احتجاج نہیں تھا۔
طلال چوہدری نے دعویٰ کیا کہ خیبرپختونخوا میں اب پی ٹی آئی کی سیاسی ساکھ کافی حد تک کمزور ہوچکی ہے اور وہ اب ایک پاپولر جماعت نہیں رہی،جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہےکہ مارچ میں نکالی گئی ریلی میں ہماری توقع سے بھی بہت کم لوگ سڑکوں پر نکلے۔
