چاغی میں مظاہرین پرفائرنگ کا میڈیا بلیک آؤٹ کیوں؟

 

بلوچستان کے علاقے چاغی میں سکیورٹی فورسز کی شہریوں پر فائرنگ کے بعد علاقے میں صورتحال کشیدہ ہوگئی ہے

اور سوشل میڈیا پر Chaghi bleeds کا ٹرینڈ اب ٹاپ ٹرینڈز میں شامل ہو گیا ہے۔ دوسری جانب سے حسب معمول مین سٹریم پاکستانی میڈیا نے ریاستی اداروں کے دباؤ پر اس واقعے کا بلیک آؤٹ کیا ہے۔

چاغی میں سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں ایک غریب ٹرک ڈرائیور کے قتل کے بعد مشتعل مظاہرین پر فائرنگ کی خبر کو مین سٹریم میڈیا پر جگہ تو نہ ملی لیکن ٹوئٹر پر یہ واقعہ چھا چکا ہے۔ 18 اپریل کی صبح جیسے ہی چاغی شہر میں سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں ڈرائیور کی ماورائے عدالت قتل اور نوکنڈی میں مظاہرین پر فائرنگ کے خلاف لوگوں نے احتجاج شروع کیا تو ایف سی کیمپ کے سامنے احتجاج کے دوران سکیورٹی اہلکاروں نے مظاہرین پر اندھادھند گولیوں کی بوچھاڑ کردی۔

اس واقعے میں 8 افراد زخمی ہوئے جن میں سے تین کی حالت نازک ہے۔ اس واقعے کی خبر ٹویٹر پر جنگل کے آگ کی طرح پھیل گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے چاغی بلیڈز کا ٹرینڈ چل پڑا۔

فائرنگ کے اس واقعے کا اثر ملکی سیاست پر بھی پڑا ہے اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے شہباز شریف کی کابینہ کا حصہ بننے سے انکار کر دیا ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ واقعے کی تحقیقات کے لیے فوری طور پر جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے اور ذمہ دار اہلکاروں کو سخت ترین سزا دی جائے۔

بلوچستان کے سرحدی ضلع چاغی میں سکیورٹی فورسز کے کیمپ کے باہر مظاہرین پر فائرنگ کے واقعے کے بارے میں اسسٹنٹ کمشنر کا کہنا ہے کہ اس بات کا تعین ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کرے گی کہ فائرنگ کس نے اور کیوں کی؟ یہ احتجاج ضلع میں سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے ایک ڈرائیور کی ہلاکت کے خلاف اور علاقے سے تعلق رکھنے والے افراد کے دیگر مطالبات کی حمایت میں کیا جا رہا تھا۔ احتجاج میں شریک محراب بلوچ نے فائرنگ کا الزام سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں پر عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ لوگ پُرامن احتجاج کے لیے فورسز کے کیمپ کے باہر پہنچے تھے جہاں ان پر فائرنگ کی گئی۔

دوسری جانب ایک سرکاری اعلامیے کے مطابق وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے ضلع چاغی میں ڈرائیور کی ہلاکت کے واقعے سے پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال کا نوٹس لیا ہے اور کمشنر رخشاں ڈویژن سے صورتحال پر تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے چاغی کے عوام سے پر امن رہنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈرائیور کی ہلاکت کے واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی۔ وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ ڈرائیور کے لواحقین سے کسی قسم کی نا انصافی نہیں ہونے دی جائے گی۔

واضح رہے کہ ڈرائیور حمیداللہ 14 اپریل کے روز افغانستان سے متصل بلوچستان کے سرحدی ضلع چاغی کے علاقے ڈھک میں سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی فائرنگ سے ہلاک ہوا تھا۔

اسکے بھائی محمد ابراہیم نے الزام عائد کیا تھا کہ ان کے بھائی کو تب گولی ماری گئی جب وہ اپنی خالی گاڑی میں افغانستان سے واپس آ رہے تھے۔ اس ہلاکت کے خلاف ضلع چاغی میں سکیورٹی فورسز کے کیمپ کے باہر مظاہرہ کیا گیا جس کے جواب میں سکیورٹی فورسز نے فائرنگ کر دی۔

حکام کا الزام ہے کہ مارے جانے والے ڈرائیور نے ایک سکیورٹی اہلکار کو ٹکر مار کر فرار ہونے کی کوشش کی تھی جس پر اہلکار نے اپنے دفاع میں فائرنگ کی جس کے باعث ڈرائیور کو گولی لگی جبکہ مشتعل مظاہرین کے سکیورٹی فورسز کے کیمپ پر یلغار کی وجہ سے وہاں موجود اہلکاروں کو اپنے دفاع میں فائرنگ کرنی پڑی۔

تاہم ڈرائیور کے لواحقین کا کہنا ہے کہ اس کی گاڑی خالی تھی لہذا اسے بھاگنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی اور سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے اسے گاڑی سے اتار کر گولیاں ماریں۔ فائرنگ کا واقعہ افغانستان کی سرحد کے قریب واقع اس ضلع کے علاقے چاغی ٹائون میں پیش آیا۔

اس واقعے کے خلاف گوادر شہر میں ’حق دو‘ تحریک کے زیر اہتمام احتجاجی مظاہرے بھی شروع کر دیئے گئے ہیں اور تحریک کے سربراہ مولوی ہدایت اللہ بلوچ نے بلوچستان کے وزیراعلیٰ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں ورنہ تحریک کا دائرہ کار کوئٹہ تک پھیلا دیا جائے گا۔

Why media blackout of firing on protesters in Chaghi? video

Related Articles

Back to top button