شلوار قمیض کے 11ویں سے 20ویں صدی تک کے سفر کی کہانی

عیدالفطر کے موقع پر بچے، جوان، بوڑھے تمام عمر کے افراد شلوار قمیض پہننے کو ترجیح دیتے ہیں، اسی لباس میں عیدالفطر کی نماز پڑھنے کو بھی ترجیح دی جاتی ہے، پاکستان میں عید پر مرد و خواتین زیادہ تر شلوار قمیض پہننا پسند کرتے ہیں اور پاکستان کے مشہور برینڈز کی جانب سے بھی اس لباس کے مختلف ڈیزائن خریداروں کے لیے پیش کیے جاتے ہیں۔’’انڈپینڈنٹ اردو‘‘ نے کوشش کی ہے کہ اس لباس کی تاریخ پر روشنی ڈالیں اور یہ معلوم کر سکیں کہ یہ لباس کیسے تقریباً ہر پاکستانی کے گھر تک پہنچا، شلوار قمیض پاکستان اور انڈیا کے لباس کے کلچر کا اہم جز ہے اور اسی لباس کو سادہ اور شائستہ لباس سمجھا جاتا ہے، ترکی کے انٹرنیشنل ای جریدہ برائے سوشل سائنسز میں چھپے شلوار قمیض کی تاریخ پر مبنی تحقیق مقالے کے مطابق دریائے سندھ کے آس پاس آباد سندھ تہذیب 1700 تک ایک مضبوط تہذیب تھی۔ اس تہذیب کے تاجروں کا اس وقت کے خلیج فارس کے ساتھ تعلق تھا اور آثار قدیمہ میں مردوں کے اس وقت کے چغے یا شال پہننے اور خواتین کے شارٹ سکرٹس پہننے کے ثبوت موجود ہیں جس کے ساتھ ہیڈ گیئر پہنا جاتا تھا۔شلوار قمیض کی تاریخ پر ترکی کے سوشل سائنز جریدے نے باریک بینی سے تحقیق کی ہے، اسی تحقیقی مقالے کے مطابق سندھ تہذیب کے پوسٹ میڈک (600 قبل مسیح سے 1000 قبل مسیح تک کے دور) سے لے کر ہندوستان میں قائم مایورین سلطنت تک لوگ بغیر سلائی کے کپڑے پہنتے تھے۔زیریں حصے یعنی شلوار کی جگہ ’انٹاریا‘ یعنی نچلا لباس اور شرٹ یا قمیض کی جگہ پہننے والے کپڑے کو ’اوٹاریا‘ کہتے تھے اور انٹاریا کو باندھنے کے لیے استعمال ہونے والی چیز ’کایابندھ‘ کہلاتا تھا۔شلوار کو ترک زبان میں ’سلوار‘ کہا جاتا ہے۔ ترکی، عرب اور فارس میں سلوار ایک کھلا ٹراؤزر، جسے ناڑے کی مدد سے باندھا جاتا ہے، کو کہتے ہے۔ اسی طرح قمیض کا لفط عربی زبان سے نکلا ہے اور اس کا مطلب مختلف لمبائی والی شرٹ ہے اور اسی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ لباس عرب یا فارس سے آیا ہے۔16ویں صدی میں خلافت عثمانیہ قائم ہوئی تو خلافت عثمانیہ میں خواتین اور مردوں نے شلوار قمیض پہننا شروع کر دیا جس میں شلوار کو سلوار اور قمیض کو گملیک کہا جاتا تھا اور اس کے اوپر پہنے جیکیٹ کو کیبلیک کہا جاتا تھا۔ترکوں کی فتوحات کے سلسلے کے دوران وسطی ایشیا کے ممالک سے شلوار قمیض ترکوں کی جانب سے افغانستان اور ایران کے علاقوں میں بھی متعارف کرایا گیا۔اس کے بعد اس وقت کے شمالی ہندوستان میں شلوار قمیض کو 11ویں اور 12ویں صدی میں متعارف کرانے والی محمود غزنوی کی حکومت تھی جب یہ زیادہ تر مسلمانوں میں مقبول ہوا۔تحقیقی مقالے کے مطابق افغانوں اور مغلوں نے جب ہندوستان پر قبضے کا سلسلہ جاری رکھا تو 16 ویں صدی میں شلوار قمیض مغلیہ دور حکومت میں انڈیا میں زیادہ مقبول ہوئی۔سنگاپور کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق انڈیا میں شلوار قمیض مغلیہ سلطنت کے دوران مشہور ہوا اور زیادہ تر خواتین میں مقبول ہوا جبکہ 1980 کے بعد یہ اتنا مقبول ہو گیا کہ بعض سکولوں نے اس کو لڑکیوں کے لیے بطور سکول یونیفارم بھی متعارف کروا دیا۔یہی لڑکیاں سکول سے یونیورسٹی تک شلوار قمیض کو بطور نونیفارم پہنتی تھیں جبکہ اس کو انڈین پنجاب کا روایتی لباس بھی کہا جاتا ہے۔شلوار قمیض کے برصغیر میں مشہور ہونے سے یہ تقریباً ہر گھر تک تو پہنچ گیا لیکن اس کے بعد شلوار اور قمیض دونوں کہ ہی مختلف شکلیں بننا شروع ہو چکا ہے۔یہ سادہ شلوار پاکستان کے شلوار قمیض لباس فیشن میں خاصا مقبول ہے اور ملک بھر میں زیادہ تر آپ کو لوگ یہی کھلا شلوار پہنے نظر آئیں گے۔پٹیالہ شلوار انڈیا کے پٹیالہ شہر میں متعارف کروائی گئی اور یہ خواتین کی شلوار کا ڈیزائن ہے۔چوڑی دار شلوار جیسا کے نام سے واضح ہے کہ یہ چوڑیوں کی طرز پر بنی شلوار ہوتی ہے یعنی اوپر کے حصے کو چوڑی کی طرح بنایا جاتا ہے اور کولہے سے لے کر ٹخنوں تک بالکل سیدھا اور تنگ بنایا جاتا ہے۔پلازوز پاکستانی سٹائل کی شلوار سمجھی جاتی ہے اور پاکستان میں مقبول بھی ہے۔ یہ شلوار کولہوں سے لے کر ٹخنوں تک بالکل کھلی بنائی جاتی ہے۔اسی طرح قمیض کی بھی مختلف قسمیں متعارف کروائی جا چکی ہیں جن میں سادہ قمیض، کرتا، کلی دار کرتا، انارکلی قمیض اور انگرخا شامل ہیں۔سادہ قمیض تو ہر کسی نے دیکھی ہو گی جو گھٹنوں تک پورے بازو کے ساتھ بنائی جاتی ہے اور بطور شرٹ پہنی جاتی ہے۔
