حکومت کی جانب سے مولانا کو دی جانے والی رعایتیں ختم

معروف صحافی رؤف کلاسرا نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمن، وزیر دفاع خواجہ آصف اور وزیر داخلہ محسن نقوی کی یکے بعد دیگرے کڑاکے داڑ تقریروں نے اچانک پارلیمنٹ کا مردہ ماحول بدل کر رکھ دیا ہے۔ انکے مطابق اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت کی لڑائی عمران کے ساتھ نہیں بلکہ مولانا فضل الرحمن کے ساتھ ہے چنانچہ اب مولانا کو دی جانے والی حکومتی رعایتوں کا موسم بھی ختم ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

اپنے سیاسی تجزیے میں رؤف کلاسرا کہتے ہیں کہ ایک عرصے سے پارلیمنٹ کا ماحول انتہائی سرد اور بے رونق تھا، جہاں ارکان کی عدم دلچسپی کے باعث کورم پورا کرنا بھی مشکل ہو جاتا تھا، تاہم مولانا فضل الرحمن، خواجہ آصف اور محسن نقوی کی لفظی حملوں سے بھرپور حالیہ تقریروں نے ایوانوں میں ایک بار پھر سیاسی گرما گرمی پیدا کر دی ہے۔ ان کے بقول ان تینوں رہنماؤں کی تقاریر نے پارلیمنٹ کے ماحول میں اچانک ایسی تبدیلی پیدا کی ہے کہ اب ایوان میں ایک دوسرے پر براہ راست سیاسی حملے اور ان کے جوابات سننے کو مل رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن کی قومی اسمبلی میں وزیر دفاع خواجہ آصف پر تنقید کے بعد خواجہ آصف نے بھی خاموش رہنے کے بجائے براہ راست جوابی حملہ کیا۔ خواجہ آصف ماضی میں اپنے مخالفین کو سخت جواب دینے کے حوالے سے شہرت رکھتے ہیں، تاہم حالیہ عرصے میں انہوں نے بعض سیاسی رہنماؤں کی تنقید پر خاموشی اختیار کیے رکھی تھی، لیکن اس مرتبہ انہوں نے مولانا فضل الرحمن کو جواب دیتے ہوئے وہ روایتی سیاسی تکلف اور احترام بھی ملحوظ خاطر نہیں رکھا جو مسلم لیگ ن کی قیادت ماضی میں مولانا فضل الرحمن اور محمود خان اچکزئی کے معاملے میں روا رکھتی تھی۔

رؤف کلاسرا کا کہنا ہے کہ خواجہ آصف کی تقریر سے یہ تاثر ابھرا ہے کہ حکومت نے مولانا فضل الرحمن کے ساتھ براہ راست سیاسی محاذ آرائی کا فیصلہ کر لیا ہے اور اب انہیں عمران خان کے مقابلے میں ماضی کی طرح سیاسی رعایتیں دینے کا سلسلہ جاری نہیں رہے گا۔ ان کے بقول عمران خان اب اس سیاسی کشمکش کا مرکز نہیں رہے بلکہ ان کی جگہ مولانا نے لے لی ہے۔ ایسے میں حکومت اور مولانا کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آ رہے ہیں، جس سے آنے والے دنوں میں پارلیمنٹ کے اندر سیاسی محاذ آرائی مزید بڑھ سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ خواجہ آصف کی تقریر کے بعد وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی سینیٹ میں مولانا فضل الرحمن کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے ان پر لفظی حملوں کا سلسلہ آگے بڑھایا۔ محسن نقوی گزشتہ ڈھائی برس کے دوران پارلیمنٹ کے ایوانوں میں بہت کم دکھائی دیے ہیں، تاہم اس مرتبہ وہ مولانا بارے حکومتی مؤقف پیش کرنے سینیٹ پہنچے تو جمعیت علمائے اسلام کے سینیٹر کامران مرتضیٰ اور مولانا عطا الرحمن نے فوری طور پر جوابی حملے شروع کر دیے۔ رؤف کلاسرا کے مطابق محسن نقوی کی تقریر کے دوران مسلم لیگ ن کے وزرا اور سینیٹرز نے بھی ان کی حمایت میں موئثر کردار ادا نہیں کیا، جبکہ حکومتی صفوں سے صرف سینیٹر عابد شیر علی نے ان کا ساتھ دیتے ہوئے شور شرابا کیا۔

دوسری جانب کامران مرتضیٰ اور مولانا عطا الرحمن کے سخت جوابی ردعمل کے باعث محسن نقوی اپنی طویل تقریر مکمل نہ کر سکے اور وقت سے پہلے ہی ایوان سے چلے گئے، تاہم وہ یہ پیغام دینے میں کامیاب رہے کہ حکومت اب مولانا فضل الرحمن کو ماضی کی طرح سیاسی مراعات اور رعایتیں دینے کے لیے تیار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن کے لیے بھی اب اس صورت حال میں خاموش رہنا آسان نہیں ہوگا کیونکہ خواجہ آصف اور محسن نقوی کی جانب سے یکے بعد دیگرے براہ راست تنقید کے بعد ان کے لیے سیاسی پسپائی اختیار کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔

اسی لیے قوی امکان ہے کہ مولانا فضل الرحمن ایک مرتبہ پھر پارلیمنٹ کا رخ کریں اور حکومتی رہنماؤں پر جوابی وار کریں، جس سے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں جاری لفظی جنگ مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔

رؤف کلاسرا کے بقول پارلیمنٹ میں حالیہ تقریروں نے ایک نئے سیاسی دنگل کی بنیاد رکھ دی ہے، جہاں مولانا فضل الرحمن، خواجہ آصف اور محسن نقوی تینوں ایک دوسرے کے آمنے سامنے کھڑے دکھائی دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ محاذ آرائی کس رخ پر آگے بڑھتی ہے اور مولانا فضل الرحمن حکومتی رہنماؤں کے حملوں کا کیا جواب دیتے ہیں، تاہم اتنا واضح ہے کہ ایک عرصے سے سیاسی طور پر غیر متحرک دکھائی دینے والی پارلیمنٹ میں اب ایک نیا سیاسی معرکہ شروع ہو چکا ہے۔

Back to top button