خواجہ آصف نے مولانا کو مذہب فروش ملا کیوں قرار دیا؟

مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما اور وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کی جانب سے مولانا فضل الرحمٰن کو بلیک میلر اور مذہب فروش ملا قرار دینے سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اب نون لیگ کی قیادت میں عمران خان کے حمایتی مولانا کے لیے برداشت ختم ہو گئی ہے۔ خواجہ آصف نے مولانا کے سیاسی ماضی، کشمیر کمیٹی کی سربراہی اور اقتدار میں حصہ نہ ملنے پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنانے کے حوالے سے سخت حملے کرتے ہوئے انہیں خبردار کیا ہے کہ وہ ماضی کے معاملات نہ کھلوائیں، ورنہ بہت کچھ سامنے آسکتا ہے۔ وزیر دفاع کی اس جارحانہ تقریر نے مسلم لیگ (ن) اور جے یو آئی (ف) کے درمیان بڑھتی ہوئی سیاسی خلیج کو مزید گہرا کردیا ہے۔
یاد رہے کہ خواجہ آصف کی یہ سخت جوابی تقریر مولانا فضل الرحمٰن کی گزشتہ روز کی تنقید کے بعد سامنے آئی، جب جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے تہران میں ہونے والی اہم علاقائی ملاقاتوں میں وزیر دفاع کی عدم موجودگی پر سوال اٹھائے تھے۔ خواجہ آصف نے وضاحت کی کہ تہران میں کوئی دفاعی معاہدہ نہیں ہو رہا تھا اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امن کے لیے کردار ادا کرنے گئے تھے، اس لیے ان کی عدم موجودگی پر اعتراض بے تکا تھا۔ تاہم وزیر دفاع نے اپنے جواب کو سفارتی معاملے تک محدود رکھنے کے بجائے مولانا کے سیاسی کردار اور سابقہ حکومتی شراکت داریوں کو بھی نشانے پر رکھ لیا۔
خواجہ آصف نے مولانا فضل الرحمٰن پر الزام لگایا کہ ان کا سیاسی رویہ یہ ہے کہ ’’ اقتدار حصہ مل جائے تو خاموشی، اور نہ ملے تو تنقید‘‘ شروع کردی جاتی ہے۔ ان کے بقول اگر مولانا کو خیبر پختون خوا حکومت میں اقتدار کا حصہ دے دیا جاتا تو گزشتہ روز ایسی تنقید سننے کو نہ ملتی۔ وزیر دفاع نے دعویٰ کیا کہ مولانا چاہتے ہیں کہ انکو خصوصی اہمیت دی جائے اور حکومت میں شامل کرنے کے لیے ان سے رابطے کیے جائیں۔ اس بیان کو جے یو آئی (ف) اور حکومت کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور اقتدار میں شراکت داری کے معاملے پر اختلافات کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
وزیر دفاع نے مولانا کی تقریباً دس سال تک کشمیر کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے خدمات پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے پوچھا کہ اس طویل عرصے میں مسئلہ کشمیر کے لیے ان کی عملی خدمات کیا تھیں، سوائے مراعات حاصل کرنے کے۔ انہوں نے جنرل پرویز مشرف کے دور میں مولانا کے مکروہ سیاسی کردار پر تنقید کرتے ہوئے یاد دلایا کہ انہوں نے ایک فوجی ڈکٹیٹر کے لیگل فریم ورک آرڈر کی منظوری میں اہم ترین کردار ادا کیا جس سے آئین کا حلیہ بگڑ گیا اور مشرف کو اقتدار میں رہنے کا آئینی جواز مل گیا۔
خواجہ آصف نے اعتراف کیا کہ ماضی میں ان کی اپنی جماعت سے بھی غلطیاں ہوئی ہیں اور پارٹی قیادت کو اقتدار کے حصول کے لیے بعض سیاسی سمجھوتے نہیں کرنے چاہیے تھے۔ ان کے مطابق ایسے اتحادوں میں شامل ہونے کے بجائے حزب اختلاف میں بیٹھنا بہتر ہے جن کے نتیجے میں حکومت کو مسلسل دباؤ اور بلیک میلنگ کا سامنا کرنا پڑے۔
خواجہ آصف نے مذہب اور سیاست کو ذاتی مفادات کے لیے استعمال کرنے کے معاملے پر بھی مولانا کو براہ راست نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مذہب اور سیاست کو کمائی کا ذریعہ بنانے والی جماعت جے یو آئی (ف) ہے، نہ کہ تحریک انصاف یا کوئی دوسری سیاسی جماعت۔ اپوزیشن بینچوں سے احتجاج اور نعرے بازی کے دوران وزیر دفاع نے طنزیہ انداز میں کہا کہ مولانا کے دفاع کے لیے اب کوئی مرد باقی نہیں رہا، اس لیے خواتین کو میدان میں آنا پڑا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ وہ نہیں چاہتے کہ ماضی کی باتیں کھولی جائیں، لیکن گزشتہ روز کی تقریر میں اٹھائے گئے نکات کا جواب دینا ضروری تھا۔ ان کے اس بیان سے ایوان میں کشیدگی مزید بڑھ گئی۔
خواجہ آصف کی تقریر کو مسلم لیگ (ن) اور مولانا فضل الرحمٰن کے درمیان بڑھتے ہوئے سیاسی فاصلے کے تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔ دونوں جماعتیں ماضی میں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے پلیٹ فارم پر اکٹھی رہی ہیں اور شہباز شریف کی حکومت کے قیام کے دوران بھی ان کے درمیان سیاسی تعاون موجود تھا، لیکن اب مولانا حکومتی فیصلوں اور پالیسیوں پر مسلسل تنقید کر رہے ہیں۔ دوسری جانب عمران خان کی رہائی کے مطالبے پر تحریک انصاف سمیت اپوزیشن کے ساتھ مولانا کی سیاسی ہم آہنگی نے صورت حال کو مزید پیچیدہ کردیا ہے۔ خواجہ آصف کے سخت الفاظ اس بات کا اشارہ ضرور ہیں کہ حکومتی صفوں میں مولانا کے مؤقف پر ناراضی بڑھ رہی ہے، تاہم نواز شریف اور شہباز شریف کی جانب سے ان کے لیے ہمدردی ختم ہونے کا کوئی براہ راست اعلان سامنے نہیں آیا۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ عمران خان نے ماضی میں مولانا فضل الرحمٰن کے لیے ’مولانا ڈیزل‘ کا لقب استعمال کیا تھا، لیکن اب مولانا عمران کی رہائی کے مطالبے پر اپوزیشن کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اس سیاسی تبدیلی نے ماضی کے حریفوں کو بعض معاملات میں ایک دوسرے کے قریب لا کھڑا کیا ہے، جبکہ مسلم لیگ (ن) اور جے یو آئی (ف) کے تعلقات میں نئی تلخیوں کو جنم دیا ہے۔ تاہم مولانا کی حکومت مخالف سیاست کا دائرہ صرف عمران خان کی رہائی تک محدود نہیں؛ وہ شدت پسندی سے نمٹنے کی حکومتی حکمت عملی اور دیگر پالیسیوں پر بھی سوال اٹھاتے رہے ہیں۔
پیپلز پارٹی کی اپوزیشن کو انتخابی اصلاحات کمیٹی میں شمولیت کی دعوت
ادھر مولانا فضل الرحمٰن نے اپنی گزشتہ روز کی تقریر میں خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے آئینی جواز پر بھی سوالات اٹھائے تھے۔ ان کا مؤقف تھا کہ صدر مملکت کی جانب سے گورنر راج کے نفاذ کے لیے آئینی تقاضے پورے ہونا ضروری ہیں اور متعلقہ دستاویز میں صدر کے اطمینان کا واضح ذکر نہ ہونے سے قانونی سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ انہوں نے دہشت گردی، افغانستان پر امریکی حملے اور خطے کے معدنی وسائل میں عالمی طاقتوں کی دلچسپی کے حوالے سے اپنے سابقہ خدشات کا بھی دفاع کیا۔ یوں خواجہ آصف اور مولانا فضل الرحمٰن کے درمیان لفظی جنگ اب سفارتی معاملات سے آگے بڑھ کر صوبائی اقتدار، حکومتی پالیسیوں، آئینی تنازعات اور اپوزیشن کی نئی صف بندی تک پھیل گئی ہے، جبکہ وزیر دفاع کی ماضی کے معاملات سامنے لانے کی دھمکی نے دونوں جماعتوں کے درمیان سیاسی کشیدگی مزید بڑھا دی ہے۔

One Comment