محسن نقوی نے مولانا فضل الرحمن کو چارج شیٹ کیوں کیا؟

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے سینیٹ میں جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے خلاف چارج شیٹ سے واضح ہو گیا ہے کہ کبھی ایک ہی سیاسی اتحاد کا حصہ رہنے والے دونوں رہنماؤں کے درمیان فاصلے اب تلخی میں بدل چکے ہیں۔ محسن نقوی نے مولانا پر ریاست سے فائدہ اٹھانے، حکومت میں حصہ نہ ملنے پر ریاست کے خلاف زبان استعمال کرنے اور اسلام کو ذاتی مفادات کے لیے استعمال کرنے کے الزامات لگاتے ہوئے کہا کہ وہ پہلے ان کا احترام کرتے تھے، لیکن اب مولانا نے احترام کی گنجائش باقی نہیں چھوڑی۔
اس لفظی جنگ کا فوری سبب تہران میں ہونے والی علاقائی ملاقاتوں میں محسن نقوی کی شرکت پر مولانا کا طنز اور خیبر پختون خوا میں گورنر راج پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنانا ہے، تاہم اس کے پس منظر میں پی ڈی ایم کے سابقہ اتحادیوں کے بدلتے تعلقات اور عمران خان کی رہائی کے معاملے پر پیدا ہونے والے اختلافات بھی اہم ہیں۔
سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن نے گزشتہ روز یہ کہہ کر کہ وہ ریاست پر تھوکتے ہیں، اپنے لیے احترام کی گنجائش ختم کر دی ہے۔ ان کے بقول بعض لوگوں کے لیے ریاست اس وقت تک ماں ہوتی ہے جب تک انہیں ماں سے مال اور فائدہ ملتا رہے، لیکن حکومت میں حصہ نہ ملے تو وہ اسی ماں کے خلاف باتیں شروع کر دیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اب مولانا کو ریاست سے نوکری اور پیسے ملنے کی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔ جے یو آئی کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے احتجاج کیا تو محسن نقوی نے جواباً کہا کہ انہیں ان کی بات سننا پڑے گی۔ وزیر داخلہ نے جے یو آئی کی قیادت پر مذہب کو ذاتی مفادات کے لیے استعمال کرنے کا الزام بھی لگایا اور دعویٰ کیا کہ یہی لوگ ان کے پاس آ کر کہتے تھے کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج نافذ کر کے ان کی جان چھڑائی جائے۔ اس تنازعے کی فوری وجہ مولانا فضل الرحمن کی قومی اسمبلی میں گزشتہ روز کی تقریر بنی، جس میں انہوں نے تہران میں پاکستان اور دیگر علاقائی ممالک کے درمیان ہونے والی ملاقاتوں پر سوالات اٹھائے تھے۔ مولانا نے طنزیہ انداز میں پوچھا کہ اگر وہاں دفاعی معاہدے سے متعلق اجلاس ہو رہا تھا تو وزیر دفاع خواجہ آصف پاکستان میں کیوں موجود تھے اور وزیر داخلہ محسن نقوی کو وہاں جانے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ انہوں نے خواجہ آصف کے مشہور جملے ’’کچھ شرم ہوتی ہے، کچھ حیا ہوتی ہے‘‘ کو دہرا کر حکومت پر تنقید کی۔
جواباً محسن نقوی نے سخت زبان استعمال کرتے ہوئے وضاحت کی کہ ان کا دورۂ ایران کسی دفاعی معاہدے کے لیے نہیں تھا بلکہ وزیر اعظم شہباز شریف نے انہیں خطے میں جاری جنگ اور کشیدگی بارے خصوصی ذمہ داری سونپی تھی۔ ان کے مطابق وہ اپنی مرضی سے نہیں بلکہ وزیراعظم کی ہدایت پر بحران سنبھالنے کے لیے تہران گئے تھے۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان اختلافات کی کہانی صرف تہران کے دورے سے شروع نہیں ہوتی۔ اکتوبر کے وسط میں محسن نقوی نے ایک مذہبی سیاسی جماعت کے سربراہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ بعض سیاست دان دہائیوں تک اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے سیاست کرتے رہے اور اب خیبر پختونخوا کے نئے انتظامی بندوبست میں حصہ نہ ملنے پر ناراض ہیں۔ انہوں نے ہوائی ٹکٹوں کے لیے بھی اسٹیبلشمنٹ پر انحصار کرنے کا الزام لگایا تھا۔
اگرچہ محسن نقوی نے مولانا کا نام نہیں لیا، تاہم اس بیان کو جے یو آئی کے سربراہ کی طرف اشارہ سمجھا گیا۔ یاد رہے کہ ماضی میں مولانا فضل الرحمن اور محسن نقوی ایک ہی وسیع تر سیاسی ماحول میں پی ڈی ایم کے قریب رہے، جس کا بنیادی مقصد عمران خان کی حکومت کے خلاف سیاسی جدوجہد تھا۔ تاہم ان کی قربت کی بنیاد مشترکہ سیاسی مقاصد تھے، دونوں کے درمیان ذاتی دوستی بھی رہی۔ لیکن پی ڈی ایم کی جماعتوں کے اقتدار میں آنے کے بعد ان کے مفادات اور ترجیحات مختلف ہونے لگیں۔ مولانا فضل الرحمن نے انتخابی نتائج، حکومتی تشکیل اور سیاسی نظام پر تحفظات کے باعث مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی سے فاصلہ اختیار کیا، جبکہ محسن نقوی وفاقی حکومت کا حصہ بن کر وزیر داخلہ کے منصب تک پہنچ گئے۔ یوں سابقہ سیاسی قربت کی جگہ اختلافات نے لے لی۔
بظاہر مولانا کے سیاسی مؤقف میں تبدیلی کا نمایاں پہلو عمران خان کی رہائی کے مطالبے پر ان کا بڑھتا ہوا زور ہے۔ ماضی میں عمران خان کی حکومت کے خلاف پی ڈی ایم کی تحریک میں مرکزی کردار ادا کرنے والے مولانا اب تحریک انصاف کی مشکلات، عمران خان کی قید اور خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے مخالف ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ماضی میں عمران خان نے مولانا کا نام مولانا ڈیزل رکھا تھا لیکن اب وہ ان کی رہائی کے لیے کوشاں ہیں۔ دوسری جانب مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی حکومت کا حصہ ہیں اور محسن نقوی بھی وفاقی حکومت کا دفاع کر رہے ہیں۔ چنانچہ عمران خان کی رہائی اور تحریک انصاف سے مفاہمت کے معاملے پر مولانا کا مؤقف سابقہ اتحادیوں سے مختلف دکھائی دیتا ہے۔
خیبر پختونخوا میں گورنر راج کا معاملہ بھی اسی سیاسی کشمکش کا اہم حصہ ہے۔ محسن نقوی نے دعویٰ کیا کہ جے یو آئی کے بعض رہنما حکومت سے گورنر راج نافذ کرنے کی درخواست کرتے رہے، جبکہ مولانا اس اقدام کو آئینی اور سیاسی بنیادوں پر تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ دوسری طرف مولانا کے لیے بھی یہ سیاسی سوال اہم ہے کہ جو جماعت ماضی میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے ساتھ عمران خان کے خلاف کھڑی تھی، وہ اب ان کی رہائی اور تحریک انصاف کے سیاسی حقوق کے دفاع میں کس حد تک آگے جائے گی۔
خواجہ آصف نے مولانا کو مذہب فروش ملا کیوں قرار دیا؟
محسن نقوی اور مولانا فضل الرحمن کے درمیان حالیہ لفظی جنگ بدلتی ہوئی سیاسی صف بندی کی عکاس ہے۔ ایک طرف مولانا سابقہ اتحادیوں سے فاصلے کے بعد عمران خان کی رہائی، سیاسی مذاکرات اور خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف محسن نقوی حکومتی مؤقف کا دفاع کرتے ہوئے ان پر ذاتی مفادات اور مذہب کو سیاست کے لیے استعمال کرنے کے الزامات لگا رہے ہیں۔
