ہیومن رائٹس کمیشن مریم نواز پر برہم کیوں ہو گیا؟

 

 

 

 

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی جان کے بدلے جان اور تھپڑ کے بدلے تھپڑ کی پالیسی کو غیر انسانی اور ماورائے قانون قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جرائم کے خاتمے کے لیے ملزمان کو تشدد کا نشانہ بنانے کے بجائے عدالتوں سے سزائیں دلوانا ضروری ہے۔ کمیشن کے چیئرمین اسد اقبال بٹ نے مریم نواز کے بیانات پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ جرائم تب تک ختم نہیں ہو سکتے جب تک پولیسنگ اور تفتیشی نظام بہتر بنانے کے ساتھ عدالتوں کے ذریعے انصاف کی فراہمی یقینی نہیں بنائی جاتی۔

 

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے منڈی بہاؤالدین میں یونیورسٹی آف رسول سے خطاب کرتے ہوئے لاہور میں سکوٹر پر سوار لڑکی کو راستہ نہ دینے پر سرعام تشدد کا نشانہ بنانے کے واقعے کا حوالہ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے تھانے میں متاثرہ لڑکی سے کہا کہ ملزم نے اس کے منہ پر جتنے تھپڑ مارے ہیں، وہ بھی اسے اتنے ہی تھپڑ مارے۔ مریم نواز کے مطابق لڑکی کی ہڈی ٹوٹی ہوئی تھی، لیکن اس نے کہا کہ ریاست نے جس طرح اس کا ساتھ دیا اور اسے تحفظ کا احساس دلایا، اس کے لیے یہی کافی ہے اور وہ ملزم کو جوابی تھپڑ رسید نہیں کرنا چاہتی۔

 

مریم نواز نے 23 اکتوبر کو لاہور کے ایک پیٹرول پمپ پر ملازم کو تشدد کا نشانہ بنانے والے شخص کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر شیئر کی تھی، جس میں پولیس کی تحویل میں متاثرہ ملازم ملزم کو تھپڑ مارتا دکھائی دیتا ہے۔ یاد رہے کہ یہ تھپڑ پولیس کی تحویل میں مارا گیا اور وزیراعلی کی خواہش بھی اس میں شامل تھی۔ وزیر اعلیٰ نے اسے دولت اور طاقت کے بل پر خود کو قانون سے بالاتر سمجھنے والوں کے لیے طمانچہ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ مظلوموں کے ساتھ کھڑی ہیں، چاہے ان پر ظلم کرنے والے کتنے ہی طاقتور کیوں نہ ہوں۔ ان کا مؤقف ہے کہ دولت، اثرورسوخ اور سیاسی تعلقات کسی کو احتساب سے بچانے کا ذریعہ نہیں بننے چاہییں۔

 

ادھر ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے چیئرمین اسد اقبال بٹ نے مریم نواز کے ان بیانات کو سمجھ سے باہر قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران سینکڑوں افراد کو کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کے ذریعے عدالت میں پیش کیے بغیر جعلی پولیس مقابلوں میں مارا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں بھی لوگوں کو قتل کیا جاتا رہا اور انہیں چوکوں پر لٹکانے جیسے ظالمانہ اقدامات کیے گئے، لیکن اس سے جرائم ختم نہیں ہوئے۔ ان کے مطابق جرائم کا مستقل خاتمہ اسی وقت ممکن ہے جب پولیسنگ بہتر بنائی جائے، تفتیشی طریقہ کار درست کیا جائے اور عدالتیں مقدمات کے فیصلے کرکے مجرموں کو سزائیں سنائیں۔

 

قانونی ماہر عابد ساقی ایڈووکیٹ نے بھی وزیراعلیٰ پنجاب کے طرزِعمل پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آئین اور قانون زیرِحراست ملزم پر تشدد کی اجازت نہیں دیتے۔ ان کے مطابق سزا دینے کا اختیار پولیس کے پاس نہیں بلکہ عدالتوں کے پاس ہے، لہٰذا وزیراعلیٰ کی جانب سے کسی ملزم کو تھپڑ مارنے کی ترغیب دینا قانون کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر آئین نے انصاف کی فراہمی کی ذمہ داری عدالتوں کو سونپی ہے تو انہیں اپنا کام کرنے دینا چاہیے۔

 

عابد ساقی کے مطابق ملک میں آئین کی بالادستی، عدالتی نظام اور اظہارِ رائے کی آزادی سمیت متعدد معاملات پر سوالات اٹھ رہے ہیں، ایسے میں نمائشی اقدامات کے ذریعے انصاف کی فراہمی کا تاثر دینے سے معاشرے میں دیرپا بہتری نہیں آسکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ زیرِحراست ملزم پر تشدد کرنا یا اسے ہلاک کرنا قانوناً قابلِ قبول نہیں، کیونکہ کسی شخص کو جرم ثابت ہونے اور عدالتی کارروائی کے بغیر سزا دینے کا اختیار کسی ادارے یا عہدیدار کو حاصل نہیں۔

کیاالیکشن ریفارمز پر حکومت اور اپوزیشن ایک پیج پر آ پائیں گے؟

ادھر مریم نواز نے اپنی پالیسی پر ہونے والی تنقید کا جواب دیتے ہوئے منڈی بہاؤالدین میں کہا کہ انہیں اس بات کی پروا نہیں کہ ان کے خلاف مقدمہ درج ہوگا یا نہیں، کیونکہ وہ اللہ کے سامنے جواب دہ ہیں اور انہیں وزارتِ اعلیٰ کا منصب اللہ اور پنجاب کے عوام نے دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سکوٹر سوار لڑکی پر تشدد کرنے والے ملزم کی بھی ضمانت ہوگئی، جبکہ پیٹرول پمپ کے ملازم کو تشدد کا نشانہ بنانے والے شخص کی بھی اگلے ہی دن ضمانت منظور ہوگئی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ وہ ان معاملات پر عدلیہ سے بات کریں گی تاکہ جرائم میں ملوث افراد کو ایسی سزائیں ملیں کہ وہ دوبارہ جرم کرنے کا سوچیں بھی ناں۔

 

مریم نواز نے کہا کہ وہ لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس کے علاوہ ضرورت پڑنے پر چیف جسٹس پاکستان سے بھی ملاقات کریں گی تاکہ پنجاب میں خواتین، بچوں اور دیگر شہریوں کے تحفظ کے لیے مل کر کام کیا جا سکے۔ دوسری جانب ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان اور قانونی ماہرین کے اعتراضات کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ مظلوموں کو تحفظ فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ضرور ہے، لیکن اس مقصد کے لیے قانون کو ہاتھ میں لینے یا زیرِحراست ملزمان کو تشدد کا نشانہ بنانے کی حوصلہ افزائی نہیں کی جاسکتی۔ ان کے مطابق جرائم کے خاتمے اور شہریوں کو انصاف کی فراہمی کے لیے مؤثر پولیسنگ، شفاف تفتیش اور عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد ضروری ہے۔

Back to top button