عدلیہ کا جنازہ: سڑک بلاک کرنے پر ایمان کو 10 سال قید

 

 

 

 

اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے تب ایک نئی اور شرمناک تاریخ رقم کر دی جب انسانی حقوق کی وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کو سڑک سے سکیورٹی بیریئر ہٹانے کے جرم میں دس، دس سال قید اور جرمانے کی سزا سنا دی گئی۔ انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے اڈیالہ جیل میں محفوظ مختصر فیصلہ سناتے ہوئے دونوں ملزمان کو تین مختلف قانونی دفعات کے تحت سزا سنائی، جبکہ عدالت نے حکم دیا کہ تمام سزائیں بیک وقت چلیں گی، جس کے نتیجے میں انھیں زیادہ سے زیادہ دس سال قید بھگتنا ہوگی۔

 

ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ پر الزام تھا کہ انھوں نے 25 اکتوبر 2024 کو پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان راولپنڈی ٹیسٹ میچ کے دوران اسلام آباد کے زیرو پوائنٹ پر لگائی گئی سکیورٹی رکاوٹیں ہٹا کر کارِ سرکار میں مداخلت کی اور پولیس اہلکاروں پر تشدد کیا۔ دونوں ملزمان ان الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں۔ اس مقدمے کی سماعتیں اڈیالہ جیل میں ہوتی رہی ہیں، جہاں دونوں گزشتہ کئی ماہ سے قید ہیں۔

 

عدالتی فیصلے کے مطابق ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کو پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 186 کے تحت کارِ سرکار میں مداخلت کے جرم میں ایک سال قید اور 50 ہزار روپے جرمانے، جبکہ دفعہ 353 کے تحت سرکاری ملازم کو فرائض کی انجام دہی سے روکنے اور اس پر حملے کے جرم میں دو سال قید اور 50 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی۔ انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت دونوں کو دس سال قیدِ سخت اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا بھی دی گئی۔ جرمانے ادا نہ کرنے کی صورت میں اضافی قید بھگتنا ہوگی، جبکہ ضابطۂ فوجداری کی دفعہ 382-بی کے تحت پہلے سے زیرِ حراست گزارا گیا وقت بھی سزا میں شمار ہوگا۔

 

ایمان مزاری نے ضابطۂ فوجداری کی دفعہ 342 کے تحت اپنے بیان میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ وہ وقوعے کے روز ایک مقدمے کی پیروی کے لیے انسدادِ دہشت گردی عدالت جا رہی تھیں، لیکن غیر ملکی کرکٹ ٹیم کے لیے روٹ لگائے جانے کے باعث پولیس نے سڑک بند کر رکھی تھی۔ ان کے مطابق پولیس اہلکاروں نے بتایا تھا کہ ٹیم متبادل راستے سے اسٹیڈیم پہنچ چکی ہے، اس کے باوجود سڑک نہیں کھولی گئی۔ انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ پولیس کے پاس سڑک بند کرنے کے لیے مجسٹریٹ کا تحریری حکم موجود نہیں تھا اور استغاثہ بھی دورانِ سماعت ایسا کوئی حکم نامہ پیش نہیں کر سکا۔

 

ایمان مزاری کا کہنا تھا کہ انھوں نے تقریباً پندرہ منٹ انتظار کرنے کے بعد پولیس اہلکاروں سے سڑک کھولنے کی درخواست کی کیونکہ اس بندش سے شہریوں کے نقل و حرکت کے آئینی حقوق متاثر ہو رہے تھے۔ انھوں نے الزام عائد کیا تھا کہ ایک سادہ لباس پولیس اہلکار نے ان پر لوہے کا راڈ پھینکا جس سے وہ زخمی ہوئیں، جبکہ ان کے شوہر نے انھیں تشدد سے بچانے کے لیے دفاع میں ردعمل دیا۔ ان کے مطابق پمز ہسپتال کی میڈیکل رپورٹ بھی عدالت میں جمع کرائی گئی تھی، تاہم استغاثہ کسی پولیس اہلکار کے زخمی ہونے کا ثبوت پیش نہیں کر سکا۔

 

ایمان مزاری نے استغاثہ پر ویڈیو شواہد چھپانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ مقدمے میں تمام گواہ پولیس اہلکار تھے اور کوئی آزاد یا نجی گواہ پیش نہیں کیا گیا۔ انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کے خلاف مقدمات جبری گمشدگیوں کے متاثرین کی قانونی پیروی، انسانی حقوق کے لیے آواز اٹھانے اور مفت قانونی خدمات فراہم کرنے کی وجہ سے قائم کیے گئے۔ ان کے مطابق سپریم کورٹ سے ضمانت ملنے کے باوجود انھیں اڈیالہ جیل کے اندر سے دوبارہ گرفتار کیا گیا، تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور اپنے شوہر کے ساتھ پنجرے میں رکھ کر ٹرائل کیا گیا، جبکہ وکلا تک رسائی بھی نہیں دی گئی۔

ہیومن رائٹس کمیشن مریم نواز پر برہم کیوں ہو گیا؟

ہادی علی چٹھہ نے اپنے بیان میں اہلیہ کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا تھا کہ وقوعے کے روز پولیس اہلکاروں نے خود تسلیم کیا تھا کہ راستہ صرف پندرہ منٹ کے لیے بند کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق ایک پولیس اہلکار نے ایمان مزاری پر حملہ کیا جس کے بعد انھوں نے اپنی اہلیہ کے دفاع کے لیے جوابی اقدام کیا۔ انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ پمز ہسپتال کی میڈیکل رپورٹ ان کی اہلیہ کو لگنے والی چوٹوں اور پولیس تشدد کی تصدیق کرتی ہے، جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے جوڈیشل ریمانڈ معطل کیے جانے کے بعد بھی فرانزک اور وائس میسجنگ سمیت تفتیشی کارروائیاں جاری رکھی گئیں۔

 

واضح رہے کہ جنوری 2026 میں اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت نے متنازع ٹویٹس کے مقدمے میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو مجموعی طور پر 17، 17 سال قیدِ بامشقت کی سزا سنائی تھی، تاہم اگست 2026 میں سپریم کورٹ نے ان کی سزا معطل کرتے ہوئے ضمانت پر رہائی کا حکم دیا تھا۔ رہائی کے فوراً بعد دونوں کو اڈیالہ جیل ہی سے سڑک پر بیریئر ہٹانے کے مقدمے میں دوبارہ گرفتار کر لیا گیا تھا، جس میں اب انسدادِ دہشت گردی عدالت نے انھیں دس، دس سال قید اور جرمانے کی سزا سنا دی ہے۔

 

Back to top button