سہیل آفریدی کو غائب ہوئے 20 روز گزر گئے لیکن پارٹی خاموش

 

 

 

 

 

عمران خان کی رہائی کے لیے ناکام لانگ مارچ نکالنے والے خیبر پختونخوا کے معطل وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی گمشدگی کو 20 روز گزر گئے، لیکن نہ تو انکا سراغ مل سکا ہے اور نہ ہی انکی بازیابی کے لیے ان کی جماعت سڑکوں پر نکل پائی ہے۔

 

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ناکام لانگ مارچ اور اس کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال نے ثابت کر دیا ہے کہ تحریک انصاف کی سٹریٹ پاور ختم ہو چکی ہے اور اب عمران اور ان کی جماعت کی حمایت میں عوام سڑکوں پر نکلنے کو تیار نہیں۔ مقبولیت کے بلند بانگ دعوؤں کے باوجود بڑے پیمانے پر احتجاج کرنے میں ناکامی نے پی ٹی آئی کے تنظیمی ڈھانچے، قیادت کی حکمت عملی اور کارکنوں سے رابطوں کی کمزوریوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔

 

سہیل آفریدی کی گمشدگی کے معاملے میں تحریک انصاف کی جانب سے اب تک کوئی مؤثر عوامی احتجاج یا ان کی بازیابی کے لیے منظم مہم سامنے نہیں آ سکی، البتہ ان کے بھائی نے ان کی بازیابی کے لیے عدالت سے رجوع کیا تھا، جہاں یہ معاملہ تاحال زیر التوا ہے۔ دو ہفتے گزرنے کے باوجود سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے بارے میں واضح معلومات سامنے نہیں آ سکیں کہ وہ کہاں اور کس حالت میں ہیں۔ دوسری جانب وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ سہیل آفریدی ایک گیسٹ ہاؤس میں حفاظتی حراست میں ہیں، تاہم ان کے مقام اور صورت حال کے حوالے سے غیر یقینی برقرار ہے۔ ان حالات میں یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ عمران خان کی رہائی کے لیے لانگ مارچ کرنے والی جماعت اپنے ہی صوبے کے سابق وزیراعلیٰ کی بازیابی کے لیے مؤثر سیاسی دباؤ کیوں نہیں ڈال سکی۔

 

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے خلاف مزاحمت اور عمران خان کی رہائی کے لیے مؤثر احتجاجی تحریک چلانے میں ناکامی کی بنیادی وجوہات میں کمزور تنظیمی ڈھانچہ، پارلیمانی سیاست پر ضرورت سے زیادہ انحصار اور کارکنوں کو متحرک کرنے کے لیے منتخب نمائندوں پر بڑھتا ہوا انحصار شامل ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سیاسی مقبولیت کے باوجود جب کوئی جماعت مضبوط تنظیمی نیٹ ورک قائم کرنے میں ناکام رہے تو اس کے لیے عوامی حمایت کو مؤثر احتجاجی قوت میں تبدیل کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

 

تجزیہ کاروں کے مطابق تحریک انصاف نے اپنی مقبولیت کو مستحکم تنظیمی قوت میں تبدیل کرنے کے بجائے پارلیمانی سیاست کو زیادہ اہمیت دی، جس کے نتیجے میں کارکنوں اور تنظیمی عہدیداروں کے درمیان رابطے کمزور پڑ گئے۔ احتجاجی سرگرمیوں کے لیے کارکنوں کو متحرک کرنے کی ذمہ داری بھی زیادہ تر ارکان اسمبلی، وزرا اور دیگر منتخب نمائندوں پر ڈال دی گئی۔ ان کے بقول اگر پارٹی کا تنظیمی ڈھانچہ مضبوط اور مقامی سطح پر فعال ہوتا تو گورنر راج کے خلاف خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں بیک وقت بڑے مظاہرے کیے جا سکتے تھے، لیکن موجودہ صورتحال میں ایسا کوئی مؤثر عوامی ردعمل سامنے نہیں آ سکا۔

 

پارٹی کے اندر باقاعدہ تنظیمی انتخابات کا تسلسل نہ ہونا بھی تحریک انصاف کی کمزوریوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔ طویل عرصے سے تنظیمی عہدوں پر باقاعدہ الیکشن کی بجائے نامزدگیوں کے ذریعے عہدیدار مقرر کیے جانے کے باعث قیادت کے انتخابی مینڈیٹ اور کارکنوں سے براہ راست رابطے پر سوالات اٹھتے رہے ہیں۔

 

موجودہ پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر خان، سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا اور خیبر پختونخوا کے صوبائی صدر جنید اکبر سمیت متعدد عہدیداروں کی نامزدگیوں کے حوالے سے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کارکنوں کو قیادت کے انتخاب میں براہ راست شریک نہ کرنے سے تنظیمی عہدوں کی اہمیت اور کارکنوں کو متحرک کرنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔

ان کے مطابق تحریک انصاف میں بعض مواقع پر وزیر اعلیٰ، وزرا اور ارکان اسمبلی کو مرکزی اور صوبائی تنظیمی عہدیداروں سے زیادہ سیاسی اثر و رسوخ حاصل رہا ہے۔ عمران خان کی رہائی کے لیے احتجاجی سرگرمیوں میں بھی تنظیمی قیادت کا کردار نسبتاً محدود دکھائی دیا، جبکہ کارکنوں کو سڑکوں پر لانے کی ذمہ داری زیادہ تر منتخب نمائندوں پر مرکوز رہی۔ اس طرز سیاست کا نتیجہ یہ نکلا کہ احتجاجی تحریک کی کامیابی مضبوط تنظیمی تیاری اور مقامی سطح پر کارکنوں کی منظم صف بندی کے بجائے نمائندوں کے اثر و رسوخ، وسائل اور دستیابی سے مشروط ہو گئی۔

 

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کی حالیہ مشکلات کو صرف حکومتی اقدامات یا سیاسی دباؤ کے تناظر میں نہیں دیکھا جا سکتا بلکہ پارٹی کی اندرونی تنظیمی کمزوریاں بھی اس صورت حال میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق ناکام لانگ مارچ کے بعد خیبر پختونخوا میں پیدا ہونے والی صورتحال نے یہ سوال بھی نمایاں کر دیا ہے کہ اگر ایک مقبول سیاسی جماعت اپنے کارکنوں کو بڑے پیمانے پر متحرک نہیں کر سکتی تو اس کی عوامی مقبولیت کو عملی سیاسی طاقت میں تبدیل کرنے کی صلاحیت کس حد تک مؤثر ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق تنظیمی سیاست پر پارلیمانی سیاست کو ترجیح دینے کا رجحان صرف تحریک انصاف تک محدود نہیں بلکہ جمعیت علمائے اسلام، عوامی نیشنل پارٹی، مسلم لیگ اور دیگر سیاسی جماعتوں میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ اس طرز عمل کے باعث سیاسی سرگرمیاں منتخب نمائندوں اور حکومتی عہدوں کے گرد سمٹ جاتی ہیں، جبکہ مقامی تنظیموں اور کارکنوں کا کردار محدود ہو جاتا ہے۔ تاہم تحریک انصاف کے لیے یہ مسئلہ اس لیے زیادہ اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ اس کی سیاسی حکمت عملی میں احتجاج اور عوامی اجتماعات کو بنیادی حیثیت حاصل رہی ہے، لیکن حالیہ واقعات میں یہی حکمت عملی مطلوبہ نتائج دینے میں ناکام دکھائی دی ہے۔

کیاالیکشن ریفارمز پر حکومت اور اپوزیشن ایک پیج پر آ پائیں گے؟

تجزیہ کاروں کے مطابق تحریک انصاف کے لیے اصل چیلنج اپنی مقبولیت کے دعوؤں کو ایک مضبوط، منظم اور مستقل سیاسی قوت میں تبدیل کرنا ہے۔ اس کے لیے تنظیمی ڈھانچے کی بحالی، کارکنوں سے مسلسل رابطے، باقاعدہ اندرونی انتخابات اور مقامی سطح پر فعال نیٹ ورک کی تشکیل ناگزیر ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سہیل آفریدی کی گمشدگی کے معاملے پر مؤثر عوامی احتجاج نہ کر پانا اور لانگ مارچ کے مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہونا پارٹی کے لیے ایک بڑا سیاسی دھچکا ہے، جس نے یہ سوال مزید گہرا کر دیا ہے کہ آیا تحریک انصاف اپنی تنظیمی کمزوریوں پر قابو پا کر دوبارہ عوام کو سڑکوں پر لانے کی صلاحیت حاصل کر سکے گی یا اس کی مقبولیت کے دعوے عملی سیاست میں اسی طرح آزمائش کا شکار رہیں گے۔

Back to top button