لیگی قیادت نے پارٹی بچانے کے لیے سیاست شروع کر دی

سینیئر صحافی سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے اپنی جماعت کو بچانے کے لیے بالآخر سیاست شروع کردی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نون لیگ کا اس وقت سب سے بڑا مسئلہ اعلیٰ قیادت اور ووٹر کے درمیان بڑھتا ہوا خلا ہے، جسے ختم کیے بغیر پارٹی کے لیے اپنا سیاسی ووٹ بینک مضبوط بنانا مشکل ہوگا۔
روزنامہ جنگ کے لیے اپنے تجزیے میں سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے طویل عرصے تک غیر سیاسی طرز حکمرانی اختیار کیے رکھنے کے بعد اب سیاسی سرگرمیوں کا آغاز کردیا ہے۔ خیبر پختونخوا میں مسلم لیگ (ن) کا پارٹی اجلاس بلانا اس سلسلے کی اہم پیش رفت ہے، کیونکہ وزیراعظم نے ایک طویل عرصے سے اپنی جماعت کے نام اور تنظیم دونوں کو نظرانداز کر رکھا تھا۔ حالیہ دنوں میں دانش سکولوں اور دانش یونیورسٹی کی تشہیر، طلبہ میں کروم بکس کی تقسیم اور حمزہ شہباز کی وزیراعظم سیکرٹریٹ میں مسلسل موجودگی بھی نونی سیاست کے دوبارہ متحرک ہونے کی علامات ہیں۔
سہیل وڑائچ کے مطابق شہباز شریف نے وزیراعلیٰ پنجاب کی حیثیت سے 2013 کے انتخابات سے قبل نوجوانوں میں لیپ ٹاپ تقسیم کرکے نوجوان ووٹرز کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی تھی اور اب اسی تجربے کو دہراتے ہوئے یونیورسٹیوں اور مدارس کے طلبہ میں کروم بکس تقسیم کی جارہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حالیہ چند ہفتوں کے اقدامات سے واضح ہوتا ہے کہ وزیراعظم نے طویل غیر سیاسی گورننس کے بعد سیاسی سرگرمیوں اور جماعتی امور پر توجہ دینا شروع کردی ہے۔
سینیئر صحافی کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت پر سیاست نہ کرنے، اپنا سیاسی بیانیہ تشکیل نہ دینے اور معیشت میں انقلابی تبدیلیاں نہ لانے کے حوالے سے تنقید بڑھ رہی تھی۔ وزیراعظم مسلسل پانچ بجٹ پیش کرچکے ہیں لیکن حکومت کے دور عروج کے گزرنے اور زوال شروع ہونے کے تجزیے بھی سامنے آنے لگے تھے۔ جولائی میں نظام کی ناکامی کے اعلان اور مسلسل سیاسی و انتظامی جھٹکوں کے بعد بالآخر حکومت کو سیاست اور سیاسی بیانیے کی اہمیت کا احساس ہوا ہے۔
ان کے بقول خلیجی جنگوں کے باعث فی الحال معاشی خوشحالی کے امکانات محدود ہیں، اس لیے حکومت کو سیاسی بیانیے، پریس کانفرنسوں، جلسوں اور انٹرویوز کے ذریعے اپنی کارکردگی اور موقف عوام تک پہنچانا چاہیے۔ سہیل وڑائچ کے مطابق مسلم لیگ (ن) کی قیادت ماضی میں یہی کہتی رہی ہے کہ ابھی سیاست کی گنجائش نہیں اور جب مناسب وقت آئے گا تو بھرپور سیاست کی جائے گی۔ اب بظاہر حکومت کو وہ وقت میسر آگیا ہے، تاہم اس کے پیچھے نئے نظام کی آمد اور نئے سیاسی چہروں کے متعارف ہونے سے پیدا ہونے والے خدشات بھی کارفرما ہوسکتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ خیبر پختون خوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد پندرہ سال سے نظام کا حصہ رہنے والی پی ٹی آئی اب اس سے باہر ہو گئی ہے، جبکہ پیپلز پارٹی کے طاقتور حلقوں کے ساتھ تعلقات میں بھی اتار چڑھاؤ رہتا ہے۔ ایسے حالات میں شہباز شریف کے لیے سیاسی سرگرمیوں کی گنجائش پیدا ہوئی ہے۔ سینیئر صحافی کا کہنا ہے کہ اگرچہ بظاہر مسلم لیگ (ن) کے لیے سیاسی سرگرمیاں شروع کرنے کا یہ موزوں وقت ہے، لیکن تحریک انصاف کے حامیوں میں مایوسی اور غصہ بھی بڑھ رہا ہے۔ ان کے بقول انصافی ووٹرز کی مسلسل سیاسی ناکامیوں اور بالآخر سیاسی میدان سے باہر کیے جانے کے تاثر نے ان کے جذبات کو مزید بھڑکایا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کو اپنی سیاسی گاڑی آگے بڑھانی ہے تو اسے سیاسی درجہ حرارت کم کرنا ہوگا، کیونکہ کشیدہ ماحول میں سیاسی پیش رفت مشکل ہوجاتی ہے۔ اس لیے حکومت کو سیاسی مخالفین سب سے معاملات بہتر کرنا ہوں گے۔
سہیل وڑائچ نے آئندہ دو ماہ کو بھی اہم قرار دیا ہے کیونکہ اس دوران نئے صوبوں، بلدیاتی نظام اور مستقبل کے سیاسی ڈھانچے سے متعلق آئینی امور زیر بحث آنے کا امکان ہے۔ ان کے مطابق مارچ سے پہلے آئینی ایجنڈا نئی شکل اختیار کرسکتا ہے، تاہم یہ دیکھنا ہوگا کہ پیپلز پارٹی ان معاملات میں مسلم لیگ (ن) کا ساتھ دیتی ہے یا کوئی الگ راستہ اختیار کرتی ہے۔ بظاہر نون لیگ نئے صوبوں کی تشکیل کی مخالفت نہیں کرنا چاہتی، لیکن پنجاب میں نئے صوبے بننے اور اس کے نتیجے میں اپنے اقتدار و اختیار میں کمی کے حوالے سے اس کے تحفظات موجود ہیں۔
انہوں نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی موجودہ حکمت عملی یہ دکھائی دیتی ہے کہ سیاسی طوفان اور ناموافق حالات کے دوران محاذ آرائی سے گریز کیا جائے اور حالات سازگار ہونے کا انتظار کیا جائے۔ سیاست میں کبھی سکڑنا اور کبھی پھیلنا پڑتا ہے اور ہر مرحلے پر بھرپور سیاسی سرگرمیوں کی گنجائش نہیں ہوتی۔ ان کے بقول نون لیگ نے خیبر پختونخوا میں پارٹی اجلاس بلا کر تنظیم کو متحرک کرنے کی کوشش ضرور کی ہے، لیکن اس کا سب سے بڑا سیاسی مفاد اور ووٹ بینک پنجاب میں ہے، جہاں وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف روزانہ نئے ترقیاتی منصوبوں اور پروگراموں کا اعلان کررہی ہیں۔
سہیل آفریدی کو غائب ہوئے 20 روز گزر گئے لیکن پارٹی خاموش
سہیل وڑائچ کے مطابق اب اصل سوال یہ ہے کہ مریم نواز کے ترقیاتی منصوبوں سے صرف ان کی ذاتی سیاسی حیثیت مضبوط ہورہی ہے یا مسلم لیگ (ن) کے ووٹ بینک میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نون لیگ کا سب سے بڑا مسئلہ اعلیٰ قیادت اور ووٹر کے درمیان خلا ہے، جبکہ کمزور تنظیمی ڈھانچے اور گورننس کو مکمل طور پر غیر سیاسی رکھنے کے باعث پارٹی ورکرز اور درمیانی درجے کی قیادت حکومتی ترقیاتی منصوبوں کی سیاسی ذمہ داری اور اونر شپ لینے سے قاصر ہیں۔ اس صورتحال میں حکومتی اقدامات سے قیادت کا ذاتی قد تو بلند ہوسکتا ہے لیکن پارٹی کو نئے ووٹرز نہیں ملتے۔ ان کے بقول مسلم لیگ (ن) نے بالآخر سیاست شروع کردی ہے، لیکن اسے کامیاب بنانے کے لیے کارکنوں اور ارکان اسمبلی کو بھی سیاسی اونر شپ دینا ہوگی۔
