’’دما دم مست قلندر‘‘ برصغیر کی معروف دھمال کیسے بنی؟

برصغیر پاک و ہند میں ہمیشہ صوفیانہ رنگ غالب رہا ہے، اولیائے اکرام کو اس سرزمین کی شان تصور کیا جاتا ہے اور اس صوفیانہ رنگ میں دھمال کا ہمیشہ کلیدی کردار رہا ہے، ’’دَما دَم مست قلندر‘‘ کو برصغیر کی معروف دھمال قرار دیا جاتا ہے، اس دھمال کو مختلف گلوکاروں نے صوفیانہ رنگ میں گایا ہے۔دھمال صوفیانہ رنگ اپنانے والوں پر ایسا وجد طاری کرتی ہے کہ وہ دیوانہ وار جُھوم اٹھتے ہیں، مزارات کے باہر اکثر دنیائے فانی سے بے نیاز صوفیانہ رنگ میں رنگے افراد ڈھول کی تھاپ پر اس صوفیانہ کلام میں محو و مست نظر آتے ہیں۔اس دھمال کو ملکہ ترنم نور جہاں، نصرت فتح علی،عابدہ پروین، شفقت امانت علی، سائرہ پیٹر، کومل رضوی، حدیقہ کیانی، شازیہ خشک سمیت درجنوں گلوکاروں نے گایا، بھارت کے صفِ اول کے پاپ سنگر مِیکا سنگھ، ہنس راج ہنس اور ریچا شرما نے بین الاقوامی کنسرٹس میں اپنے انداز سے پیش کیا، آج بھی دُنیا بھر کی محفلِ سماع اور بڑے میوزیکل کنسرٹس میں سب سے زیادہ فرمائش ’’قلندری دھمال‘‘ کی ہوتی ہے، مختلف سیاست دانوں نے بھی اپنے بڑے جلسوں میں استعمال کرتے ہوئے کہا کہ ’’اب دما دم مست قلندر‘‘ ہوگا ہو لال مری، پت رکھيو بھلا جُھولے لالن، سندھڑی دا، سيہون دا، شہباز قلندر، دما دم مست قلندر، سخی شہباز قلندر۔ یہ وہ قلندری دھمال ہے، جسے برصغیر پاک و ہند کی محفلِ سماع اور بڑے میوزیکل کنسرٹس میں سب سے زیادہ گایا جاتا ہے، اس دھمال کا سفر درگاہوں پر منعقدہ عرس کے موقع پر ہونے والی محفلِ سماع سے شروع ہو کر جدید میوزیکل کنسرٹس تک پہنچا۔اس دھمال کو فوک کا درجہ حاصل ہے، دھمال ’’دمادم مست قلندر‘‘سماعتوں میں ایسا رَس گھولتی ہے کہ سننے والے پر ایک وجد کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے اور وہ بے خود ہو کر جُھومنے پر مجبور ہو جاتا ہے، یہ دھمال، سینہ بہ سینہ مختلف تبدیلیوں کے ساتھ ہم تک پہنچی ہے، آج کے جدید دور میں بھی اس قلندری دھمال کی مقبولیت میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔ ’’دمادم مست قلندر‘‘ ملکہ ترنم نورجہاں سے لے کر استاد نصرت فتح علی خان، عابدہ پروین،رُونا لیلیٰ، حدیقہ کیانی، عابدہ خانم، حمیرا ارشد، صُوفی سنگر سائرہ پیٹر،شازیہ خشک، کومل رضوی، شفقت امانت علی، راحت فتح علی خان سمیت بھارت کے صفِ اول کے پوپ سنگر میکا سنگھ ،ہنس راج ہنس اور ریچا شرما نے بھی اپنے اپنے انداز سے دنیا بھر کے کنسرٹس میں پیش کیا، بھارت کے صفِ اول کے گلوکار میکا سنگھ نے دھمال کو ایک نیا رنگ دیا، جسے نوجوانوں نے بہت سراہا، جبکہ نصرت فتح علی خان نے اسے مختلف انداز سے کمپوز کیا ’’دم مست قلندر مست مست‘‘ کو نصرت فتح علی خان کی آواز میں بے حد پسند کیا گیا، گلوکارہ عابدہ پروین نے مختلف دھمالیں اپنی آواز میں ریکارڈ کروائیں، اُن کی آواز میں ’’تیرا سہیون رہے آباد مست سوہنا لعل قلندر‘‘کو شاندار پذیرائی حاصل ہوئی۔ نئی نسل کی گلوکارہ کومل رضوی نے کوک سٹوڈیو میں دمادم مست قلندر گاکر خُوب شہرت حاصل کی۔ صُوفی سنگر سائرہ پیٹر، فوک سنگر، شازیہ خشک اور صنم ماروی کی آواز میں بھی دھمال کو پسند کیا گیا علاوہ ازیں کئی سیاست دانوں نے بھی دھمال کو اپنی تقریروں میں استعمال کرتے ہوئے کہا کہ اب ’’دمادم مست قلندر‘‘ ہوگا۔

Back to top button