آئی جی پنجاب کا ذاتی وجوہات کی بنا پرعہدہ چھوڑنے کا فیصلہ

آئی جی پنجاب فیصل شاہکار نے ذاتی وجوہات کی بنیاد پر عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

عہدہ چھوڑنے سے متعلق وفاق کو خط لکھے میں فیصل شاہکار نے کہا کہ وہ ذاتی وجوہات کی بنیاد پر کام جاری نہیں رکھ سکتے۔سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو لکھے گئے خط میں انہوں نے استدعا کی کہ حکومت پنجاب سے میری خدمات فوری واپس لے کر وفاق کے سپرد کر دی جائیں۔

واضح رہے کہ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پنجاب پولیس کے اعلیٰ افسران کو عمران خان پر حملے کی ایف آئی آر تاحال درج نہ کرنے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے،3نومبر کو پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے دوران عمران خان پر حملہ ہوا تھا، تاہم اس واقعے کی ایف آئی آر تاحال درج نہیں کی گئی ہے۔

پاکستانی سیاستدانوں پر خونی حملوں کی تاریخ

معروف اخبار ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی، پولیس کی جانب سے ایف آئی آر درج کرنے میں مبینہ ہچکچاہٹ پر سوالات اٹھا رہی ہے جبکہ پولیس، پارٹی رہنماؤں کی جانب سے اب تک ایف آئی آر درج کرنے کی کوئی درخواست موصول ہونے سے انکار کر رہی ہے۔

سابق وزیر اعظم کی جانب سے ایک اعلیٰ فوجی افسر، وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے اصرار پر پنجاب کی حکمراں اتحادی جماعتوں (پی ٹی آئی اور مسلم لیگ ق) کے درمیان ڈیڈ لاک برقرار ہے،اس دوران یہ افواہیں بھی گرم ہوئیں کہ ایف آئی آر کے اندراج میں ہچکچاہٹ پر صوبائی حکومت انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) فیصل شاہکار کا تبادلہ کرنے جارہی ہے۔

اس سے پہلے عمران خان نے ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا تھا کہ جن 3 لوگوں پر انہوں نے اپنے قتل کی منصوبہ بندی کرنے کا الزام عائد کیا ہے ان تینوں کے خلاف ایف آئی آر بھی درج نہیں کی جارہی ہے، جب تک وزیر اعظم شہباز شریف، وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ اور ’ایک‘ میجر جنرل مستعفی نہیں ہوتے اس وقت تک شفاف تحقیقات نہیں ہو سکتی۔

تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے گزشتہ روز نے بھی ایک بیان میں کہا تھا کہ عمران خان پر حملے کی ایف آئی آر کے حوالے سے کچھ لوگ بے بس دکھائی دیتے ہیں، سابق وزیراعظم پر حملہ ہوا اور تھانہ لیت و لعل سے کام لے رہا ہے، اگر آئی جی پنجاب، عمران خان پر حملے کی ایف آئی آر درج نہیں کرا سکتے تو عہدہ چھوڑ دیں۔

Related Articles

Back to top button