اکشے کمار نے IPL ٹیم دہلی کو بھاری نقصان سے کیسے بچایا؟

معروف بھارتی اداکار اکشے کمار نے IPL کے ساتھ جڑنے کیلئے ٹیم کی تشہیری فلموں کی شوٹنگ، استقبالیہ اور دیگر تقریبات میں شرکت کیلئے دہلی ڈیئر ڈیولز کیساتھ تین سال کے معاہدے پر دستخط کیے لیکن ٹیم انتظامیہ جلد معاشی مشکلات کا شکار ہوگئی، ٹیم کو مزید نقصان سے بچانے کیلئے اکشے کمار نے معاہدہ ختم کر دیا۔معروف کرکٹ منتظم امرت ماتھر نے اپنی سوانح حیات ’پچ سائیڈ: مائی لائف ان انڈین کرکٹ‘ میں تفصیل سے بتایا کہ کس طرح اکشے نے ٹیم کی تشہیری فلموں کی شوٹنگ، استقبالیہ اور دیگر تقریبات میں شرکت کیلئے ڈیئر ڈیولز کے ساتھ تین سال کے معاہدے پر دستخط کیے، اکشے کمارآئی پی ایل ٹیم دہلی ڈیئر ڈیولز (ڈی ڈی) کو بھاری نقصان سے بچا چکے ہیں۔انڈین ایکسپریس کے مطابق اکشے فوری طور معاوضہ چھوڑنے پر تیار ہو گئے حالانکہ ان کی ٹیم اس سلسلے میں پوری طرح سے قائل نہیں تھی، معروف کرکٹ منتظم امرت ماتھر نے اپنی سوانح حیات ’پچ سائیڈ: مائی لائف ان انڈین کرکٹ‘ میں تفصیل سے بتایا کہ کس طرح اکشے نے ٹیم کی تشہیری فلموں کی شوٹنگ، استقبالیہ اور دیگر تقریبات میں شرکت کیلئے ڈیئر ڈیولز کے ساتھ تین سال کے معاہدے پر دستخط کیے۔کوٹلہ سٹیڈیم میں اکشے کے ٹیم کے لیے زبردست کام کے باوجود ٹیم ان سے خاطر خواہ فائدہ نہ اٹھا سکی، سیزن کے اختتام پر ٹیم کو سنگین مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا، ٹیم نے اکشے کے ساتھ معاہدے کو منسوخ کرنے یا اس پر دوبارہ بات چیت کرنے کا فیصلہ کیا، ماتھر کے مطابق اکشے کا ٹیم کے ساتھ معاہدہ قبل از وقت ختم نہیں کیا جا سکتا تھا، ٹیم نے انہیں تین سال تک کام کرنے کی ضمانت دی تھی، جب ٹیم کے وکلا نے دوبارہ مذاکرات کی کوشش کی تو انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔اکشے کے وکلا کا کہنا تھا کہ معاہدے میں تبدیلیوں کی اجازت نہیں، ماتھر لکھتے ہیں کہ ’تباہ کن مالی نتائج اور کفایت شعاری کو مدنظر رکھتے ہوئے، فلم سٹار ایسی مالی ذمہ داری بن گئے، یہ جانتے ہوئے کہ کوئی قانونی راستہ دستیاب نہیں، ٹیم نے اکشے سے رحم کی اپیل کی۔ماتھر نے کہا کہ ان پر مسئلہ حل کرنے کی ذمہ داری تھی، کس طرح وہ ’چاندنی چوک ٹو چائنا‘ کی شوٹنگ کے دوران اکشے کمار کے ساتھ ملے۔ جب ماتھر نے اکشے کو ٹیم کی مالی پریشانیوں کے بارے میں بتایا تو اکشے کا جواب تھا کہ ’کوئی مسئلہ نہیں جی۔ اگر بات نہیں بن رہی تو چلو اسے ختم کرتے ہیں۔‘ مجھے لگا کہ میں ان کی بات ٹھیک سے نہیں سنی، مجھے تذبذب کا شکار دیکھ کر انہوں نے آہستہ سے کہا اس کو ختم کر دیتے ہیں، جب میں معاہدے کی سخت شرائط کے بارے میں بات کی تو انہوں نے دوبارہ یقین دلایا کہ ’کوئی بات نہیں، میں لایئر کو بول دوں گا۔ اتنے برسوں کے بعد بھی میں حیران ہوں کہ اکشے نے اتنی بڑی رقم معاف کر دی جیسے کوئی فوری فیصلہ کرتا ہے حالاںکہ وہ ہمیں معاہدے کی شرائط پوری کرنے پر مجبور کر سکتے تھے۔
