بالی ووڈانڈسٹری الیکشن کے دوران مودی کی معاون کیوں بن گئی؟

بھارتی سینمائوں کو سیاست کیلئے استعمال کرنے کا سہرا بھارتیہ جنتا پارٹی کے سر جاتا ہے، اب بھارت میں سینما اور سیاست کا چولی دامن ساتھ بن چکا ہے، انڈیا میں 19 اپریل سے یکم جون 2024 تک تاریخ کا سب سے بڑا انتخابی عمل ہونے جا رہا ہے جس کے دوران سیاسی جماعتیں دوسرے ذرائع کے علاوہ سینیما کے ذریعے بھی رائے دہندگان کے فیصلوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہی ہیں۔مودی حکومت ٹیکس چھوٹ دینے اور ریگولیٹری پابندیوں کو ختم کر کے بی جے پی کے نظریے کو فروغ دینے والی فلموں کی کھلے عام حمایت کرتی ہے، مثال کے طور پر ہندو قوم پرستی کے پرجوش حامی کی زندگی پر بننے والی فلم ’سوتنتریہ ویر ساورکر‘ 2024 کے انتخابات کے لیے پولنگ شروع ہونے سے چند ہفتے قبل ریلیز کی گئی۔ انڈیا کی تفریحی فلم انڈسٹری ایک پیچیدہ صنعت ہے جو سالانہ تقریباً ڈیڑھ ہزار فلمیں ریلیز کرتی ہے، اور اس کے شائقین صرف انڈیا میں نہیں بلکہ دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ہیں۔سینیما اور سیاست کے درمیان اسی تعلق نے اسے متعدد کرشماتی سیاست دانوں کے طویل کیریئر کا بنیادی ذریعہ بنا دیا۔ سینیما گھر میں فلم دیکھنا ایک اہم اور خوشگوار تجربہ ہے جو بڑے پیمانے پر ناظرین کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔ ماہر سماجیات لکشمی سری نواس نے اپنی 2016 کی کتاب ’ہاؤس فل‘ میں تفصیل سے بیان کیا ہے کہ انڈیا میں انتہائی متوقع بلاک بسٹر فلموں کی ریلیز ایک تہوار کی مانند ہوتی ہے۔ تمل ناڈو کی سینیما انڈسٹری، انڈیا کے کسی بھی دوسرے علاقے سے زیادہ، 1940 کی دہائی کے بعد سے اس خطے میں ہونے والے سیاسی اور سماجی ارتقا کے ساتھ ساتھ آگے بڑھی ہے۔ تمل قوم پرستی کے نظریات کو تفریحی فلموں کے ذریعے طاقتور طریقے سے پیش کیا گیا جنہوں نے ایک سیاسی تحریک کی شکل میں تمل ناڈو میں تاریخ کا رخ بدل دیا۔مودی کی قیادت میں، فلموں کے ایک گروپ میں تین موضوعات ابھر کر سامنے آئے ہیں، جو بی جے پی کے مقاصد اور پالیسیوں کی پشت پناہی کرتے ہیں اور پارٹی ان کی حمایت کرتی ہے، فلاحی اقدامات کا کریڈٹ لینے کا دعویٰ، معاشرے میں ہندو قوم پرست عقائد کو فروغ دینا، اور ہندو اکثریت اور مسلم اقلیتی برادریوں کے درمیان تناؤ بڑھانا۔ایک اور قسم کی فلموں میں دائیں بازو کی ہندو قوم پرست تنظیموں اور ان کے رہنماؤں کی تاریخی وراثت دکھائی گئی ہے۔ فلم ’پی ایم نریندر مودی،‘ جس نے رائے دہندگان کو وزیر اعظم کے غربت سے اٹھنے کی یادہانی کروائی گئی تھی، 2019 کے انتخابات سے ٹھیک پہلے ریلیز ہونے والی تھی لیکن آزاد انہ اور منصفانہ انتخابات کو یقینی بنانے کے ذمہ دار ادارے الیکشن کمیشن آف انڈیا نے حکم دیا کہ فلم کو انتخابات کے بعد ہی ریلیز کیا جا سکتا ہے۔تیسری اور زیادہ پریشان کن صنف سیاسی طور پر تقسیم کرنے والی فلمیں ہیں۔ ان فلموں میں مذہبی منافرت پر مشتمل حقیقی واقعات دکھائے جاتے ہیں جن میں ہندوؤں اور مسلمانوں کی برادریوں کے درمیان تصادم ہوا تھا۔ ان فلموں کے سکرپٹ انتہائی متعصبانہ بیانیے کو ڈرامائی انداز میں پیش کرتے ہیں جن میں ہندوؤں کو متاثرین کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جبکہ مسلمانوں کو ولن قرار دیا جاتا ہے۔اس صنف کی وسیع پیمانے پر دیکھی جانے والی مثالوں میں ’کشمیر فائلز‘ شامل ہیں، جو 1990 کی دہائی کے اوائل میں ریاست کشمیر سے ہندوؤں کی بڑے پیمانے پر نقل مکانی کو ظاہر کرتی ہے جب انہیں کشمیری مسلمانوں کی پاکستان نواز مسلح بغاوت کا نشانہ بنایا گیا تھا۔یہ فلم، جس میں مسلمانوں کو بدنام کیا گیا ہے اور انہیں انتہائی وحشیانہ اور ظالمانہ کارروائیوں کا ارتکاب کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے، ان فلموں میں سے ایک ہے جن کی خود وزیر اعظم نے عوامی طور پر حمایت کی ہے اگر آنے والے انتخابات میں بی جے پی کامیاب ہو جاتی ہے، تو یہ نتیجہ اخذ کرنا مناسب ہوگا کہ انتخابی فتوحات کی اس ہیٹ ٹرک کا ایک عنصر پارٹی کے پروپیگنڈے کے لیے بڑی ذہانت سے سینیما کا استعمال بھی تھا۔

Back to top button