افغانیوں کو پاکستان میں ویزا فری انٹری کی اجازت کیوں ملی؟

افغانیوں کی بڑی تعداد پاکستان میں ویزا فری انٹری ملنے پر شاداں دکھائی دے رہی ہے، حکومت پاکستان نے ایسے افغانیوں کو پاکستان میں ویزا فری انٹری دینے کی دجازت دی ہے جوکہ علاج کی غرض سے پاکستان آنا چاہتے تھے، جبکہ ان کے لواحقین بھی ان کے ساتھ پاکستان آ سکیں گے۔افغان باشندوں کی ایک بڑی تعداد نے حکومت پاکستان کے اس فیصلے کو سراہا ہے، جس کے تحت افغان مریضوں اور ان کی دیکھ بحال کے لیے آنے والوں کو ویزے کے حصول سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔ دونوں ممالک کے مابین گزشتہ کئی ماہ سے جاری کشیدگی کی وجہ سے اب عام حالات میں افغان شہریوں کے لیے پاکستان کا سفر مشکل ہو چکا ہے۔خیبر پختونخوا کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال لیڈی ریڈنگ کےگائنی وارڈ میں زیر علاج ایک افغان خاتون کے قریبی رشتہ دار عبید اللہ نے ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے کہا، "دو دن قبل اپنی اہلیہ کو یہاں داخل کرایا تھا۔ اسے علاج کی وہ تمام سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، جو یہاں مقامی مریضوں کو فراہم کی جاتی ہیں۔ عبیداللہ کے مطابق اس وقت ان کے جان پہچان والے کئی دیگر افغان باشندوں کے مریض بھی یہاں زیرعلاج ہیں، ”ان میں سے کئی دل کے عارضے میں مبتلا ہیں تو بعض کو کینسر، گردوں ،سینے اور معدے کے امراض لاحق ہیں۔لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے ترجمان محمد عاصم نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ یہاں آنے والے تمام افغان باشندوں کو علاج معالجے کی وہ تمام سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، جو کسی بھی مقامی باشندے کو میسر ہیں۔ افغانستان میں زیادہ تر صاحب حیثیت لوگ پشاور میں نجی ہسپتالوں میں علاج کو ترجیح دیتے ہیں لیکن انہیں بھی میڈیکل ویزہ لینے سمیت دیگر حوالوں سے پاکستان میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ خیبر پختونخوا کے ایک نجی ہسپتال میں اپنی مریضہ والدہ کو علاج کے لیے لانے والے حسیب اللہ نے ڈی ڈبلیو کو بتایا،”پاکستان آنا اب ہم لوگوں کے لیے مشکل کردیا گیا ہے، چالیس سال سے حالت جنگ میں رہنے والے افغانستان میں کچھ بھی نہیں ہے اور جب آپ کے پیارے تکلیف میں ہوں تو آپ ان کی مشکل آسان بنانے کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار ہوتے ہیں۔ پشاور کے سات بڑے ہسپتالوں میں افغانوں کو بلا امتیاز علاج کی سہولت فراہم کی جاتی ہے ان میں تین نجی جبکہ چار سرکاری ہسپتال ہیں۔ لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں ہر قسم کے مریضوں کا علاج کیا جاتا ہے۔علاج کے لیے پاکستان کا رخ کرنے والے افغانوں کا کہنا ہے کہ افغانستان میں کوئی قابل ذکر ہسپتال ہے اور نہ ہی کوئی ماہر ڈاکٹر دستیاب ہے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ افغانستان کے زیادہ تر لوگ پاکستان اور باالخصوص پختونخوا میں رہ چکے ہیں، اس لیے انہیں یہاں کے طبی نظام اور ڈاکٹروں پر اعتماد ہے ۔ افغانستان میں ادویات بھی ناپید ہیں اورجو ہیں وہ قابل بھروسہ نہیں۔سابق افغان صدورحامد کرزئی اور ڈاکٹر اشرف غنی کے ادوار میں افغانستان میں کئی نجی ہسپتال قائم تھے اور ان میں گنتی کے چند معروف ڈاکٹر بھی تھے لیکن جونہی طالبان کا دورآیا وہ تین چار ڈاکٹر بھی یورپ اور امریکہ منتقل ہوگئے۔ افغان باشندوں کا کہنا ہے کہ اگر ان کے ہاں اچھے ڈاکٹر ہوتے تو افغان باشندے میڈیکل ویزہ کے لیے ہزاروں ڈالر خرچ کرکے پاکستان نہ آتے۔حکومت پاکستان کی جانب سے حال ہی میں مریض اور اس کی دیکھ بھال کے لیے ایک اٹینڈینٹ کو ویزے کے بغیر آنے کی اجازت دی گئی لیکن پشاور میں مقیم ایک افغان صحافی سادات نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ” پاک افغان سرحد وں باالخصوص طورخم پر حکومتی اعلان کو ردی کی ٹوکری کی نظر کیا جاتا ہے۔ یہاں ایک کمیشن بنایا گیا ہے، جو افغانستان سے آنے والے مریض کے کاغذات چیک کرکے انہیں ملک میں داخل ہونے کی اجازت دیتا ہے لیکن اس کمیشن کے ارکان زیادہ ترافغان ڈاکٹروں کی سفارشات کو مسترد کرتے ہیں اور اس کی بنیاد پر مریضوں کے داخلے پر پابندیاں لگاتے ہیں۔
