شاہ رخ کا والدہ کو بستر مرگ پر دُکھ پہنچانے کا اعتراف

بالی ووڈ دنیا کے بے تاج بادشاہ شاہ رخ خان نے انکشاف کیا ہے کہ جب ان کی والدہ شدید بیمار اور بستر مرگ پر تھیں تو وہ بدقسمتی سے ان کے پاس موجود نہیں تھے جس پر وہ آج بھی نادم ہیں، ایک ٹی وی پروگرام کے دوران شاہ رخ خان نے میزبان انوپم کھیر کو بتایا کہ جب ان کی والدہ بستر مرگ پر تھیں تو وہ ’بترا اسپتال دہلی‘ کے پارکنگ ایریا میں ان کی زندگی کی دعائیں مانگ رہے تھے، وہ آئی سی یو میں تھیں اور ان دنوں مریض کے عزیزواقارب کو آئی سی یو میں داخلے کی اجازت نہیں ہوتی تھی، کسی نے مجھے ایک دعا بتائی اور اسے 100 مرتبہ پڑھنے کا کہا لیکن میں یہ دعا گنے بغیر مسلسل پڑھتا رہا اور پھر ڈاکٹر نیچے آئے اور مجھے کہا کہ آپ آئی سی یو میں جا سکتے ہیں، جس کا مطلب تھا کہ میری والدہ آخری سانسیں لے رہی تھیں۔شاہ رخ خان نے مزید بتایا، میں آئی سی یو میں اپنی والدہ کے پاس جاکر بیٹھا، میں نے ان کے ساتھ بُرا کیا اور انہیں دکھ پہنچاتا رہا، مجھے لگا کہ اگر میں انہیں فکر اور پریشانی میں مبتلا کروں گا تو شاید یہ دنیا چھوڑ کر نہ جائیں لہٰذا میں نے انہیں کہا کہ میں اپنی بہن کا خیال نہیں رکھوں گا، میں پڑھائی چھوڑ دوں گا، میں نے اس وقت ان سے اس طرح چند مزید فضول باتیں کیں لیکن میرا خیال ہے کہ یہ صرف بچگانہ باتیں تھیں۔انہوں نے جانا ہی تھا اور وہ چلی گئیں، شاید وہ ذہنی طور پر مطمئن ہوں کہ میں اپنی بہن کا خیال رکھوں گا اور زندگی ٹھیک سے گزاروں گا، یقیناً مائیں ہمارے بارے میں ہم سے بہتر جانتی ہیں۔اپنی پہلی تنخواہ کے بارے میں بات کرتے ہوئے شاہ رخ خان نے کہا کہ گلوکار پنکج ادھاس کے کنسرٹ میں وہ بطور ہیلپر کام کر رہے تھے، یہ ان کا پہلا کام تھا جس کا انہیں 50 روپے معاوضہ ملا تھا۔ اپنی پہلی تنخواہ سے وہ تاج محل دیکھنے کے لیے آگرہ گئے تھے۔ آج اس بات کو 30 سال گزر چکے ہیں۔ شاہ رخ خان آج ایک ایسے سپر اسٹار ہیں جن کے اثاثوں کی مالیت 6300 کروڑ روپے سے زائد ہے۔ شاہ رخ بالی ووڈ میں اپنے کیریئر کے دوران کئی سپر ہٹ فلموں میں کام کرچکے ہیں۔ انہیں ہالی ووڈ سے بھی کئی مرتبہ کام کی آفرز آئیں مگر انہوں نے ہالی ووڈ فلموں میں کام سے انکار کر دیا۔واضح رہے کہ بالی ووڈ سٹار نومبر 1965 کے دوران دہلی میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام میر تاج محمد خان اور والدہ کا نام لطیف فاطمہ تھا۔ شاہ رخ خان کے والد کا 1981 میں کینسر کے باعث جبکہ ان کی والدہ کا ذیابیطس کی وجہ سے 1991 میں انتقال ہوا۔

Back to top button