ششی کپور کے فن کو ہی ان کا دوسرا جنم کیوں قرار دیا جاتا ہے؟

معروف بالی ووڈ سٹار ششی کپور کو کپور خاندان کی شان کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا، ان کی شخصیت، لہجہ کپور خاندان کے تمام مردوں پر سبقت رکھتا ہے، انھوں نے وہ مقام حاصل کیا جو بہت کم لوگوں کو حاصل ہوا۔وہ ہزاروں دلوں کی دھڑکن تھے۔ الہڑ مٹیاریں ان کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے بے تاب رہا کرتیں، یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ وہ کپور خاندان کے وجیہہ ترین مردوں میں سے ایک تھے اور بالی وڈ کے فنکاروں کی دوسری نسل میں انہوں نے وہ مقام حاصل کیا جو بہت کم لوگوں کو حاصل ہوا۔کپور خاندان کا رُکن ہونے کی وجہ سے کھیلنے کودنے کے دنوں میں بھی سٹوڈیوز میں بیٹھا کرتے مگر 1965 ان کے جیون کے پنوں میں ہمیشہ یادگار رہے گا جب ان کی دو فلمیں باکس آفس پر بلاک بسٹر رہیں۔ ان میں ایک تقسیم سے قبل لاہور کے ہی یش چوپڑہ کی مسالہ فلم ’وقت‘ اور دوسری سورج پرکاش کی رومانوی میوزیکل فلم ’’جب جب پھول کھلے‘‘ تھیں، ان فلموں نے اس نوجوان پنجابی اداکار کی شہرت کو بلندیوں پر پہنچا دیا۔پرتھوی راج کپور اور رام سرنی کپور کے گھر 18 مارچ 1938 کو بالی وڈ کے عہد ساز فنکار ششی کپور کا کلکتہ میں جنم ہوا، اس عہد ساز شہر کا ان کی زندگی میں اہم کردار رہا، ششی کپور کے ہم عصر فنکاروں میں یوں تو بہت سے نام تھے مگر راجیش کھنہ اور امیتابھ بچن کے ساتھ ان کا نام بھی بالی وڈ کی دوسری نسل کے سپرسٹارز کی فہرست میں نمایاں تھا۔ششی کپور کی شخصیت میں موجود ٹھہراؤ اور فطری متانت ہی تھی کہ وہ تمام تر مشکلات کے باوجود اپنی پہلی اور آخری محبت کو پانے میں کامیاب رہے۔ راج کپور کے لیے اپنے چھوٹے 20 سال کے نٹ کھٹ سے بھائی کی اس معصومانہ خواہش کو رد کرنا آسان نہیں تھا۔ ان کی بیوی گیتا بالی نے جنیفر سے پہلی فرصت میں ملاقات کی اور تحفتاً دوپٹہ پیش کیا۔ گیتا بالی کی کوششیں رنگ لائیں اور جولائی 1958 میں ششی کپور نے اپنے سے عمر میں پانچ سال بڑی جنیفر کینڈل سے شادی کر لی۔ دونوں کے دو بیٹے کرن، کنال اور ایک بیٹی سنجنا ہوئی۔ اس پریم کہانی کا انجام ایک ایسے المیے پر ہوا جس کے بارے میں کسی نے سوچا بھی نہیں تھا۔ہوا کچھ یوں کہ جنیفر کو 1983 میں بڑی آنت کے سرطان کی تشخیص ہوئی۔ اس خبر نے ششی کپور کو توڑ کر رکھ دیا۔ وہ اپنی محبوبہ کو اپنے سامنے تکلیف سے بلکتا ہوا دیکھ رہے تھے۔ جنیفر نے اپنی زندگی کے آخری چند ماہ اپنے آبائی وطن برطانیہ میں گزارے اور 1984 میں چل بسیں۔ششی کے لیے اپنی محبت کو کھونے کا غم آسان نہیں تھا جس کا اظہار اس دور میں ان کی شخصیت میں آنے والی تبدیلیوں سے بھی ہوتا ہے۔ شکیل بدایونی نے شاید اسی موقع کے لیے کہا تھا:
اے محبت ترے انجام پہ رونا آیا
جانے کیوں آج ترے نام پہ رونا آیا
ششی نے دوسری شادی نہیں کی مگر وہ ٹوٹ چکے تھے۔ انہوں نے اس کے باوجود اگلے چند برس فلموں میں کام کیا۔یہ ششی کپور کا ہی اعزاز ہے کہ وہ 61 فلموں میں بطور سولو ہیرو اور 116 فلموں میں مرکزی کردار میں نظر آئے۔ یہ تعداد کپور خاندان کے کسی بھی دوسرے مرد اداکار سے زیادہ ہے۔ششی کپور 4 دسمبر 2017 کو دنیا سے چلے گئے مگر وہ اپنی فلموں کے ذریعے ہمیشہ زندہ رہیں گے کیونکہ ان کا فن ہی درحقیقت ان کا دوسرا جنم ہے۔
