پاکستانی ڈراموں میں خواتین پر تشدد کو کیوں دکھایا جاتا ہے؟

معروف مارننگ شو میزبان اور اداکارہ شائستہ لودھی نے پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری میں خواتین پر تشدد اور مظلوم دکھانے کی وجہ ٹی وی ریٹنگز کو قرار دے دیا، شائستہ کے مطابق ٹی وی چینلز زیادہ ریٹنگز کے لیے ایسے ڈرامے بنواتے ہیں۔شائستہ لودھی کے نشر ہونے والے ڈرامے سمجھوتا کو اس کی کہانی کی وجہ سے کافی پذیرائی مل رہی ہے، جس میں زائد العمر یا بزرگ افراد کو اہمیت دینے اور ان کی دیکھ بھال کے لیے ملازمین کے بجائے اہل خانہ کی اہمیت کو دکھایا جا رہا ہے۔

اس سے قبل شائستہ لودھی کے ڈرامے پردیس کو بھی کافی پسند کیا گیا تھا، ڈرامے کے ذریعے انہوں نے تقریبا 4 سال بعد اسکرین پر واپسی کی تھی، پردیس سے قبل شائستہ لودھی آخری بار جیو ٹی وی کے ڈرامے ’خان‘ میں دکھائی دی تھیں، جسے 2017 میں ریلیز کیا گیا تھا۔

اب ان کے ڈرامے سمجھوتا کو کافی پسند کیا جا رہا ہے اور انہوں نے ڈرامے سمیت ڈراموں کی کہانیوں اور چینلز کے مطالبات پر حال ہی میں بی بی سی اردو کو ایک انٹرویو دیا، اداکارہ کے مطابق ان کے ڈرامے سمجھوتا کو کافی پسند کیا جا رہا ہے اورانہوں نے ڈراما مبصرین کی اس رائے کو مسترد کیا کہ ان کا ڈراما گھسی پٹی کہانی پر مبنی ہے۔

میزبان نے کہا کہ ان کے ڈرامے میں سماج کو تبدیل کرنے کا پیغام دیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ والدین، دادا، دادی اور دیگر بزرگ افراد کو ان کی مرضی کے مطابق زندگی گزارنے دی جانی چاہئے جبکہ ان کی دیکھ بھال اور خدمت کے لیے ملازمین کی خدمات نہیں بلکہ خود ان کی خدمت کی جانی چاہئے۔

اداکارہ نے کہا کہ پاکستانی سماج میں عام طور پر بھی ایسا رویہ پایا جاتا ہے اور بزرگ افراد کی دیکھ بھال کے لیے ملازمین کو رکھا جاتا ہے جو کہ غلط ہے، شائستہ لودھی کا کہنا تھا کہ پاکستانی سماج میں بچوں اور بزرگ افراد کو غیر اہم سمجھا جاتا ہے، انہیں اس طرح اہمیت نہیں دی جاتی، جس کے وہ حقدار ہوتے ہیں جبکہ سماج میں صرف نوجوانوں اور درمیانی عمر کے افراد کو ہی اہم سمجھا جاتا ہے۔

انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ جس طرح مارننگ شوز کی ریٹنگ بڑھانے کے لیے چینل مالکان مختلف سیگمنٹس کے مطالبات کرتے ہیں، اسی طرح ڈراموں کی مقبولیت کے لیے بھی مطالبات کیے جاتے ہیں، اداکارہ نے بتایا کہ عام طور پر ٹی وی مالکان ریٹنگ بڑھانے کے لیے ڈراموں میں خواتین پر تشدد دکھانے، انہیں مجبور، لاچار اور مظلوم دکھانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

شائستہ لودھی نے بتایا کہ ان کے شوبز میں کام کرنے کی وجہ سے ہی لوگ ان کے ڈاکٹر ہونے پر یقین نہیں کرتے تھے، ان کے ساتھی ڈاکٹرز بھی ان پر یقین نہیں کرتے تھے کہ انہوں نے میڈیسن کی تعلیم لے رکھی ہے اور وہ ڈاکٹر ہیں، ان کے ساتھی یہی سوچتے تھے کہ یہ تو صرف ٹی وی پر کام کرتی ہیں، انہیں ڈاکٹری سے متعلق کچھ علم نہیں اور یہ کہ یہ ڈاکٹر بھی ہیں کہ نہیں؟

عمران خان کی تقاریر، بیانات نشر کرنے پر پابندی معطل

Back to top button