پاکستان میں پٹا ہوا صدارتی نظام کون لانا چاہتا ہے؟

پاکستان میں آج کل طالع آزما قوتوں کے ہرکارے زوروشور سے یہ چورن بیچتے نظر آتے ہیں کہ پاکستان کے مسائل کا حل موجودہ پارلیمانی نظام حکومت میں نہیں بلکہ ایک ایسے صدارتی نظام حکومت میں ہے جہاں صدر براہ راست منتخب ہو اور ممبران قومی اسمبلی اسے بلیک میل کرنے کی پوزیشن میں نہ ہوں۔
صدارتی نظام کی حمایت کرنے والے دلیل کے طور پر فوجی آمروں کے ادوار حکومت کو صدارتی نظام حکومت کہہ کر ان کے دور میں ہونے والی نام نہاد ترقی کی کہانیاں بیان کر رہے ہیں اور چارٹ بنا بنا کر سوشل میڈیا پر جاری کر رہے ہیں کہ اہوب، ضیا اور مشرف ادوسر میں پاکستان تیزی سے ترقی کر رہا تھا۔ موجودہ ہائبرڈ نظام کے انجینیرز اور انکے پٹھووں کی جانب سے بچ جانے والے صدارتی نظام کے چورن کی مخالفت بھی کھل کر کی جا رہی ہے۔
تاہم اہم سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ حکومت پارلیمانی نظام کو صدارتی نظام میں بدلنے کی پوزیشن میں ہے اور کیا فوجی آمروں کے ادوار کو پاکستانی تاریخ کے سنہری صدارتی ادوار کہا جا سکتا ہے؟ ناقدین کا کہنا ہے کہ ایوب، ضیا اور مشرف کے ادوار پاکستانی تاریخ کے تاریک ترین ادوار تھے جنہوں نے پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔ اسٹیبلشمنٹ کی ہمیشہ سے خواہش رہی ہے کہ ملک میں صدارتی نظام ہو تا کہ اسے صرف ایک شخص کے ساتھ ڈیل کرنا پڑے۔ تاہم ماضی کے ناکام تجربات کے بعد اب صدارتی نظام کو پاکستان میں نافذ کرنا ناممکن نظر آتا ہے۔
پاکستان کی ستر سالہ تاریخ پر نظر دوڑائیں تو ہمیں پتہ چلے گا کہ ملک کو صدارتی نظام حکومت سے فائدہ صفر اور نقصان سو فیصد ہوا۔ اس نظام کی وجہ سے ملک دو لخت ہو گیا۔ پاکستان میں صدارتی نظام کے حامی کہتے ہیں کہ ماضی میں ایوب، ضیا اور مشرف کے ادوار حکومت کو صدارتی دور نہیں کہا جا سکتا ہے؟ تاہم ناقدین کہتے ہیں کہ یہ تینوں ادوار یقیناً صدارتی ہی تھے کیونکہ صدارتی نظام میں بنیادی چیز اختیارات کا ایک ہاتھ میں مرکوز ہونا ہوتا ہے۔
ایوب خان نے تو صدارتی انتخاب بھی کروا دیئے اور بانی پاکستان کی بہن محترمہ فاطمہ جناح کو غدار قرار دے کر الیکشن بھی جیت لیا، پھر موصوف منتخب صدر بن گئے اور اسی کی بنیاد پر 1964 کا دستور بھی بنا لیا۔ ان سب حرکتوں کے نتیجے میں پاکستان کو اپنے مشرقی حصے سے ہاتھ دھونا پڑا۔
اس کے بعد جنرل ضیا الحق نے صوبوں کو ختم تو نہ کیا لیکن اسکا انداز حکومت صدارتی تھا۔ سارے اختیارات اس کے پاس تھے۔ صوبوں کے تمام اختیارات بھی اس کے پاس تھے۔ کسی بھی فوجی دور کا سیاسی تجزیہ کریں گے تو معلوم ہو گا کہ وہ ایک پارلیمانی دور نہیں تھا۔
نئے مشیر احتساب بریگیڈئیر عباسی خود نیب زدہ نکلے
اس کے علاوہ اگر کسی جماعت یا جماعتوں کے پاس آئین میں ترمیم کرنے کی طاقت ہو بھی تب بھی ایسا کرنا ممکن نہیں ہو گا کیونکہ پاکستان کی اعلی ترین عدالت، سپریم کورٹ آئین کے بنیادی ڈھانچے کے خد و خال طے کر چکی ہےاور وفاقی پارلیمانی نظامِ حکومت اس ڈھانچے کا حصہ ہے۔ سپریم کورٹ محمود خان اچکزئی کے مقدمے میں قرار دے چکی ہے کہ وفاقی، پارلیمانی، آزاد عدلیہ اور اسلامی دفعات پر کوئی قدغن نہیں لگائی جا سکتی۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں صدارتی نظام نافذ کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ آئین ساز اسمبلی بنائی جائے جو ملکی آئین میں سے متفقی طور پر پارلیمانی نظام حکومت کی شق ختم کر دے اور صدارتی نظام نافذ کر دے۔ لیکن یہ خواہش ایک دیوانے کے خواب سے زیادہ اور کچھ نہیں۔
ویسے بھی ناقدین کا کہنا ہے کہ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ پاکستان ایک فیڈریشن ہے۔ اگر آپ صدارتی نظام لائیں گے تو چھوٹے صوبے جن کے پہلے ہی فیڈریشن سے بڑے گلے ہیں، ان کو یہ قبول نہیں ہو گا۔ اگر صدارتی نظام آیا تو جن کے پاس اکثریت ہوگی تو وہی صدر بنے گا لہذا سب سے بڑا صوبہ ہونے کی وجہ سے پنجابی اسٹبلشمنٹ کی آمریت قائم ہو جائے گی اور ملکی وحدت ایک مرتبہ پھر خطرے میں پڑ جائے گی جیسا کہ ایوب خان کے دور حکومت میں ہوا۔
