لوڈ شیڈنگ کی بنیادی وجہ قرار پانے والے لائن لاسز کیا ہوتے ہیں؟

وفاقی حکومت اور نیپرا کا پچھلے کئی برسوں سے مسلسل یہ موقف ہے کہ پاکستان میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کی بنیادی وجہ لائن لاسز یا بجلی کی چوری ہے اور لوڈ شیڈنگ زیادہ تر ان علاقوں میں کی جاتی ہے جہاں لائن لاسز زیادہ ہوتی ہے، ایسے میں سوال یہ ہے کہ یہ لائن لاسز دراصل ہوتے کیسے ہیں اور انہیں کیسے کاؤنٹ کیا جاتا ہے؟
پاکستان میں گذشتہ کئی دہائیوں سے بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا مسئلہ درپیش ہے جس دوران کئی علاقوں کو بجلی کے تعطل کا سامنا رہتا ہے اور عوام کی جانب سے مشکلات کی شکایت کی جاتی ہے۔ حالیہ دنوں میں بھی پاکستان کے کئی علاقوں خاص طور پر صوبہ خیبرپختونخوا میں طویل لوڈ شیڈنگ کے بعد صوبائی حکومت اور وفاق کے مابین باقاعدہ ایک تنازہ کھڑا ہو چکا ہے۔ لوڈ شیڈنگ کی بات کی جائے تو پشاور الیکٹریسٹی سپلائی کمپنی یعنی پیسکو سمیت دیگر سپلائی کمپنیز کی جانب سے لائن لاسز کا بتایا جاتا ہے۔ لہازا آئیے جانتے ہیں کہ یہ لائن لاسز کیا ہیں اور ان کا بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے ساتھ کیا تعلق ہے؟ اس حوالے سے عوام کو بہت کم ہی بتایا جاتا ہے۔اسی طرح سپلائی کمپنیز کی جانب سے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جن علاقوں میں بجلی بلوں کی ادائیگی کم ہے تو ان علاقوں میں لوڈ شیڈنگ زیادہ کی جاتی ہے۔
دراصل پاکستان میں بجلی سپلائی کمپنیز کو ریگولیٹ کرنے کے لیے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی یا نیپرا نامی ایک سرکاری ادارہ قائم ہے اور یہ ادارہ بجلی کی ترسیل کے قواعد و ضوابط مرتب کرتا ہے۔ گرڈ سٹیشنز کی بات کی جائے تو پاکستان میں 500 کے وی اے 19 گرڈ سٹیشنز، 50 کے وی اے 200 گرڈ سٹیشز موجود ہیں جبکہ 20 ہزار کلومیٹر سے زیادہ کی ٹرانسمیشن لائنز موجود ہیں۔ نیپرا کے مطابق پاور سٹیشنز میں جتنی مقدار میں بجلی پیدا ہوتی ہے، اتنی مقدار میں وہ بجلی صارفین تک نہیں پہنچتی کیونکہ بجلی کی ترسیل میں ایک خاص فیصد بجلی ضائع ہو جاتی ہے۔ جس کو ٹرانسمیشن اینڈ ڈسٹری بیوشن لاسز کہتے ہیں۔
نومئی کے مقدمات میں جے آئی ٹی نے شاہ محمود قریشی کو قصور وار قرار دے دیا
لائن لاسز میں ایک ٹیکنیکل لاسز کہلاتے ہیں جن میں بجلی کی ترسیل میں خرابی کی وجہ سے بجلی ضائع ہوتی ہے۔ ان لاسز کو مرمت کے ساتھ کم کیا جا سکتا ہے۔جبکہ نان ٹیکنیکل لاسز میں بجلی چوری، غیر قانونی کنڈا سسٹم اور میٹر ٹیمپرنگ شامل ہیں۔ ان لاسز کو کنٹرول کرنا بہت مشکل ہے اور اس کے لیے موثر حکمت عملی، سکیورٹی انتظامات سے ہی کنٹرول کیا جاتا ہے۔ نیپرا کی جانب سے سپلائی کمپنیز کو 8 سے 20 فیصد تک لائن لاسز دکھانے کی اجازت ہے لیکن سپلائی کمپنیز کی جانب سے لائن لاسز اجازت شدہ ٹیرف سے کئی گنا زیادہ دکھائے جاتے ہیں۔ نیپرا کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں لائن لاسز میں پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی یعنی پیسکو سر فہرست ہے جس سے قومی خزانے کو مالی سال 2022 اور 2023 میں 77 ارب روپے کا نقصان ہوا ہے۔ نیپرا کی 2023 کی سپلائی کمپنیز پرفارمنس رپورٹ کے مطابق پیسکو کے لائن لاسز 37 فیصد سے زیادہ ہیں جن میں ٹیکنیکل اور نان ٹیکنیکل لائن لاسز شامل ہیں جبکہ ان کو اجازت شدہ لائن لاسز 20 فیصد ہے۔
سپلائی کمپنیز کی جانب سے لوڈ شیڈنگ کی وجہ بتائی جاتی ہے کہ یہ بجلی کا بل ادا نہ کرنے کی وجہ سے کی جاتی ہے، لہازا سوال یہ ہے کہ کیا اس کی قانونی طور پر اجازت بھی ہے یا نہیں ہے۔ نیپرا قانون کے مطابق ایسا کرنے کی ہرگز اجازت نہیں ہے اور نیپرا نے بارہا سپلائی کمپنیز کو متنبہ کیا ہے کہ وہ لائن لاسز کی وجہ سے لوڈ شیڈنگ نہ کریں۔ تاہم یاد رہے کہ خیبر پختون خواہ اور وفاقی حکومتوں کے مابین لوڈ اس وقت جو تنازعہ شدت اختیار کر چکا ہے اس کی بنیادی وجہ بھی لوڈ شیڈنگ ہی ہے۔
