سیلاب سےمتاثرہ گھروں میں رہائش کا مطلب موت کو گلےلگانا

سیلاب کی تباہ کاریاں محض اس وقت تک محدود نہیں رہتیں جب پانی گھروں کو ڈبوتا ہے، بلکہ ان کے اثرات برسوں تک زندگیوں پر سایہ فگن رہتے ہیں۔ پاکستان میں آنے والے حالیہ سیلاب نے بھی صرف عوام سے ان کی چھت ہی نہیں چھینی بلکہ ان کے گھروں کو مستقبل کے لیے بھی ناقابلِ رہائش بنا دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق گھر زیر آب آنے کے بعد نہ صرف ان کی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں بلکہ دیواریں بھی خستہ حال ہو جاتی ہیں جبکہ چھتیں بھی اپنا بوجھ سہنے کے قابل نہیں رہتیں۔ یوں پانی میں گھرے مکانات کے ڈھانچے بظاہر قائم دکھائی دیتے ہیں مگر حقیقت میں وہ انتہائی کمزور اور غیر محفوظ ہو جاتے ہیں، جن میں دوبارہ رہائش اختیار کرنا کسی خطرے سے کم نہیں ہوتا۔
تعمیراتی ماہرین کے مطابق جب کوئی مکان طویل عرصے تک پانی میں ڈوبا رہتا ہے تو اس کی بنیادیں یعنی فاؤنڈیشنز سب سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں کیونکہ زیر آب رہنے کی وجہ سے مٹی نرم ہو کر اپنی گرفت کھو دیتی ہے اور سیمنٹ یا کنکریٹ میں نمی سرایت کر جاتی ہے۔ اس کے نتیجے میں مکان کا پورا اسٹرکچر ڈگمگانے لگتا ہے۔ حقیقت میں سیلابی پانی صرف دیواروں کو گیلا نہیں کرتا بلکہ بنیادوں کو کھوکھلا کر دیتا ہے، جس کے بعد گھر کا کھڑا رہنا خطرناک حد تک غیر محفوظ ہو جاتا ہے۔”
ماہرین کے بقول سیلابی پانی کے مسلسل دباؤ سے مکان کی دیواروں میں دراڑیں پڑ جاتی ہیں اور نمی سرایت کرنے سے پلستر جھڑنے لگتا ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہے تو جہاں دیواریں کھوکھلی ہو جاتی ہیں وہیں چھت کا بوجھ سہنا بھی ممکن نہیں رہتا۔ ماہرین کے مطابق، بارش کے بعد خشک ہونے کے عمل کے دوران بھی دیواروں میں دراڑیں مزید پھیل جاتی ہیں، اور چھت کسی بھی وقت گر سکتی ہے۔ ان کا مزید بتانا ہے کہ دیہی علاقوں میں زیادہ تر گھر کچی اینٹوں، لکڑی اور مٹی سے تعمیر کیے جاتے ہیں۔ سیلاب کے پانی میں یہ سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ لکڑی سڑنے لگتی ہے، جبکہ کچی دیواریں پانی کے دباؤ سے تیزی سے ٹوٹ پھوٹ جاتی ہیں۔ حتیٰ کہ پکی اینٹوں کے گھر بھی اگر کمزور بنیادوں پر تعمیر کیے گئے ہوں تو پانی کے اثرات زیادہ دیر برداشت نہیں کر پاتے۔
تعمیراتی ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ ایسے گھر جو بظاہر کھڑے رہ جائیں لیکن ان کی بنیادوں اور دیواروں میں نمی باقی رہے، وہ رہائش کے قابل نہیں ہوتے۔ اس طرح کے مکانات میں رہنے والے افراد سانس کی بیماریوں، الرجی اور جلدی امراض کا شکار ہو سکتے ہیں کیونکہ ایسے گھروں میں نمی اور پھپھوندی تیزی سے پھیلتی ہے جو کئی بیماریوں کا سبب بن سکتی ہے۔
تعمیراتی ماہرین کا ماننا ہے کہ سیلاب کے بعد متاثرہ گھروں کا بغیر معائنہ دوبارہ آباد ہونا انتہائی خطرناک ہے۔ زیادہ تر مکانات پانی میں ڈوبنے کے بعد اپنی بنیادوں سے کمزور ہو جاتے ہیں، اس لیے گھروں میں رہائش اختیار کرنے سے قبل زیر آب رہنے والے گھروں کا تکنیکی سروے اور انجینئرنگ رپورٹ ضرور تیار کروانی چاہیے تاکہ اس بات کے تعین میں آسانی ہو کہ یہ مکان دوبارہ رہائش کے قابل ہے یا اس کی از سرِ نو تعمیر لازمی ہے۔ ماہرین تجویز دیتے ہیں کہ ایسے علاقوں میں جہاں بار بار سیلاب آتا ہے، گھروں کی بنیادیں زمین سے اونچی رکھنی چاہیں تاکہ پانی اندر داخل نہ ہو سکے۔ اسی طرح گھروں کی تعمیر میں معیاری سیمنٹ، اسٹیل اور اینٹوں کا استعمال کرنا چاہیے کیونکہ غیر معیاری مواد پانی کے دباؤ اور نمی کے خلاف زیادہ دیر تک مزاحمت نہیں کر پاتا۔ ماہرین جدید تعمیراتی ٹیکنالوجی کے استعمال کو بھی وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہیں ماہرین کے مطابق واٹر پروفنگ ٹیکنالوجی اور نمی روکنے والے کیمیکلز کی مدد سے نہ صرف بنیادوں بلکہ دیواروں کو بھی محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔ انجینئرز کے مطابق یہ ٹیکنالوجی بظاہر مہنگی ضرور ہے لیکن مستقبل کے بڑے نقصانات سے بچنے کے لیے یہ ایک سودمند سرمایہ کاری ہے۔ان کا مزید کہنا ہے کہ کسی بھی جگہ پر رہائشی سکیم یا گھر بناتے وقت اُس علاقے کی زمینی ساخت کو اہمیت دی جاتی ہے۔ رہائشی سکیم بناتے وقت پانی کے بہاؤ کا خاص خیال رکھا جاتا ہے کہ وہ سوسائٹی سے دُور رہے لیکن بدقسمتی سے لاہور میں جو سوسائٹیز زیر آب آئی ہیں وہ بنی ہی دریا کے راستے میں ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ دریا کے اطراف بننے والی رہائشی سوسائٹیز کی زمین ریتلی ہوتی ہے۔ اگر سیلاب کے دوران تین سے چار فٹ پانی کئی روز تک مکانات کے ارد گرد کھڑا رہے گا تو وہ گھر کی بنیاد کو ہلادے گا اور گھر کا سٹرکچر اپنی جگہ چھوڑ دے گا اور دیواروں میں دراڑیں پڑنا شروع ہو جائیں گی۔‘ماہرین کے بقول اگر گھر کے اُوپری حصے میں کسی بھی وجہ سے دراڑیں پڑ جائیں تو وہ قابل مرمت ہوتی ہیں لیکن بنیادوں کو پہنچنے والے نقصان کی مرمت بہت مہنگی ہوتی ہے اور بعض بنیادیں تو اتنی کمزور ہو جاتی ہیں کہ اُن کی مرمت بھی ممکن نہیں رہتی تاہم اگر خوش قسمتی سے گھر کی بنیاد کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا تو بھی سیلابی پانی سیمنٹ اور بجری میں مل کر اور دیواروں میں جذب ہو کر سیم کی وجہ بنتا رہے گا۔ تاہم یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا سیلاب کے پانی میں گھرے رہنے والے گھر دوبارہ رہنے کے قابل رہیں گے؟
اس سوال کا جواب دیتے ہوئے تعمیراتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کے لیے دیکھنا ہو گا کہ سیلاب کی وجہ سے ’لینڈ سیٹلمنٹ‘ کتنی ہوئی ہے۔ کیا گھروں میں ہی کریکس آئے ہیں، یا سٹرکچر اور گھروں کے سامنے کی سڑکیں بھی بیٹھ گئی ہیں۔ یہ بھی دیکھنا پڑے گا کہ کیا سوسائٹی کا روڈ لیول بھی متاثر ہوا ہے یا نہیں۔ اگر پوری سوسائٹی کا لیول تبدیل ہو گیا ہے اور گھروں کی بنیادیں بھی متاثر ہوئی ہیں تو پھر ماہرین یہ سفارش کرتے ہیں کہ اس جگہ پر دوبارہ تعمیر نہ کی جائے۔ ’لیکن اگر سٹرکچرل کریکس معمولی ہیں اور ’لینڈ سیٹلمنٹ‘ میں بھی اتنا فرق نہیں پڑا تو پھر یہ مرمت کے قابل ہوں گے۔ لیکن اس مرمت پر کافی خرچہ آتا ہے۔ تاہم مرمت کرتے وقت یہ بھی دیکھا جانا چاہیے کہ آئندہ سیلاب کا خطرہ تو نہیں ہے۔ اگر مستقبل میں یہ یقینی بنایا جائے کہ اب دوبارہ دریا کا پانی سوسائٹی میں داخل نہیں ہو گا تو پھر تو گھروں کی مرمت کا فائدہ ہے ورنہ مستقبل میں بھی یہ خطرہ برقرا رہے گا۔
