پاکستانی اور انڈین بچوں کے لیے امریکی ویزا ناممکن ہو گیا

ہر گزرتے دن کے ساتھ سخت ہوتی ہوئی امیگریشن اور ویزہ پالیسیوں نے غیرملکی شہریوں کیلئے امریکہ جانا مزید مشکل بنا دیا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کی نافذ کردہ حالیہ ویزا پالیسی کی وجہ سے اب امریکہ میں مقیم انڈین اور پاکستانی شہریوں کے بچوں کا بھی امریکہ پہنچنا ایک خواب بنتا دکھائی دیتا ہے۔ نئی پالیسی کے تحت امریکی گرین کارڈ کیلئے دی گئی درخواست کی شنوائی کے دوران 21سال کی عمر تک پہنچنے والے بچوں کو اس عمل سے آؤٹ کر دیا جائے گا نئے قواعد کے مطابق صرف ان امریکی ویزا ہولڈرز کے بچوں کو گرین کارڈ جاری کیا جائے گا جن کی عمریں درخواست پر فیصلہ آنے تک 21سال سے کم ہونگی۔

ماہرین کے مطابق امریکہ میں امیگریشن کی نئی پابندیوں سے گرین کارڈ یا قانونی مستقل رہائشی حیثیت کے لیے درخواست دینے والے غیرملکی شہریوں کے بچوں کو نئی امریکی ​​امیگریشن پالیسی کی وجہ سے نئے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ وہ نوجوان جو اس عمل کے دوران 21 برس کی عمر کی حد کو پہنچ جائیں گے انھیں اب والدین کی درخواست پر گرین کارڈ جاری نہیں کیا جائے گا کیونکہ والدین کیلئے بنائی گئی نئی امریکی پالیسی کے مطابق فیملی کی امیگریشن کیلئے جاری عمل کے دوران 21 سال کی عمر کو پہنچنے والے بچے اب قانونی طور پر والدین کے ساتھ امیگریشن کے حقدار نہیں رہے۔
ماہرین کے مطابق حالیہ پالیسی سے قبل امریکہ میں مقیم افراد اپنے ساتھ اپنے ان تمام بچوں کے نام گرین کارڈ کیلئے دی جانے والی درخواست میں دینے کے اہل تھے جن کی عمریں درخواست دینے کے وقت 21سال سے کم ہوں۔ تاہم اب اس پالیسی کو تبدیل کرتے ہوئے قرار دے دیا گیا ہے کہ امریکی گرین کارڈ کیلئے دی گئی درخواست پر فیصلے کے وقت جن بچوں کی عمریں 21سال سے تجاوز کر جائیں گی انھیں اس درخواست سے نکال دیا جائے گا اور انھیں والدین کے ہمراہ گرین کارڈ جاری نہیں کیا جائے گا۔
امریکی حکام کے مطابق نئی ویزا پالیسی کے تحت اب زیادہ تر بچے اپنے والدین کے گرین کارڈ ویزا کی درخواست سے منسلک رہنے کا استحقاق کھو دیں گے کیونکہ امریکی امیگریشن سسٹم کے لیے بچے 21 سال سے زیادہ عمر کے ہو چکے ہوں گے۔ ماہرین کے مطابق عام فہم اور آسان الفاظ میں نئی امریکی پالیسی کے تحت کسی بھی غیرشادی شدہ فرد کو امریکہ میں مستقل رہائش حاصل کرنے کے لیے قانونی طور پر 21 سال سے کم عمر ہونا لازم ہے۔ ایسے تمام افراد کو اُن کے والدین کی جانب سے اپنی درخواست کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے جو ورک ویزا یا فیملی سپانسر ویزے کے لیے اپلائی کرتے ہیں۔ تاہم اب نئی پالیسی سے انڈیا اور پاکستان کے وہ شہری بھی متاثر ہوں گے جو خاندان کے ہمراہ امریکی ویزے کی درخواست دیتے ہیں اور ورک ویزا یا فیملی سپانسر ویزے اور امیگریشن کے لیے اپلائی کرتے ہیں۔

دوسری جانب ٹرمپ انتظامیہ نے ویزا پالیسیاں سخت کرنے کے ساتھ ساتھ امریکی ویزہ چھوٹ کے زمرے میں نہ ٓنے والے ممالک کے شہریوں پر 250ڈالر کی نئی ویزہ فیس بھی عائد کر دی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ فیس ان ممالک کے شہریوں کو متاثر کرے گی جو ویزہ چُھوٹ کے زُمرے میں نہیں آتے جن میں انڈیا، چین، برازیل، ارجنٹائن اور میکسیکو شامل ہیں۔ نئی ویزہ فیس کے نفاذ سے جہاں غیر ملکی افراد کیلئے امریکہ یاترا مزید مشکل ہو جائے گی وہیں اس فیصلے سے  امریکہ کی پہلے سے متاثرہ سفری صنعت کو بھی مزید دباؤ کا سامنا ہو سکتا ہے۔ماہرین کے مطابق سخت ویزہ اور امیگریشن پالیسیوں کے باعث نہ صرف غیرملکی خاندانوں کو نقصان ہوگا بلکہ اس سے امریکہ کی سیاحتی و تجارتی صنعت بھی دباؤ کا شکار ہوگی۔ تاہم یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ دنیا کے دیگر ممالک بھی امریکہ کے سخت فیصلوں کے جواب میں اسی نوعیت کی پالیسیاں نافذ کر سکتے ہیں جس سے عالمی سفری منظرنامہ مزید پیچیدہ ہو سکتا ہے۔

Back to top button