کیا سنسرڈ فلم ’’ککڑی‘‘ پاکستان میں مقبولیت حاصل کر پائے گی؟

سنسر بورڈ کی سخت جانج پڑتال، سینز میں بدلائو، فلم کا نام تبدیل کیے جانے کے بعد اس کی مقبولیت پر سوالیہ نشانات کھڑے ہوگئے ہیں، فلم کو پاکستان بھر کے سینمائوں میں ریلیز کر دیا گیا ہے، عالمی سطح پر سات ایوارڈ جیتنے والی فلم کے ہدایتکار اور کاسٹ اس کی کامیابی کے لیے پر امید ہیں۔
ہدایت کار و مصنف ابو علیحہ کی ایوارڈ یافتہ فلم ‘جاوید اقبال، دی ان ٹولڈ اسٹوری آف اے سیریل کلر’ کو بالآخر نام بدل کر پاکستان بھر کے سنیما گھروں میں دو جون سے ریلیز کردیا گیا ہے۔ فلم کا نیا نام اب ‘ککڑی’ ہے جو جاوید اقبال کی عرفیت بھی تھی۔
فلم میں جاوید اقبال کا مرکزی کردار ادا کرنے والے یاسر حسین کو ‘ایشین فلم فیسٹیول ‘میں بہترین اداکار اور ابو علیحہ کو بہترین ہدایت کار کا ایوارڈ بھی ملا تھا جو ایک انڈی پنڈنٹ فلم کے لیے بڑی کامیابی ہے۔
جاوید اقبال پر بننے والی فلم کو ریلیز ہونے سے کیوں روکا گیا؟ اس کی وجوہات آج تک سامنے نہیں آئیں لیکن فلم میں پولیس کا کردار ثانوی دکھانا اور بعض جگہ جاوید اقبال کو ان سے زیادہ عقل مند دکھانا اس کی ایک وجہ ہوسکتی ہے، لیکن بات جو بھی ہو، فلم کی ایک سال بعد تاخیر سے ریلیز خوش آئند ہے۔
اس ریلیز کے لیے فلم کو سخت سینسر سے گزرنا پڑا۔ فلم میں مرکزی کردار ادا کرنے والے اداکار یاسر حسین کے بقول، سینسر کی چھری کے نیچے سے گزری ہوئی فلم کی وہی حالت ہوتی ہے جو قصائی کی چھری کے نیچے سے گزرنے والے بکرے کی ہوتی ہے۔
فلم کا سینسر نے جو حال کیا اس کی وجہ سے اس کی کہانی بے ربط ضرور لگتی ہے لیکن یاسر حسین کی جاندار اداکاری ناظرین کو زیادہ سوچنے نہیں دیتی۔ یاسر نہ صرف جاوید اقبال کے کردار پر فٹ بیٹھے ہیں بلکہ انہوں نے حلیہ بھی ویسا ہی بنایا جیسا جاوید اقبال کی تصاویر یا ویڈیو میں نظر آتا ہے۔
‘ککڑی’ لو بجٹ فلم ضرور ہے، لیکن وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے یاسر حسین کا کہنا تھا کہ اس کا اسکرپٹ ہائی ہے اور کہیں بھی ‘لو ‘ ہونے کا تاثر نہیں دیتا ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ نام بدلنے کے بعد انہوں نے فلم تو نہیں دیکھی لیکن وہ پرامید ہیں کہ فلم بینوں کو اس قسم کا کانٹینٹ پسند آئے گا۔
معروف ٹی وی شو ‘بلبلے ‘ سے شہرت پانے والی اداکارہ عائشہ عمر نے اس فلم میں ایک پولیس افسر کا کردار ادا کیا ہےجس کا جاوید اقبال سے حوالات کے پیچھے ٹاکرا ہوتا ہے چوںکہ جاوید اقبال کی کہانی میں نوے کی دہائی کا آخر دکھایا گیا ہے اس لیے موبائل فون اور انٹرنیٹ کا استعمال کم اور اس زمانے کے پوسٹرز کا استعمال زیادہ دکھایا گیا ہے۔ تاہم 2002 میں ریلیز ہونے والی فلم ‘اسپائیڈر مین’ کا ایک ڈائیلاگ یہاں استعمال کرکے مصنف و ہدایت کار نے غلطی کی، کیوں کہ سپر ہیرو فلم تو ریلیز ہی اصلی جاوید اقبال کی موت کے بعد ہوئی تھی۔
فلم کی اصطلاح میں "بائیو پک” اس فلم کو کہا جاتا ہے جس میں کسی ایک اصل کردار کی زندگی کو حقیقی انداز میں پیش کیا جائے لیکن پاکستان میں اس قسم کی فلمیں بہت کم بنتی ہیں۔ اسی لیے جاوید اقبال پر بننے والی اس فلم میں مصنف و ہدایت کار نے جس تخلیقی آزادی کا مظاہرہ کیا وہ اسے حقیقت سے دور لے جاتی ہے۔
فلم میں جاوید اقبال کی مکمل کہانی نہیں بیان کی گئی، صرف وہ وقت دکھایا گیا جو اس نے پولیس کی حراست میں گزارا۔ نہ تو یہ بتانے کی کوشش کی گئی کہ اس نے سو بچوں کا قتل کیوں کیا اور نہ ہی دکھایا گیا کہ کس طرح اس کی والدہ کے انتقال نے اس کی زندگی تبدیل کی۔
پولیس کا کردار بھی اس فلم میں کافی کمزور دکھایا گیا ہے جب کہ اصل میں جاوید اقبال کو ایک نہیں، دو مرتبہ پکڑا گیا تھا اور دوسری بار اس کو پکڑنے کے لیے پولیس نے کافی کوششیں کی تھیں۔کیوں اس نے 1999 کی آخری رات کو اپنی گرفتاری کیوں دی، کیسے وہ پولیس کے چنگل سے مسلسل بچتا رہا اور کس طرح اس کی موت واقع ہوئی، ان سب سوالات کے جوابات یہ فلم دینے سے قاصر رہی۔
فلم کے ہدایت کار ابو علیحہ سینسر بورڈ کی جانب سے فلم میں کٹ لگانے پر خوش نہیں۔ انہوں نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس قسم کے کانٹینٹ کی ریلیز میں مشکلات کھڑی کی جاتی ہیں تاکہ اگلی بار ڈسٹری بیوٹر، پروڈیوسر اور فلم میکر ایسی فلم بنانے سے توبہ کرلے۔
فلم ہدایت کار نے اعتراف کیا کہ فلم میں کچھ جگہوں پر کردار مجبوری کے تحت گالی دیتا ہے جس پر انہوں نے ‘بیپ’ لگا دیا تھا، لیکن سینسر نے وہ سب کاٹ دیا۔ ہدایت کار سندھ سینسر بوڑ سے بھی نالاں تھے جنہوں نے فلم سے وہ تمام سین ہٹا دیے جس میں دو کرداروں کو بحث کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
دیر سے سینسر سرٹیفکیٹ ملنے کی وجہ سے پہلے دن ‘ککڑی’ کے شوز کی تعداد کم تھی، لیکن ابو علیحہ پر امید ہیں کہ ہفتے سے فلم کو اتنے شوز ملیں

ترین کی جماعت سے عمران کو کیا نقصان ہو گا؟ 

گے ، جتنے کی انہیں اُمید تھی۔

Back to top button