فوج عمران کو جیل سے نکالنے کا رسک کیوں نہیں لے رہی؟

معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ پاکستانی فوجی اسٹیبلشمنٹ عمران خان کو ریلیف دینے کا رسک اس لیے نہیں لے سکتی کہ ایسا کرنے سے پورا نظام ہی دھڑام سے نیچے آن گرے گا۔

روزنامہ جنگ کے لیے اپنے تجزیے میں ان کا کہنا ہے کہ اس وقت اسٹیبلشمنٹ دل و جان سے نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے کوششوں میں مصروف ہے لیکن پیپلز پارٹی کی جانب سے سخت مخالفت کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق حکومت سے باہر اپوزیشن میں دو اور سیاسی فریق بھی نئے صوبوں کے حوالے سے اہم ہیں، قیدی نمبر 804 کے حامیوں کے لیے حکومتی اتحادیوں اور فوجی قیادت کے مابین ہلکی سی دراڑ بھی خوشی کی خبر بن جاتی ہے، تحریک انصاف روایتاً نئے صوبوں کی حامی رہی ہے اور اگر وہ اس نازک موقع پر اس ایشو پر فوج کے ساتھ ہو جائے تو اس سے اتحادی جماعتیں کمزور پڑ جائیں گی اور تحریک انصاف اور اس کے سربراہ کے لیے راستے کھلنا شروع ہوسکتے ہیں۔

انکے مطابق بظاہر اس معاملے میں ’ڈھیل‘ فیصلہ کن کردار ادا کرسکتی ہے لیکن اصل مسئلہ تو یہ ہے کہ قیدی نمبر 804 کو ہسپتال لے جانے یا معمولی سہولتیں دے کر معاملہ حل ہوجائے تو ہو جائے، عمران کو رہائی یا سیاست کرنے کا بڑا ریلیف دینے کا سرے سے کوئی امکان نظر نہیں آتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عمران کے لیے غیر معمولی رعایت پورے موجودہ نظام کے زوال کا سبب بن سکتی ہے۔ نئے صوبے بنانے کی خاطر نظام خود اپنے لیے خطرہ پیدا نہیں کرنا چاہے گا، اس کا مطلب ہوا کہ عمران خان کو نئے صوبوں کے بدلے ٹافی تو مل سکتی ہے، شاندار لنچ یا ڈنر نہیں۔

انکے مطابق سوال یہ ہوگا کہ کیا تحریک انصاف مجبوراً یہ کمزور ڈیل قبول کرے گی یا پھر وہ ’’میں نہ مانوں‘‘ والی مزاحمت پر کاربند رہ کر کسی اچھے وقت کا انتظار کرے گی۔ سہیل وڑائچ کے مطابق پاکستانی سیاست میں اس وقت بظاہر معمول کی خاموشی ہے لیکن پس پردہ شدید سیاسی بے چینی پیدا ہوچکی ہے۔ ایک ماہ قبل تک حکومتی اتحادیوں کے درمیان تعلقات کو نسبتاً خوشگوار سمجھا جا رہا تھا اور سیاسی ماحول میں مفاہمت اور تعاون کی کیفیت نمایاں تھی، تاہم نئے صوبوں کے معاملے نے اس پورے منظرنامے میں ارتعاش پیدا کردیا ہے۔ اب حکومت اور اس کے اتحادی اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ پیدا ہونے والی صورتحال کو کس طرح سنبھالا جائے اور اختلافات کو اس حد تک بڑھنے سے کیسے روکا جائے کہ ان کے اثرات پورے سیاسی نظام پر مرتب ہوں۔

ان کا کہنا ہے کہ سیاسی معاملات میں اصل اہمیت صرف کسی تجویز کے سامنے آنے یا کسی بات کے شروع ہونے کی نہیں ہوتی بلکہ اس بات کی ہوتی ہے کہ معاملہ آخر کہاں پہنچتا ہے۔ موجودہ صورتحال میں بھی مختلف سیاسی قوتیں اپنے اپنے مفادات، تحفظات اور سیاسی مستقبل کو سامنے رکھتے ہوئے حکمت عملی ترتیب دے رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نئے صوبوں کے قیام کی بحث اب محض انتظامی اصلاحات کا معاملہ نہیں رہی بلکہ اس نے اقتدار میں شامل جماعتوں، اپوزیشن اور اسٹیبلشمنٹ کے باہمی تعلقات کو بھی متاثر کرنا شروع کردیا ہے۔

سہیل وڑائچ کے مطابق اس وقت سب سے اہم سوال نئے صوبوں کا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے اس معاملے کو ترجیح دینے کے آثار نظر آتے ہیں جبکہ بیشتر سیاسی جماعتیں اس پر فوری پیش رفت کے بجائے محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ سیاسی قوتیں بظاہر معاملے کو براہ راست مسترد کرنے کے بجائے اسے مشاورت، مکالمے اور وقت لینے کے مرحلے میں لے جانے کی کوشش کر رہی ہیں، کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ نئے صوبوں کا معاملہ اگر جلد بازی میں آگے بڑھایا گیا تو اس کے نتیجے میں سیاسی ردعمل شدید ہوسکتا ہے۔

اس صورتحال میں سب سے اہم فریق ن پیپلز پارٹی بن گئی ہے۔ سہیل وڑائچ کے مطابق صدر آصف زرداری سندھ اور پاکستان کو ایک ہی جسم کے دو حصے سمجھتے ہیں اور ماضی کے تجربات کی بنیاد پر انہوں نے مقتدر طاقتوں کے ساتھ مل کر چلنے کی پالیسی اختیار کی، تاہم اگر معاملہ پیپلز پارٹی کی سیاسی قیادت، اس کی سیاست یا عزت و توقیر سے جڑ جائے تو مفاہمت کی سیاست کے بجائے مزاحمت کا راستہ بھی اختیار کیا جاسکتا ہے۔ ان کے مطابق پیپلز پارٹی کے لیے یہ معاملہ محض انا کا نہیں بلکہ سیاسی بقا کا مسئلہ بن سکتا ہے۔

انکا کہنا یے کہ سندھ میں نئے صوبوں یا سندھ کی تقسیم سے متعلق کسی بھی تجویز کے خلاف ردعمل کی شدت کا اندازہ ماضی کی مثالوں سے لگایا جاسکتا ہے۔ کالا باغ ڈیم اور چھ نہروں کے معاملے پر سندھ میں شدید سیاسی مزاحمت سامنے آئی تھی اور بالآخر دباؤ کے باوجود ان منصوبوں کو آگے نہیں بڑھایا جاسکا۔ تاہم سہیل وڑائچ کے مطابق حالیہ عرصے میں وفاق اور صوبوں کے درمیان بات چیت اور صلح صفائی کے نتیجے میں پنجاب اور سندھ نے اپنے ترقیاتی بجٹ کا ایک خاطر خواہ حصہ وفاق کے حوالے کرنے پر رضامندی ظاہر کی، جس سے یہ سبق ملتا ہے کہ حساس معاملات زور زبردستی کے بجائے سیاسی مکالمے سے زیادہ بہتر انداز میں حل کیے جاسکتے ہیں۔

انکے مطابق اس معاملے میں مسلم لیگ ن اور نواز شریف کا کردار بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کرگیا ہے۔ سہیل وڑائچ کے مطابق مسلم لیگ ن کی قیادت کو متعدد بار نئے صوبوں کے معاملے پر پیش رفت شروع کرنے کے لیے کہا گیا، تاہم ن لیگ نے اس معاملے میں پہل کرنے سے گریز کیا۔ یہی وجہ ہے کہ نئے صوبوں کی بحث مسلم لیگ ن کے بجائے کسی دوسرے فورم سے شروع ہوئی۔ ان کے مطابق نواز شریف اس وقت ملک کی سب سے تجربہ کار سیاسی قیادت میں شمار ہوتے ہیں اور ان کے مقتدرہ کے مختلف سربراہوں کے ساتھ طویل عرصے کے تعلقات رہے ہیں۔
سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ ماضی کی تلخیوں کے باوجود نواز شریف اب اس سوچ کے زیادہ قائل دکھائی دیتے ہیں کہ فوج اور حکومت کے درمیان کھلا تصادم ریاست کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے، اس لیے وہ کسی مہم جوئی پر مبنی فیصلے کی طرف نہیں جائیں گے۔ تاہم نئے صوبوں کے معاملے پر مکمل اتفاق کرنا بھی ان کے لیے آسان نہیں ہوگا۔

سہیل وڑائچ کے بقول سیاسی جماعتیں اس معاملے کو براہ راست تصادم کی طرف لے جانے کے بجائے تاخیر اور مزید مشاورت کے ذریعے آگے بڑھانے کی حکمت عملی اختیار کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ اس صورتحال میں تحریک انصاف کا کردار سب سے زیادہ دلچسپ ہوسکتا ہے جو کہ روایتی طور پر نئے صوبوں کے قیام کی حامی رہی ہے۔ وڑائچ کے مطابق اگر تحریک انصاف موجودہ نازک صورتحال میں نئے صوبوں کے معاملے پر فوج کے مؤقف کے قریب آتی ہے تو اس کے نتیجے میں حکومتی اتحادی جماعتوں کی سیاسی پوزیشن کمزور ہوسکتی ہے۔ یہی وہ پہلو ہے جس کی وجہ سے عمران کے حامی حکومت اور فوج کے درمیان پیدا ہونے والے کسی بھی معمولی اختلاف کو اپنے لیے امید کی کرن سمجھتے ہیں۔

تاہم سہیل وڑائچ کے مطابق یہاں عمران کے معاملے میں ایک بنیادی رکاوٹ موجود ہے۔ عمران خان کو ہسپتال منتقل کرنے یا محدود نوعیت کی ’’ڈھیل‘‘ دینے کے امکانات ہو سکتے ہیں، لیکن رہائی یا دوبارہ سیاسی سرگرمیوں کی اجازت دینے جیسا بڑا ریلیف موجودہ نظام کے لیے انتہائی بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔ ان کے مطابق عمران کو غیر معمولی رعایت دینے کا مطلب صرف ایک سیاسی رہنما کو سہولت دینا نہیں بلکہ اس پورے سیاسی بندوبست کو خطرے میں ڈالنا ہوگا جو اس وقت ریاست اور سیاست کے باہمی تعاون سے چل رہا ہے۔

اسی لیے عمران خان کے لیے ممکنہ سیاسی سودا ’ٹافی‘ دینے تک محدود ہے، اور ان کی مکمل واپسی کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ایسے میں اصل سوال یہ ہے کہ تحریک انصاف ایسی محدود پیشکش کو قبول کرتی ہے یا اپنے مزاحمتی مؤقف پر قائم رہتے ہوئے ایسے وقت کا انتظار کرتی ہے جب سیاسی حالات اس کے حق میں تبدیل ہو سکیں۔ سہیل وڑائچ کے مطابق موجودہ نظام کو ایک ایسی دیوار سے تشبیہ دی جاسکتی ہے جس کی ہر اینٹ دوسری اینٹ کو سہارا دے رہی ہے۔ اگر اس دیوار سے ایک اینٹ بھی نکال دی جائے تو پورا ڈھانچہ کمزور ہوسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ سیاسی قوتیں ایک دوسرے کو دباؤ میں لانے کی کوشش کرتے ہوئے اس خطرے سے بھی دوچار ہیں کہ کہیں باہمی اختلافات پورے نظام کے لیے بحران نہ بن جائیں۔

Back to top button