احسن اقبال نے کس کی شہ پر مریم نواز کے خلاف ٹویٹ کی؟

نون لیگ کے مرکزی رہنما اور وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی جانب سے مریم نواز کی بیٹی کی حالیہ نکاح کی پر تکلف تقریب پر بالواسطہ تنقید کے بعد ایک تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے اور یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ نون لیگی رہنما نے کس کی شہ پر وزیراعلیٰ پنجاب پر کھلی تنقید کر ڈالی ہے۔ یاد ریے کہ احسن اقبال نے ماہ نور کی شادی کی تقریب کے فوراً بعد حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کی مثال دیتے ہوئے ایک ٹویٹ کیا تھا جو سیاسی حلقوں میں غیر معمولی توجہ کا مرکز بن گیا۔

احسن اقبال نے ٹوئیٹ میں لکھا کہ جب کوئی حکمران امت کی ذمہ داری اٹھاتا ہے تو اس کا معیار زندگی رعایا کے حالات سے بے نیاز نہیں رہ سکتا۔ ان کے مطابق جب قوم مہنگائی، بے روزگاری اور ضروریات زندگی کے بوجھ تلے دبی ہو تو قومی قیادت کے لیے سادگی، اعتدال اور عوامی احساسات کا لحاظ محض پسندیدہ رویہ نہیں بلکہ اخلاقی ذمہ داری بن جاتا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ نجی خوشیاں ہر انسان کا حق ہیں لیکن اقتدار سے وابستہ زندگی کبھی مکمل طور پر نجی نہیں رہتی۔ ان کے بقول قیادت کی اصل شان نمائش میں نہیں بلکہ عوام کے حالات کے ساتھ ہم آہنگی میں ہے جبکہ اقتدار انسان کا معیار زندگی بلند کرنے کے بجائے اس کے معیار ذمہ داری کو بلند کرنے کا نام ہے۔

احسن اقبال نے ٹوئیٹ میں حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کے طرز حکمرانی کو اس حوالے سے مثال کے طور پر پیش کیا۔ انکے اس ٹویٹ کو مریم نواز کی صاحبزادی ماہ نور کے نکاح کی تقریب سے جوڑنے کی بنیادی وجہ اس کا وقت اور سیاسی پس منظر قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہ نور کا نکاح 12 ستمبر کو جاتی امرا میں ہوا جس کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر گردش کرتی رہیں۔ اسی دوران احسن اقبال کی جانب سے حکمرانوں کی سادگی، نجی خوشیوں اور نمود و نمائش کے حوالے سے پیغام سامنے آیا، جس کے باعث سوشل میڈیا صارفین کی ایک بڑی تعداد نے اسے شریف خاندان کی تقریب کے تناظر میں دیکھا۔

سوشل میڈیا پر بعض صارفین نے احسن اقبال کے الفاظ کو بالواسطہ طور پر مریم نواز کے لیے پیغام قرار دیا اور سوال اٹھایا کہ اگر وفاقی وزیر کا اشارہ وزیر اعلیٰ پنجاب کی جانب نہیں تھا تو پھر ان کے ٹویٹ کا وقت ایسا کیوں تھا کہ اسے ماہ نور کی شادی کی تقریبات کے فوراً بعد سامنے آنا پڑا۔ معاملے کو اس وقت مزید سیاسی اہمیت حاصل ہوئی جب سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے بھی احسن اقبال کے ٹویٹ کو مریم نواز پر تنقید قرار دیتے ہوئے مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کو ’’شخصی غلامی‘‘ کے خول سے باہر آنے کا مشورہ دیا۔ فواد چوہدری کے اس ردعمل کے بعد سوشل میڈیا پر یہ بحث مزید تیز ہو گئی کہ آیا احسن اقبال نے واقعی اپنی جماعت کی طاقتور وزیراعلیٰ کے طرز زندگی پر اعتراض کیا ہے یا وہ محض عمومی اخلاقی اصول بیان کر رہے تھے۔

دوسری جانب معروف صحافی اور تجزیہ کار رؤف کلاسرا بھی اس معاملے میں احسن اقبال کے موقف کو چیلنج کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ کلاسرا نے احسن اقبال کے پیغام کو محض ایک عمومی نصیحت قرار دینے کے بجائے اس کے وقت اور حالات کو اہم قرار دیا ہے۔ ان کے مؤقف کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ اگر ایک اہم حکومتی رہنما حکمرانوں کی نجی خوشیوں، سادگی، عوامی مشکلات اور نمود و نمائش کی بات عین اس وقت کرے جب حکمران خاندان کی ایک بڑی شادی کی تقریب موضوع بحث بنی ہوئی ہو تو اس پیغام کے سیاسی مضمرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ روف کلاسرا کا کہنا تھا کہ احسن اقبال کی ٹویٹ کی ایک اور وجہ آج کل ان کی اسٹیبلشمنٹ سے قربت بھی ہو سکتی ہے۔

رؤف کلاسرا کی جانب سے اٹھائے جانے والے سوالات نے اس معاملے کو مسلم لیگ ن کے اندرونی سیاسی ماحول سے بھی جوڑ دیا ہے۔ ان کے نزدیک اگر احسن اقبال کا اشارہ واقعی مریم نواز یا شریف خاندان کی تقریبات کی جانب تھا تو یہ مسلم لیگ ن کے اندر ایک غیر معمولی پیش رفت سمجھی جائے گی کیونکہ احسن اقبال خود وفاقی حکومت اور پارٹی کی اہم قیادت کا حصہ ہیں اور مریم نواز پنجاب میں اسی جماعت کی وزیراعلیٰ ہیں۔

رؤف کلاسرا اور احسن اقبال کے درمیان جاری نوک جھونک نے تاہم اس معاملے کو ایک نئی جہت دے دی ہے۔ کلاسرا کے تبصروں میں جہاں احسن اقبال کے ٹویٹ کے سیاسی وقت اور پس منظر پر سوال اٹھایا جا رہا ہے، وہیں احسن اقبال کی پوزیشن یہ ہے کہ انہوں نے کسی مخصوص شخصیت کو ہدف نہیں بنایا۔ یوں دونوں کے درمیان اختلاف بنیادی طور پر اس سوال پر مرکوز ہے کہ کسی سیاسی رہنما کے بیان کی تشریح صرف اس کے الفاظ سے کی جائے یا اس کے وقت، حالات اور سیاسی پس منظر کو بھی مدنظر رکھا جائے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق اس تنازعے کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ احسن اقبال کا پیغام بظاہر کسی مخصوص شخصیت کے خلاف نہیں تھا لیکن مریم کی صاحبزادی کی شادی کی تقریبات کے ساتھ اس کی زمانی مطابقت نے اسے سیاسی بیان بنا دیا۔ بالخصوص نجی خوشیاں، نمائش، سادگی اور عوام کے حالات جیسی اصطلاحات نے سوشل میڈیا پر اس تاثر کو تقویت دی کہ وفاقی وزیر نے ماہ نور کے نکاح کی تقریب کی طرف اشارہ کیا ہے۔

یوں احسن اقبال کا ایک بظاہر عمومی اخلاقی پیغام مریم نواز کی بیٹی کی شادی، شریف خاندان کے طرز زندگی، حکمرانوں کی سادگی اور مسلم لیگ ن کے اندرونی سیاسی تعلقات کے حوالے سے ایک بڑی بحث میں تبدیل ہو گیا ہے۔ فواد چوہدری کی تنقید اور رؤف کلاسرا اور احسن اقبال کے درمیان جاری نوک جھونک نے بھی معاملے کو مزید نمایاں کر دیا ہے، ایسے میں ملین ڈالر سوال یہ ہے کہ احسن اقبال نے یہ ٹویٹ کیا کسی کے کہنے پر کیا یا ان کے اپنے دماغ کی اختراع تھی۔

Back to top button