بجلی چوری روکنےکیلئےنیا پاور کنٹرول سسٹم لانے کا فیصلہ

وفاقی حکومت نے بجلی چوری پر قابو پانےکیلئےنیا نظام متعارف کروانے کا فیصلہ کر لیا ہے جس کے تحت صرف چوری میں ملوث ٹرانسفارمر کو بند کیا جا سکے گا اور پورے فیڈر کے صارفین متاثر نہیں ہوں گے۔

وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری کے مطابق اس نظام کا ریگولیٹری فریم ورک اگلے سال اپریل یا مئی تک مکمل کر لیا جائے گا۔

پارلیمنٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے بتایا کہ حکومت بجلی چوری کی روک تھام کے لیے ایک نیا انتظامی نظام لانے جا رہی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ نئے نظام کے نفاذ کے بعد بجلی چوری کی نشاندہی ہونے پر پورے فیڈر کو بند کرنے کی ضرورت ختم ہو جائے گی۔

وزیر توانائی کے مطابق نئے طریقہ کار کے تحت متعلقہ حکام صرف اسی ٹرانسفارمر کی بجلی منقطع کر سکیں گے جو چوری یا قوانین کی خلاف ورزی میں ملوث پایا جائے، جبکہ اسی فیڈر سے جڑے دیگر تمام صارفین کی بجلی معمول کے مطابق بحال رہے گی۔

اویس لغاری نے اس اقدام کو ایک جدید تصور قرار دیا اور کہا کہ یہ نظام دنیا کے متعدد ممالک میں پہلے ہی کامیابی سے استعمال ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اس نظام کے نفاذ کے لیے مکمل فریم ورک پر کام کر رہی ہے اور اسے اگلے سال اپریل یا مئی تک حتمی شکل دے دی جائے گی۔

وفاقی وزیر نے ملک میں اضافی لوڈشیڈنگ کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت کوئی اضافی بجلی بندش نہیں کی جا رہی۔ لوڈشیڈنگ سے متعلق وضاحت دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اگر لوڈشیڈنگ نہ کی جائے تو صارفین کو فی یونٹ اضافی 6 روپے کا بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔

نیٹ میٹرنگ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیر توانائی نے بتایا کہ پالیسی میں کی گئی تبدیلیوں کے باعث صارفین بیٹری سٹوریج سسٹم نصب کرنے کی جانب راغب ہوئے ہیں اور نیٹ میٹرنگ کے لیے درخواستیں اب بھی بڑی تعداد میں موصول ہو رہی ہیں۔

Back to top button