آئینی عدالت کو کیس منتقلی کے بعد عمران کو ریلیف کا امکان ختم

عمران خان کو اڈیالہ جیل سے شفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کی درخواست وفاقی آئینی عدالت میں منتقل ہو جانے کے بعد انہیں فوری ریلیف ملنے کا امکان معدوم ہو گیا ہے اور تحریک انصاف اور اسٹیبلشمنٹ کے مابین ڈیل کی افواہیں بھی دم توڑنا شروع ہو گئی ہیں۔
خیال رہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے اچانک عمران خان کو جیل سے ہسپتال منتقل کرنے کے حکم کے بعد ان افواہوں نے زور پکڑا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ اور تحریک انصاف کے مابین کوئی ڈیل ہونے جا رہی ہے، تاہم اب معاملہ وفاقی آئینی عدالت میں پہنچنے کے بعد ایک نئے آئینی اور قانونی مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے 18 اگست کے عبوری حکم میں عمران خان کو دو روز کے اندر شفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے، ان کے علاج کے لیے پانچ رکنی میڈیکل بورڈ تشکیل دینے اور اہل خانہ و ذاتی معالجین کو ملاقات کی سہولت فراہم کرنے سمیت دیگر طبی انتظامات کی ہدایات جاری کی تھیں۔ اس حکم کے بعد سیاسی حلقوں میں یہ قیاس آرائیاں شروع ہوگئی تھیں کہ حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان کسی مفاہمت کی راہ ہموار ہو رہی ہے، تاہم حکومت نے اس حکم پر قانونی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ سزا یافتہ قیدی کو نجی ہسپتال منتقل کرنے کی قانون میں گنجائش نہیں۔
چنانچہ سپریم کورٹ کے حکم پر مکمل عملدرآمد نہ ہو سکا اور عمران خان کو صرف ایک رات کے لیے پمز ہسپتال منتقل کرنے کے بعد دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کردیا گیا۔ وفاقی حکومت کا کہنا تھا کہ جیل میں طبی سہولیات دستیاب ہیں اور ضرورت پڑنے پر سرکاری ہسپتال میں بھی علاج کرایا جا سکتا ہے، اس لیے کسی سزا یافتہ قیدی کو خصوصی طور پر نجی ہسپتال منتقل کرنے کا حکم قانونی طور پر قابلِ غور ہے۔ وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کے عبوری حکم کے خلاف نظرثانی درخواست بھی دائر کر رکھی ہے۔
16 ستمبر کو سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے جب عمران خان کی ہسپتال منتقلی سے متعلق کیس کی سماعت شروع کی تو اسے آگاہ کیا گیا کہ معاملہ اب وفاقی آئینی عدالت کے سامنے زیر سماعت ہے اور وہاں سے سپریم کورٹ سے کیس کا مکمل ریکارڈ طلب کیا گیا ہے۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے وفاقی آئینی عدالت کا حکم نامہ بینچ کے سامنے پیش کیا، جس پر جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں اٹارنی جنرل عدالت میں پیش ہو کر اس معاملے پر مزید وضاحت کریں۔
اٹارنی جنرل منصور اعوان کی پیشی پر جسٹس شاہد وحید نے سوال اٹھایا کہ عمران خان کی ہسپتال منتقلی کا مقدمہ وفاقی آئینی عدالت کیسے سن سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے 18 اگست کے حکم میں سرکاری افسران کو طلب کیا تھا لیکن کوئی پیش نہیں ہوا، اس لیے یہ بھی دیکھا جانا چاہیے کہ آیا افسران کا پیش نہ ہونا حکم عدولی کے زمرے میں آتا ہے۔ جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ علاج سرکاری یا نجی ہسپتال میں ہوگا، اس نکتے کو فی الحال ایک طرف رکھ کر یہ بتایا جائے کہ کیا سپریم کورٹ کے حکم کے دیگر حصوں پر عملدرآمد ہو رہا ہے اور کیا عمران خان کو ملاقاتوں سمیت بچوں سے بات کرنے کی سہولت دی جا رہی ہے۔
سماعت کے دوران جسٹس شاہد وحید نے وفاقی آئینی عدالت کے دائرہ اختیار سے متعلق بھی سوالات اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی آئینی عدالت آئین کی تشریح کرسکتی ہے جبکہ آئین کی تشریح کے علاوہ دیگر معاملات سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔ اٹارنی جنرل نے مؤقف اختیار کیا کہ آئین کے تحت وفاقی آئینی عدالت آئینی تشریح سے متعلق سوال پر ملک کی کسی بھی عدالت کا ریکارڈ طلب کرسکتی ہے، جس میں سپریم کورٹ بھی شامل ہے۔ جسٹس شاہد وحید نے استفسار کیا کہ کیا سپریم کورٹ آج درخواستیں خارج کر دے یا سماعت نہ کرے، اور کیا وہ وفاقی آئینی عدالت کے حکم کی پابند ہے۔
اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ آئین کے مطابق وفاقی آئینی عدالت مقدمات کا ریکارڈ طلب کرسکتی ہے اور اب یہ سوال طے ہونا ہے کہ وہ کن حدود تک دوسری عدالتوں سے ریکارڈ منگوا سکتی ہے۔ جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ وفاقی آئینی عدالت کے حکم میں مقدمات کو سماعت کے لیے مقرر کرنے کا ذکر ہے اور یہی امر سپریم کورٹ کے لیے قابلِ غور ہے، اس لیے اٹارنی جنرل عدالت کی معاونت کریں کہ وفاقی آئینی عدالت اس مقدمے کی سماعت کس آئینی اختیار کے تحت کرسکتی ہے۔ سماعت کے دوران اڈیالہ جیل انتظامیہ کی جانب سے سپریم کورٹ کے حکم پر عملدرآمد نہ کیے جانے کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔
جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کو ذاتی حیثیت میں طلب کیا گیا تھا اور اگر سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی ہوئی ہے تو کیا جیل سپرنٹنڈنٹ کے وارنٹ جاری کیے جائیں۔ اٹارنی جنرل نے عدالت سے استدعا کی کہ جیل انتظامیہ کو ایک موقع دیا جائے، جس پر عدالت نے فوری طور پر سخت کارروائی کے بجائے مزید قانونی پیش رفت کا انتظار کیا۔ جسٹس شاہد نے حکومت کی نظرثانی درخواست کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے اس میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ عمران خان کا نجی ہسپتال میں علاج نہیں ہوسکتا۔ اٹارنی جنرل نے بتایا کہ عدالت کے حکم پر متعلقہ ریکارڈ فراہم کردیا گیا ہے۔ جسٹس شاہد وحید نے واضح کیا کہ عدالت وفاقی آئینی عدالت کے دائرہ اختیار اور آئین کی منشا کو سمجھنے کی کوشش کر رہی ہے اور عدلیہ کے درمیان باہمی احترام کی قائل ہے، اس لیے ان کے سوالات کو منفی مطلب نہ دیا جائے۔
دوسری جانب وفاقی آئینی عدالت کے سامنے اصل مقدمہ اڈیالہ جیل کے تین قیدیوں کی درخواستوں سے متعلق ہے، جنہوں نے نجی ہسپتال میں علاج کی سہولت فراہم کرنے کی اجازت طلب کی ہے۔ ان درخواست گزاروں کا مؤقف ہے کہ اگر کسی ایک قیدی کو نجی ہسپتال میں علاج کی سہولت فراہم کی جاسکتی ہے تو مساوی آئینی حقوق کے تحت دیگر قیدیوں کو بھی یہ حق ملنا چاہیے۔ چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے اس معاملے کی سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ سے عمران خان کے مقدمے کا مکمل ریکارڈ طلب کیا، جس میں ہسپتال منتقلی، توہین عدالت کی درخواست، جیل میں ملاقاتوں اور حکومت کی نظرثانی درخواست سے متعلق ریکارڈ بھی شامل ہے۔
وفاقی آئینی عدالت میں سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے ایک آئینی شق کا حوالہ دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ وفاقی آئینی عدالت آئینی تشریح سے متعلق سوال پر ملک کی کسی بھی عدالت سے ریکارڈ طلب کرسکتی ہے۔ جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیے کہ درخواست گزار قیدیوں کا مؤقف ہے کہ آئین اور قانون کا اطلاق امیر اور غریب پر یکساں ہونا چاہیے۔ جسٹس علی باقر نجفی نے سوال کیا کہ کیا حکومت نے سپریم کورٹ میں اس معاملے پر اعتراض اٹھایا تھا، جس پر اٹارنی جنرل نے بتایا کہ سپریم کورٹ نے حکومت کو نوٹس جاری کیے بغیر حکم دیا تھا اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے وہاں اعتراض اٹھایا تھا۔
وفاقی آئینی عدالت نے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس سے قیدیوں کو نجی ہسپتالوں میں علاج کی سہولت سے متعلق دیگر مقدمات کا ریکارڈ بھی طلب کیا ہے، جس کے بعد عمران خان کی ہسپتال منتقلی کا معاملہ محض ایک طبی درخواست کے بجائے آئینی تشریح، بنیادی حقوق اور عدالتوں کے دائرہ اختیار کے سوال سے جڑ گیا ہے۔ سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران بھی یہ نکتہ سامنے آیا کہ بنیادی حقوق کا معاملہ تقریباً ہر فوجداری مقدمے میں موجود ہوسکتا ہے، جبکہ وفاقی آئینی عدالت کے حکم میں یہ تعین کرنے کی بات کی گئی ہے کہ بنیادی حقوق سے متعلق معاملات کون سی عدالت سن سکتی ہے۔
وفاقی آئینی عدالت کی جانب سے ریکارڈ طلب کیے جانے کے بعد سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل کی درخواست پر عمران خان کی ہسپتال منتقلی سے متعلق کیس کی سماعت تین ہفتوں کے لیے ملتوی کردی۔ اس صورتحال میں عمران خان کو شفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے، میڈیکل بورڈ کی تشکیل، اہل خانہ اور ذاتی معالجین سے ملاقاتوں سمیت سپریم کورٹ کے 18 اگست کے عبوری حکم کے دیگر حصوں پر عملدرآمد کا معاملہ بھی آئندہ عدالتی پیش رفت سے مشروط ہوگیا ہے۔ قانونی حلقوں کے مطابق پہلے یہ طے ہونا ضروری ہے کہ آئینی تشریح اور بنیادی حقوق کے ان سوالات پر وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار کی حدود کیا ہیں، جس کے بعد ہی عمران خان کی نجی ہسپتال منتقلی سے متعلق درخواست پر مزید کارروائی کی سمت واضح ہوگی۔
