ڈیوٹی میں بڑی کمی،کون کون ساموبائل فون سستا ہونے والا ہے؟

پاکستان میں موبائل فون استعمال کرنے والوں کے لیے حکومت کی جانب سے ایک اہم فیصلہ سامنے آیا ہے۔ درآمدی موبائل فونز پر ریگولیٹری ڈیوٹی میں کمی کردی گئی ہے، جس کے بعد مختلف قیمتوں کے موبائل فونز کے لیے ڈیوٹی کے نئے سلیب مقرر کیے گئے ہیں۔ سب سے زیادہ قیمت والے فونز پر فی فون ریگولیٹری ڈیوٹی 22 ہزار روپے سے کم کرکے 17 ہزار 600 روپے کردی گئی ہے، یعنی اس کیٹیگری میں فی فون 4,400 روپے کی کمی ہوئی ہے۔ اب سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ حکومت کی جانب سے ڈیوٹی کم کرنے کے بعد کیا موبائل فون واقعی مارکیٹ میں سستے ہوں گے اور اگر ہوں گے تو عام صارف کو اس کا کتنا فائدہ پہنچے گا؟

نئے سلیب کے مطابق 30 ڈالر تک مالیت کے موبائل فونز پر ریگولیٹری ڈیوٹی 300 روپے سے کم کرکے 240 روپے کردی گئی ہے، جبکہ 30 سے 100 ڈالر تک کے فونز پر ڈیوٹی 3 ہزار روپے سے کم ہوکر 2,400 روپے رہ گئی ہے۔ 100 سے 200 ڈالر تک کے موبائل فونز پر ریگولیٹری ڈیوٹی 7,500 روپے سے کم کرکے 6 ہزار روپے، 200 سے 350 ڈالر تک کے فونز پر 11 ہزار سے کم کرکے 8,800 روپے اور 350 سے 500 ڈالر تک کے فونز پر 15 ہزار سے کم کرکے 12 ہزار روپے کردی گئی ہے۔ 500 ڈالر سے زیادہ مالیت کے موبائل فونز پر سب سے نمایاں کمی کی گئی ہے اور یہ ڈیوٹی 22 ہزار سے کم ہوکر 17 ہزار 600 روپے فی فون مقرر کی گئی ہے۔

حکومت نے صرف ریگولیٹری ڈیوٹی میں ہی تبدیلی نہیں کی بلکہ بعض موبائل فونز پر ایڈیشنل کسٹمز ڈیوٹی بھی 6 فیصد سے کم کرکے 4 فیصد کردی ہے۔ اسی طرح سی کے ڈی اور ایس کے ڈی حالت میں درآمد کیے جانے والے موبائل فونز پر ریگولیٹری ڈیوٹی 5 فیصد سے کم کرکے 4 فیصد کردی گئی ہے۔ ان اقدامات کا بنیادی اثر موبائل فونز کی درآمدی لاگت پر پڑ سکتا ہے، تاہم اس کا یہ مطلب لازماً نہیں کہ صارف کو ہر موبائل فون کی قیمت میں اتنی ہی رقم کی کمی نظر آئے گی جتنی ڈیوٹی میں کی گئی ہے۔

موبائل فون کی حتمی قیمت صرف ریگولیٹری ڈیوٹی سے طے نہیں ہوتی۔ درآمدی فون کی قیمت میں کسٹمز ڈیوٹی، مختلف ٹیکسز، ڈالر کی شرحِ تبادلہ، شپنگ اور دیگر درآمدی اخراجات، کمپنی یا درآمد کنندہ کا مارجن اور ریٹیلر کا منافع سمیت متعدد عوامل شامل ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اگر کسی فون پر حکومت نے 4,400 روپے ڈیوٹی کم کی ہے تو ضروری نہیں کہ دکان پر صارف کو بھی اسی فون کی قیمت میں پورے 4,400 روپے کی کمی نظر آئے۔

موبائل فون انڈسٹری کے ماہر خرم عباس کے مطابق ڈیوٹی میں کمی سے صارفین کو ریلیف ملنے کا امکان موجود ہے، تاہم حقیقی فائدہ اس بات پر منحصر ہوگا کہ درآمد کنندگان اور ریٹیلرز اس کمی کو کس حد تک موبائل فونز کی حتمی قیمت میں منتقل کرتے ہیں۔ ان کے مطابق صرف ریگولیٹری ڈیوٹی میں کمی کو موبائل فون کی قیمت میں اسی تناسب سے کمی کا ضامن قرار نہیں دیا جاسکتا، کیونکہ دیگر ٹیکسز، درآمدی اخراجات، ڈالر کی قدر اور مارکیٹ مارجن بھی قیمت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

یہی وہ مقام ہے جہاں حکومت کے فیصلے کا اصل امتحان شروع ہوگا۔ اگر درآمد کنندگان ڈیوٹی میں کمی کا مکمل یا بڑا حصہ صارفین تک منتقل کرتے ہیں تو مارکیٹ میں موبائل فونز کی قیمتوں میں کمی آسکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں خاص طور پر مہنگے اسمارٹ فونز خریدنے والے صارفین کو نسبتاً زیادہ فائدہ ہوسکتا ہے۔ لیکن اگر اسی دوران ڈالر مہنگا ہوجاتا ہے، درآمدی اخراجات بڑھ جاتے ہیں یا کاروباری مارجن میں اضافہ کردیا جاتا ہے تو ڈیوٹی میں کمی کا اثر صارف تک محدود پیمانے پر پہنچ سکتا ہے۔

دوسری جانب پاکستان میں موبائل فونز کی درآمد پہلے ہی بڑھ رہی ہے۔ مالی سال 2025-26 کے دوران اسمارٹ فونز اور سیلولر فونز کی مجموعی درآمدات تقریباً 1.888 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جبکہ گزشتہ مالی سال میں یہ حجم تقریباً 1.497 ارب ڈالر تھا۔ اس طرح ایک سال کے دوران موبائل فونز کی درآمد میں تقریباً 391 ملین ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ مکمل طور پر تیار حالت میں درآمد کیے جانے والے موبائل فونز، یعنی سی بی یو فونز کی درآمدی مالیت بھی مالی سال 2025-26 میں بڑھ کر 357.7 ملین ڈالر ہوگئی۔

درآمدات میں یہ اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان میں موبائل فونز کی طلب خاصی اہم ہے اور صارفین نئی ٹیکنالوجی، بہتر کیمروں، زیادہ طاقتور پروسیسرز اور جدید خصوصیات والے فونز کی جانب مسلسل متوجہ ہیں۔ تاہم زیادہ قیمتوں اور ٹیکسوں کے باعث جدید موبائل فون عام صارف کی پہنچ سے باہر بھی ہوتے رہے ہیں۔ ایسے میں ڈیوٹی میں کمی مارکیٹ میں قیمتوں کے دباؤ کو کچھ کم کرسکتی ہے، بشرطیکہ اس کا فائدہ حقیقی طور پر خریدار تک منتقل ہو۔

اس فیصلے کا ایک اور اہم پہلو مقامی موبائل فون مینوفیکچرنگ اور اسمبلنگ کی صنعت ہے۔ پاکستان میں موبائل ڈیوائسز کی مقامی تیاری کے لیے 2020-25 کی پالیسی اپنی مدت مکمل کرچکی ہے، جبکہ نئی موبائل ڈیوائس مینوفیکچرنگ پالیسی وفاقی حکومت کی منظوری کی منتظر ہے۔ اس صورتحال میں درآمدی موبائل فونز پر ڈیوٹی کم کرنے کے ساتھ مقامی صنعت کے تحفظ اور فروغ کا سوال بھی اہم ہوجاتا ہے۔

اگر مکمل تیار موبائل فونز نسبتاً کم قیمت پر دستیاب ہوتے ہیں تو صارفین کو زیادہ برانڈز اور ماڈلز میں انتخاب مل سکتا ہے، لیکن دوسری طرف مقامی اسمبلنگ اور مینوفیکچرنگ کرنے والی کمپنیوں کے لیے درآمدی فونز کے ساتھ مقابلہ بھی بڑھ سکتا ہے۔ اس لیے موبائل فون پالیسی کا مقصد صرف فوری طور پر قیمتیں کم کرنا نہیں بلکہ ایسی متوازن حکمت عملی بنانا بھی ہونا چاہیے جس میں صارفین کو مناسب قیمت پر معیاری فون دستیاب ہوں، مقامی صنعت ترقی کرے اور ملک میں موبائل ڈیوائسز کی تیاری کے لیے سرمایہ کاری کے مواقع بھی بڑھیں۔

اب آنے والے دنوں میں سب کی نظریں موبائل فون مارکیٹ پر ہوں گی کہ ڈیوٹی میں کمی کا اثر عملی طور پر قیمتوں میں کس حد تک نظر آتا ہے۔ صارف کے لیے اصل ریلیف حکومتی نوٹیفکیشن میں ڈیوٹی کی رقم کم ہونے سے نہیں بلکہ دکان پر موبائل فون کی قیمت کم ہونے سے ظاہر ہوگا۔ اگر درآمد کنندگان اور ریٹیلرز ڈیوٹی میں کمی کا فائدہ صارفین تک منتقل کرتے ہیں تو یہ فیصلہ موبائل فون خریداروں کے لیے حقیقی ریلیف بن سکتا ہے، لیکن اگر دیگر اخراجات اور مارکیٹ مارجن اس کمی کو جذب کرلیتے ہیں تو صارف کو معمولی فرق ہی محسوس ہوگا۔

یوں موبائل فونز پر ڈیوٹی میں کمی بظاہر صارفین کے لیے مثبت امکان ضرور پیدا کرتی ہے، لیکن اصل سوال اب بھی باقی ہے: حکومت نے ڈیوٹی کم کردی، کیا مارکیٹ بھی موبائل فون کی قیمت اتنی ہی کم کرے گی؟ اس سوال کا جواب آنے والے دنوں میں مارکیٹ کی قیمتیں ہی دیں گی۔

Back to top button