عمران خان کی قید پر سابق 7کرکٹ کپتان پریشان کیوں؟

پاکستان کے سابق وزیراعظم اور سابق کرکٹر عمران خان کی حراست کا معاملہ ایک بار پھر عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ آسٹریلیا کے 7 سابق کرکٹ کپتانوں نے اپنی وزیر خارجہ پینی وونگ کو خط لکھ کر عمران خان کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر انسانی بنیادوں سے متعلق تشویش کا اظہار کرنے اور یہ معاملہ پاکستانی حکومت کے سامنے اٹھانے پر زور دیا ہے۔ خط لکھنے والوں میں ایلن بارڈر، گریگ چیپل، ایان چیپل، بیلنڈا کلارک، کم ہیوز، مارک ٹیلر اور سٹیو وا شامل ہیں۔
سابق آسٹریلوی کپتانوں نے اپنے خط میں کہا ہے کہ وہ کسی سفارتی یا سیاسی حیثیت سے نہیں بلکہ سابق کرکٹ کپتانوں کی حیثیت سے یہ معاملہ اٹھا رہے ہیں۔ ان کے مطابق عمران خان کی حراست اور وہاں ان کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر تشویش نے انہیں آواز اٹھانے پر مجبور کیا۔ خط میں اس خدشے کا بھی اظہار کیا گیا ہے کہ عمران خان دورانِ حراست جان سے جا سکتے ہیں، اس لیے آسٹریلوی حکومت کو انسانی حقوق اور قیدیوں کے ساتھ برتاؤ کے حوالے سے اپنی تشویش پاکستانی حکام تک پہنچانی چاہیے۔
رپورٹ کے مطابق 73 سالہ عمران خان کو اپریل 2022 میں عدم اعتماد کے ووٹ کے ذریعے اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد سے 100 سے زائد مقدمات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ان کے خلاف بدعنوانی، ریاستی راز افشا کرنے اور سرکاری تحائف کی غیر قانونی فروخت سمیت مختلف الزامات عائد کیے گئے۔ تاہم عمران خان نے ان تمام الزامات کی تردید کی ہے، جبکہ پاکستان تحریک انصاف کا مؤقف ہے کہ ان کے خلاف قائم کیے جانے والے مقدمات سیاسی نوعیت کے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عمران خان کے خلاف عائد کی گئی زیادہ تر سزائیں ختم یا معطل ہو چکی ہیں، تاہم وہ اب بھی حراست میں ہیں۔ اسی صورتحال کے باعث ان کی صحت، طبی سہولیات اور قید کے حالات سے متعلق سوالات مسلسل سامنے آ رہے ہیں۔ سابق آسٹریلوی کپتانوں نے اپنے خط میں واضح کیا ہے کہ وہ عمران خان کے خلاف قانونی مقدمات کے میرٹ یا پاکستان کے سیاسی معاملات پر کوئی مؤقف اختیار نہیں کر رہے، بلکہ ان کی تشویش حراست میں موجود کسی بھی شخص کے ساتھ انسانی اور مناسب برتاؤ سے متعلق ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ کسی قیدی کے ساتھ اچھا سلوک اس کی سیاسی وابستگی یا نظریات سے مشروط نہیں ہونا چاہیے۔ سابق کپتانوں کے مطابق یہ بنیادی انسانی معاملہ ہے، جسے سیاسی اختلافات سے الگ رکھ کر دیکھا جانا چاہیے۔ اس مؤقف کے ذریعے انہوں نے عمران خان کے مقدمات کے بجائے ان کی حراست کے دوران انسانی حقوق، طبی سہولیات اور سلامتی کے معاملات پر توجہ مرکوز کی ہے۔
عمران خان کی حراست پر یہ پہلا بین الاقوامی ردعمل نہیں۔ اس سے قبل دنیا بھر کے 22 سابق کرکٹ کپتانوں نے 23 اگست کو وزیراعظم شہباز شریف کو خط لکھ کر عمران خان کو بہتر طبی سہولیات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ رواں برس فروری میں بھی 14 سابق بین الاقوامی کپتانوں کی جانب سے عمران خان کے حق میں خط سامنے آیا تھا۔ اس کے علاوہ سابق پاکستانی کرکٹرز جاوید میانداد، وسیم اکرم اور معین خان نے بھی اس معاملے پر اظہارِ خیال کیا، جبکہ موجودہ آسٹریلوی کپتان پیٹ کمنز نے بھی عمران خان کی صورتحال کے حوالے سے بات کی ہے۔
دوسری جانب پاکستان کی وزارت اطلاعات و نشریات نے عمران خان کے ساتھ قید کے دوران مبینہ ناروا سلوک، قیدِ تنہائی یا بنیادی سہولیات سے محرومی کے الزامات مسترد کیے ہیں۔ وزارت کے مطابق عمران خان کی قید مجاز عدالتوں کی جانب سے قانونی کارروائی کے بعد سنائی گئی سزاؤں کا نتیجہ ہے اور انہیں پاکستانی قوانین کے تحت دستیاب قانونی چارہ جوئی کا حق حاصل ہے۔
یوں عمران خان کی حراست کا معاملہ ایک طرف پاکستان کے عدالتی اور سیاسی نظام سے متعلق بحث کا حصہ ہے، جبکہ دوسری جانب ان کی طبی سہولیات اور قیدی کی حیثیت سے حقوق کے حوالے سے بین الاقوامی توجہ بھی حاصل کر رہا ہے۔ سابق آسٹریلوی کپتانوں کا خط اس بحث میں ایک تازہ پیش رفت ہے، جس میں قانونی مقدمات کے فیصلے پر رائے دینے کے بجائے حراست کے دوران انسانی برتاؤ اور سلامتی کو بنیادی مسئلہ قرار دیا گیا ہے۔
