عمران خان پر بننے والی فلم ’کرکٹر‘35 سال بعد بھی مکمل کیوں نہ ہو سکی؟

عمران خان کی زندگی صرف کرکٹ اور سیاست ہی کے میدانوں تک محدود نہیں رہی بلکہ ان کی غیر معمولی شہرت نے کئی دہائیوں پہلے فلمی دنیا کو بھی اپنی جانب متوجہ کر لیا تھا۔ آج جب عمران خان ملکی سیاست میں اپنی پہچان بنا چکے ہیں، تو 35 سال پرانی وہ کہانی ایک بار پھر سامنے آئی ہے جب ان کی زندگی پر فلم بنانے کی پہلی سنجیدہ کوشش کی گئی تھی، فلم کا نام ’کرکٹر‘ تجویز کیا گیا، عمران خان کا کردار ادا کرنے کے لیے اداکار کا انتخاب بھی کر لیا گیا، ڈیڑھ لاکھ روپے کی خطیر رقم بطور ایڈوانس ادا کر دی گئی، فوٹو شوٹ تک ہو گیا اور 1992 کے ورلڈ کپ سے پہلے فلم ریلیز کرنے کی امید بھی پیدا ہو گئی، لیکن فلم کی شوٹنگ شروع ہونے سے پہلے ہی یہ منصوبہ ختم ہوگیا۔

یہ وہ زمانہ تھا جب پاکستانی فلمی صنعت اپنے سنہری دور سے گزرنے کے بعد بتدریج زوال کی طرف بڑھ رہی تھی۔ 1975 کے بعد فلمی صنعت کی چمک ماند پڑنے لگی، پہلے کلر ٹی وی نے سینما کی کشش کو متاثر کیا اور پھر وی سی آر نے فلمی کاروبار کو مزید نقصان پہنچایا۔ دوسری طرف کھیلوں کی دنیا میں پاکستانی کھلاڑیوں کی مقبولیت بڑھ رہی تھی اور ان میں عمران خان کا ستارہ تیزی سے بلند ہو رہا تھا۔ 1980 کی دہائی میں عمران خان صرف پاکستان کے مقبول ترین کرکٹرز میں شامل نہیں تھے بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک نمایاں شخصیت بن چکے تھے۔

اسی دور میں بھارت میں کرکٹ کو موضوع بنا کر متعدد فلمیں بنائی جا رہی تھیں۔ 1983 سے 1992 کے درمیان ’آل راؤنڈر‘، ’اول نمبر‘ اور ’تیسرا کون؟‘ جیسی فلمیں سامنے آئیں اور عمران خان کے اسٹار امیج کی جھلک بھی ان فلموں میں محسوس کی جاتی تھی۔ پاکستان میں بھی عمران خان جیسے حلیے اور شخصیت رکھنے والے اداکاروں کی مانگ پیدا ہوئی۔ اس فہرست میں اسماعیل شاہ، جاوید شیخ اور جہانزیب خان جیسے نام شامل تھے، جن کے ظاہری حلیے میں کلین شیو چہرہ، لمبے بال اور اس دور کا مقبول انداز نمایاں تھا۔

اسی ماحول میں عمران خان کی زندگی پر فلم بنانے کا خیال سامنے آیا اور اس منصوبے کے لیے جہانزیب خان کو عمران خان کا کردار ادا کرنے کے لیے منتخب کیا گیا۔ جہانزیب خان کے مطابق یہ انتخاب خود عمران خان نے کیا تھا۔ جہانزیب پہلے ہی عمران خان کے ہم شکل کے طور پر شہرت حاصل کر چکے تھے اور 1988 میں ایک چائے کے اشتہار کے مقابلے میں انہیں عمران خان کے انداز میں پیش کیا گیا تھا۔ یہی مشابہت بعد میں فلم ’کرکٹر‘ کے لیے ان کے انتخاب کی ایک بڑی وجہ بنی۔

جہانزیب خان کے مطابق اس فلم کا منصوبہ نجمہ کاظمی نامی ایک خاتون سرمایہ کار نے بنایا تھا، جن کا تعلق برطانیہ کے شہر روچڈیل سے تھا۔ نجمہ کاظمی نے لاہور میں جہانزیب سے ملاقات کی اور بتایا کہ وہ عمران خان کی زندگی پر فلم بنانا چاہتی ہیں۔ وہ عمران خان سے زمان پارک میں ملاقات بھی کر چکی تھیں اور ان سے فلم میں کام کرنے کی درخواست کی تھی، لیکن عمران خان نے اداکاری سے انکار کر دیا۔ جہانزیب کے مطابق عمران خان کو اپنی زندگی پر فلم بننے پر اعتراض نہیں تھا، مسئلہ صرف یہ تھا کہ وہ خود اداکاری نہیں کرنا چاہتے تھے۔

یہاں جہانزیب خان کے لیے عمران خان کا کردار ادا کرنے کا راستہ کھلا۔ ان کے مطابق نجمہ کاظمی نے پہلی ملاقات میں ہی انہیں عمران خان کے کردار کے لیے ڈیڑھ لاکھ روپے بطور ایڈوانس ادا کیے اور ان سے فلم کے لیے تاریخیں بھی لے لیں۔ اس زمانے میں فلمی صنعت میں معاملات آج کی طرح باقاعدہ تحریری معاہدوں کے ذریعے طے نہیں ہوتے تھے بلکہ زبانی وعدوں اور نقد ادائیگیوں پر بھی کام چل جاتا تھا۔ جہانزیب کے مطابق اس دور میں ڈیڑھ لاکھ روپے بہت بڑی رقم تھی اور وہ اس کردار کے لیے پوری تیاری کے ساتھ میدان میں اترنے لگے۔

فلم کے لیے قذافی سٹیڈیم میں فوٹو شوٹ بھی کیا گیا، جہاں جہانزیب نے کرکٹ کٹ پہن کر بیٹنگ اور بولنگ کی۔ وہ صرف تصویری شکل میں عمران خان سے مشابہ نظر آنے پر اکتفا نہیں کرنا چاہتے تھے بلکہ کرکٹ کے کھیل میں بھی اپنی روانی واپس لانے کے لیے باقاعدہ نیٹ پریکٹس کرتے رہے۔ ان کے مطابق وہ اپنے ملازم کو ساتھ لے کر قذافی سٹیڈیم جاتے اور وہاں بیٹنگ اور بولنگ کی مشق کرتے تھے تاکہ جب فلم کی شوٹنگ شروع ہو تو ان کی حرکات اور کھیلنے کا انداز زیادہ فطری دکھائی دے۔

اس دوران فلم کے پوسٹر اور تشہیری مواد کے لیے تصاویر بھی تیار کی گئیں اور یہ خبر فلمی حلقوں میں پھیل گئی کہ جہانزیب خان عمران خان کا کردار ادا کرنے جا رہے ہیں۔ منصوبہ یہ تھا کہ فلم کی کہانی مکمل کی جائے، شوٹنگ شروع ہو اور 1992 کے ورلڈ کپ سے پہلے فلم کو سینما گھروں کی زینت بنا دیا جائے۔ بظاہر ’کرکٹر‘ ایک ایسے وقت میں سامنے آنے والی تھی جب عمران خان اپنی کرکٹ کے عروج پر تھے اور پاکستانی ٹیم بھی عالمی سطح پر ایک بڑی کامیابی کی جانب بڑھ رہی تھی۔

لیکن فلمی صنعت کی اندرونی کشمکش نے اس منصوبے کا رخ ہی بدل دیا۔ جہانزیب خان کے مطابق جب یہ خبر پھیلی کہ عمران خان کا کردار وہ ادا کریں گے تو مختلف افراد نے نجمہ کاظمی سے رابطے شروع کر دیے۔ کئی لوگوں نے خود کو اس کردار کے لیے موزوں قرار دیا اور مرکزی کردار حاصل کرنے کی کوشش کی۔ اس بڑھتے ہوئے دباؤ کے دوران ایک ایسا نام بھی سامنے آیا جو اس وقت پاکستانی پنجابی فلموں کی دنیا کا سب سے بڑا ستارہ تھا، سلطان راہی۔

جہانزیب خان کا دعویٰ ہے کہ سلطان راہی خود نجمہ کاظمی کے پاس گئے اور عمران خان کا کردار ادا کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ ان کا مؤقف تھا کہ انہیں طویل عرصے سے روایتی گنڈاسا بردار کرداروں تک محدود رکھا جاتا رہا ہے، اس لیے وہ ایک جدید قومی ہیرو کا کردار ادا کرنے کے بھی اہل ہیں۔ یوں فلم ’کرکٹر‘ کے مرکزی کردار کے گرد دباؤ بڑھتا چلا گیا۔

جہانزیب کے مطابق اس صورتحال سے نجمہ کاظمی شدید دباؤ میں آگئیں۔ فلم کی کہانی پر کام جاری تھا، ادائیگی ہو چکی تھی اور پوسٹر کے لیے فوٹو شوٹ بھی مکمل ہو چکا تھا، لیکن فلم کی باقاعدہ شوٹنگ ابھی شروع نہیں ہوئی تھی۔ ان کے بقول بالآخر نجمہ کاظمی نے فلم بنانے کا فیصلہ ہی ترک کر دیا۔ جہانزیب کا دعویٰ ہے کہ انہیں بتایا گیا کہ مختلف لوگوں کی جانب سے آنے والے دباؤ نے سرمایہ کار کو خوفزدہ کر دیا تھا۔

جہانزیب کے مطابق نجمہ کاظمی نے نہ صرف فلم چھوڑ دی بلکہ ان سے یہ بھی کہا کہ وہ دی گئی رقم واپس نہیں لینا چاہتیں کیونکہ جہانزیب نے اپنا وقت اور تاریخیں اس منصوبے کے لیے دی تھیں۔ جہانزیب کا کہنا ہے کہ اس وقت ڈیڑھ لاکھ روپے معمولی رقم نہیں تھی۔ ان کے مطابق اس زمانے میں تقریباً 600 روپے میں ایک خاندان کا مہینے بھر کا سودا آ جاتا تھا جبکہ پٹرول تقریباً 10 روپے فی لیٹر تھا، اس لیے فلم کے لیے ملنے والی رقم کی اس دور میں خاصی اہمیت تھی۔

یہ واقعہ جہانزیب خان کے لیے بھی ایک اہم موڑ ثابت ہوا۔ وہ پہلے ہی پاکستانی فلمی صنعت کے ماحول سے خوش نہیں تھے اور ’کرکٹر‘ کے منصوبے کے ختم ہونے کے بعد ان کی فلموں سے دلچسپی مزید کم ہوگئی۔ انہوں نے اپنے باقی ماندہ منصوبے مکمل کیے اور 1993 میں معروف سیلیبریٹی شیف فرح سے شادی کے بعد فلمی دنیا سے کنارہ کشی اختیار کرلی اور اپنی خاندانی زندگی پر توجہ مرکوز کر دی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ عمران خان کا کردار ادا کرنے کا خواب اگرچہ جہانزیب خان کے ذریعے ’کرکٹر‘ میں پورا نہ ہو سکا، لیکن سلطان راہی نے کرکٹ اور فلم کو ملانے کا ایک اور راستہ ضرور نکال لیا۔ ان کی فلم ’چھکا‘ تقریباً اسی زمانے میں ریلیز ہوئی جب ’کرکٹر‘ کو 1992 کے ورلڈ کپ کے آس پاس ریلیز کرنے کا منصوبہ تھا۔ فلم کے اختتامی مناظر میں سلطان راہی کو کرکٹ کے میدان میں بیٹ اور وکٹوں کے ساتھ ایک ایسے انداز میں دکھایا گیا جس میں عمران خان کے اسٹار امیج کی جھلک محسوس کی جا سکتی تھی۔

عمران خان کی زندگی پر فلم بنانے کی یہ کوشش بھی اس بات کی یاد دہانی ہے کہ ان کی شخصیت نے کرکٹ کے میدان میں عروج حاصل کرنے کے دوران ہی عوامی ثقافت اور فلمی دنیا کو کس حد تک متاثر کیا تھا۔ ’کرکٹر‘ مکمل نہ ہو سکی، لیکن اس کے پیچھے موجود کہانی پاکستانی فلمی صنعت کے اس دور، عمران خان کی غیر معمولی مقبولیت اور اس زمانے کے فلمی کاروبار کی اندرونی کشمکش کی ایک دلچسپ جھلک پیش کرتی ہے۔

یہ بھی قابل ذکر ہے کہ ’کرکٹر‘ کے بعد عمران خان کی زندگی کو فلمی پردے پر لانے کی کوششیں ختم نہیں ہوئیں۔ معروف ہدایت کار جمشید محمود رضا المعروف جامی نے 1992 کے ورلڈ کپ کی فتح کو فلمی شکل دینے کا منصوبہ بنایا، جبکہ 2018 میں ’کپتان‘ نامی فلم کا چرچا بھی ہوا جس میں عبدالمنان نے عمران خان اور سعیدہ امتیاز نے جمائما خان کا کردار ادا کیا، تاہم یہ منصوبے بھی مکمل فلم کی شکل میں سامنے نہ آ سکے۔ یوں عمران خان کی زندگی پر بننے والی فلموں کی تاریخ میں 35 سال پہلے شروع ہونے والی ’کرکٹر‘ کی کہانی آج بھی ایک نامکمل مگر غیر معمولی فلمی قصہ بنی ہوئی ہے۔

Back to top button