لاہور میں بسنت کب منائی جائے گی؟ بڑا فیصلہ ہو گیا

لاہور میں بسنت کی واپسی کی تیاریاں شروع ہوتے ہی حکومت نے تہوار کو محفوظ بنانے کے لیے حفاظتی اقدامات کا باقاعدہ خاکہ جاری کر دیا ہے۔ پنجاب کے محکمہ داخلہ کی جانب سے آئندہ برس لاہور میں 12، 13 اور 14 مارچ 2027 کو بسنت منانے کے لیے 14 اہم ہدایات جاری کی گئی ہیں، جن کا بنیادی مقصد پتنگ بازی کے دوران انسانی جانوں کے تحفظ، شہریوں کی سہولت اور خطرناک سرگرمیوں کی روک تھام یقینی بنانا ہے۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ بسنت صرف مقررہ تاریخوں اور اجازت یافتہ مقامات پر ہی منائی جا سکے گی، جبکہ تہوار سے پہلے اور بعد میں پنجاب بھر میں پتنگ بازی پر پابندی برقرار رہے گی۔
محکمہ داخلہ کی ہدایات کے مطابق مقررہ تاریخوں سے پہلے یا بعد میں پتنگ بازی کرنے پر 5 سال تک قید اور 20 لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکے گا۔ اسی طرح حکومتی اجازت ملنے سے پہلے پتنگوں اور ڈور کی تیاری، ترسیل یا فروخت کی صورت میں 7 سال تک قید اور 50 لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا مقرر کی گئی ہے۔ ان سخت سزاؤں کا مقصد پتنگ بازی کے دوران خطرناک ڈور اور غیر قانونی کاروبار کی روک تھام کرنا ہے، تاکہ تہوار کے نام پر ایسی سرگرمیوں کو فروغ نہ ملے جو شہریوں کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔
حفاظتی ہدایات میں چھتوں کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ کسی غیر محفوظ یا ناپائیدار چھت پر پتنگ بازی کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ جن چھتوں کو پتنگ بازی کے لیے استعمال کیا جائے گا وہاں دیواروں اور گرِل کی اونچائی کم از کم ساڑھے 3 فٹ اور ان کا مضبوط ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ ان چھتوں کو محفوظ بنانے کی ذمہ داری عمارت کے مالکان پر عائد ہوگی۔ حکومت نے اجازت یافتہ مقامات پر چھتوں، منڈیروں اور سیڑھیوں کی ضروری مرمت 31 دسمبر 2026 تک مکمل کرنے کی ہدایت بھی جاری کی ہے، تاکہ بسنت کے دوران چھتوں پر موجود افراد کسی حادثے کا شکار نہ ہوں۔
بسنت کے دوران سڑکوں پر موٹر سائیکل سواروں کی حفاظت بھی ایک اہم مسئلہ سمجھی گئی ہے۔ اسی لیے سٹی ٹریفک پولیس لاہور کو ہدایت کی گئی ہے کہ بسنت سے قبل 20 لاکھ سے زائد موٹر سائیکلوں پر حفاظتی راڈز مفت نصب کیے جائیں۔ پتنگ کی ڈور کے باعث موٹر سائیکل سواروں کے لیے پیدا ہونے والے خطرات کے پیش نظر یہ اقدام شہریوں کے تحفظ کے حوالے سے خصوصی اہمیت رکھتا ہے، تاہم اس بڑے ہدف کے لیے مؤثر انتظام، بروقت تنصیب اور عوامی تعاون بھی ضروری ہوگا۔
پتنگ اور ڈور کے کاروبار کو بھی مقررہ قوانین کے تحت لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ہدایات کے مطابق پتنگ اور ڈور کی تیاری، ترسیل اور فروخت کے لیے مقررہ حدود اور ضوابط کے مطابق اجازت نامے جاری کیے جائیں گے۔ اس اقدام کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ بسنت کے دوران استعمال ہونے والی اشیا کی تیاری اور فروخت مکمل طور پر ضابطے کے تحت ہو اور ممنوعہ یا خطرناک مواد کے استعمال کی روک تھام کی جا سکے۔
بسنت کے دوران درختوں، بجلی کے کھمبوں اور تاروں پر پھنسنے والی پتنگیں بھی شہریوں کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔ اس حوالے سے پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ شہر کے درختوں جبکہ لیسکو کو بجلی کے کھمبوں اور تاروں سے پتنگیں محفوظ طریقے سے اتارنے اور تلف کرنے کے اقدامات کرے۔ اس ہدایت کا مقصد شہریوں کو خود خطرناک مقامات پر جا کر پتنگیں اتارنے سے روکنا اور بجلی کے نظام کو ممکنہ نقصان سے محفوظ رکھنا بھی ہے۔
عمارتوں کی لفٹس اور چھتوں کے حوالے سے بھی خصوصی حفاظتی شرائط عائد کی گئی ہیں۔ بسنت کے ایام میں عمارتوں کی لفٹس کے لیے سیفٹی سرٹیفکیٹ حاصل کرنا لازمی ہوگا جبکہ چھتوں پر آتش گیر مواد رکھنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اس کے علاوہ تمام اجازت یافتہ مقامات پر ابتدائی طبی امداد کا سامان موجود ہونا ضروری قرار دیا گیا ہے تاکہ کسی حادثے یا ہنگامی صورتحال کی صورت میں فوری طبی مدد فراہم کی جا سکے۔
حکومت نے بچوں کی حفاظت کی ذمہ داری بھی واضح طور پر والدین، سرپرستوں اور بسنت کے منتظمین پر عائد کی ہے۔ پتنگ بازی کے دوران بچوں کو چھتوں پر لے جانے، ان کی نگرانی اور انہیں خطرناک مقامات سے دور رکھنے کے لیے خصوصی احتیاط کی ضرورت ہوگی۔ منتظمین کو تمام قوانین اور حفاظتی ہدایات پر عمل درآمد یقینی بنانا ہوگا جبکہ اہل علاقہ اور عام شہریوں کے لیے پریشانی، ہراسانی یا غیر مہذب رویے کی بھی اجازت نہیں ہوگی۔
محکمہ داخلہ کی جانب سے شہریوں کو یہ سہولت بھی دی گئی ہے کہ وہ کسی غیر محفوظ، غیر قانونی یا غیر مہذب سرگرمی کی اطلاع ایمرجنسی 15 پر دے سکیں گے۔ اس طرح حکومت نے ایک طرف بسنت کے روایتی تہوار کی اجازت دینے کی تیاری کی ہے تو دوسری جانب اس کے انعقاد کو حفاظتی ضوابط سے مشروط کر دیا ہے۔
لاہور میں بسنت کی واپسی محض پتنگ بازی کی اجازت کا معاملہ نہیں بلکہ اس کے ساتھ شہریوں کی جان و مال، بجلی کے نظام، ٹریفک، عمارتوں اور عوامی نظم و ضبط کے حوالے سے متعدد ذمہ داریاں بھی جڑی ہوئی ہیں۔ 12، 13 اور 14 مارچ 2027 کے لیے جاری کردہ 14 ہدایات اسی کوشش کا حصہ ہیں کہ تہوار کی سرگرمیوں اور شہری تحفظ کے درمیان توازن قائم رکھا جائے۔ اب اصل امتحان ان ہدایات کے مؤثر نفاذ کا ہوگا، کیونکہ کسی بھی حفاظتی ضابطے کی کامیابی صرف اس کے اعلان سے نہیں بلکہ اس پر عملی اور یکساں عمل درآمد سے وابستہ ہوتی ہے۔
