27 ستمبر سے پہلے ہی PTI رہنماؤں کے گرد گھیرا تنگ کیوں ہونے لگا؟

27ستمبر کے احتجاج سے قبل تحریک انصاف کے لیے 26 نومبر احتجاج کیس ایک بار پھر سنگین قانونی مرحلے میں داخل ہوگیا ہے۔ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی سمیت پی ٹی آئی کے متعدد رہنماؤں اور ارکان اسمبلی کے خلاف قانونی کارروائی کا دائرہ مزید وسیع کردیا گیا ہے۔ ایک طرف عدالت کی جانب سے کئی رہنماؤں کے پاسپورٹ بلاک اور ضبط کرنے کے احکامات سامنے آئے ہیں تو دوسری جانب متعدد ملزمان کے گرفتاری کے وارنٹ بھی جاری یا برقرار رکھے گئے ہیں۔ ایسے میں 27 ستمبر کو اسلام آباد میں ممکنہ احتجاج اور پی ٹی آئی رہنماؤں کی آمد کے حوالے سے صورتحال مزید حساس ہوگئی ہے، کیونکہ جن افراد کے وارنٹ پہلے ہی موجود ہیں، ان کے اسلام آباد پہنچنے کی صورت میں گرفتاری کا قانونی امکان موجود ہے۔

26 نومبر کو وفاقی دارالحکومت میں ہونے والے احتجاج اور مبینہ ہنگامہ آرائی کے معاملے پر تھانہ کوہسار میں درج مقدمے میں نامزد پی ٹی آئی رہنماؤں کے بارے میں تفتیشی حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ متعدد ملزمان نہ عدالت میں پیش ہو رہے ہیں اور نہ ہی تفتیش میں تعاون کر رہے ہیں۔ حکام نے عدالت کو خدشہ ظاہر کیا کہ ملزمان قانونی کارروائی سے بچنے کے لیے ملک سے فرار ہوسکتے ہیں، جس کے پیش نظر ان کے پاسپورٹ بلاک اور ضبط کرنے کی درخواست کی گئی۔ اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے درخواست پر کارروائی کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ان رہنماؤں کے خلاف پاسپورٹ سے متعلق اقدامات کی اجازت دے دی۔

عدالتی کارروائی میں جن رہنماؤں کے نام سامنے آئے، ان میں سہیل آفریدی کے علاوہ عمر ایوب، اسد قیصر، شہرام ترکئی، شاہ احد، شیر علی ارباب، محمد اقبال آفریدی، ڈاکٹر امجد، جنید اکبر، شاہد خنک، زبیر وزیر، ارشد عمرزئی، زر عالم، میاں عمر، اختر خان، ہمایوں خان، ریاض خان، عبدالکبیر خان، الفیل انجم، آصف محسود، عجب گل، محمد عثمان، بابر سلیم سواتی اور عرفان سلیم شامل ہیں۔

عدالت کے سامنے تفتیشی افسر نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزمان کی جانب سے قانونی کارروائی سے بچنے کے لیے بیرون ملک جانے کا خدشہ موجود ہے، اس لیے ان کے پاسپورٹ بلاک کیے جائیں۔ عدالت نے پاسپورٹ سے متعلق احکامات جاری کرتے ہوئے واضح قانونی عمل کے تحت کارروائی کا راستہ کھول دیا۔ یہاں یہ فرق بھی اہم ہے کہ پاسپورٹ بلاک کرنے اور پاسپورٹ ضبط کرنے کی قانونی نوعیت ایک جیسی نہیں ہوتی۔ پاسپورٹ بلاک ہونے کی صورت میں متعلقہ شخص کا پاسپورٹ اس کے پاس موجود رہ سکتا ہے، تاہم امیگریشن اور متعلقہ سرکاری نظام میں اس کی حیثیت ایسی ہوجاتی ہے کہ وہ اس دستاویز کو استعمال کرکے قانونی طور پر بیرون ملک سفر نہیں کرسکتا۔ دوسری طرف پاسپورٹ ضبط کرنے کا مطلب یہ ہے کہ متعلقہ حکام کو پاسپورٹ اپنے قبضے میں لینے یا اس کی قانونی حیثیت معطل کرنے کا اختیار حاصل ہوجاتا ہے۔

اسی مقدمے میں اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے پی ٹی آئی کے متعدد ارکان اسمبلی کے گرفتاری کے وارنٹ بھی جاری کیے ہیں۔ ان میں ایم این ایز شاہ احد، شیر علی ارباب اور زبیر وزیر جبکہ ایم پی ایز بابر سلیم سواتی، محمد عثمان، آصف محسود، عجب گل، عمر ایوب اور عرفان سلیم سمیت دیگر نام شامل ہیں۔ اس کے علاوہ عدالت گزشتہ ہفتے بھی 26 نومبر احتجاج کیس میں خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی، جنید اکبر اور دیگر ملزمان کے وارنٹ گرفتاری برقرار رکھ چکی ہے۔

عدالت نے سماعت کے دوران ان ملزمان کی جانب سے دائر کی گئی حاضری سے استثنیٰ کی درخواستیں بھی مسترد کردی تھیں جو عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔ انسداد دہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے پولیس کو ہدایت کی تھی کہ ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی آگے بڑھاتے ہوئے چالان جلد از جلد عدالت میں پیش کیا جائے۔ اس صورتحال کے بعد سہیل آفریدی سمیت ان رہنماؤں کے لیے قانونی مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں اور بیرون ملک سفر کا راستہ بھی محدود ہوگیا ہے۔

اب سب سے اہم سوال 27 ستمبر کے ممکنہ احتجاج سے متعلق ہے۔ اگر تحریک انصاف کا قافلہ سہیل آفریدی کی قیادت میں اسلام آباد پہنچتا ہے اور ان کے ساتھ ایسے افراد بھی موجود ہوتے ہیں جن کے گرفتاری کے وارنٹ جاری ہوچکے ہیں، تو پولیس کی جانب سے ان افراد کی گرفتاری کا امکان قانونی طور پر موجود ہوگا۔ وارنٹ گرفتاری پہلے ہی جاری ہونے کی صورت میں متعلقہ قانون نافذ کرنے والے ادارے عدالتی احکامات پر عمل درآمد کرسکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ صورتحال میں اسلام آباد آمد بعض مطلوب رہنماؤں کے لیے براہ راست قانونی کارروائی کا باعث بن سکتی ہے۔

سہیل آفریدی کے حوالے سے بھی بنیادی قانونی سوال یہی ہے کہ کیا وزیر اعلیٰ کے منصب کی وجہ سے انہیں گرفتاری سے مکمل استثنیٰ حاصل ہے؟ دستیاب قانونی مؤقف کے مطابق وزیر اعلیٰ کو حاصل آئینی تحفظ ہر قسم کے مقدمات میں مکمل گرفتاری سے استثنیٰ نہیں دیتا۔ سول نوعیت کے مقدمات اور فوجداری یا دہشت گردی کے مقدمات کے قانونی تقاضے مختلف ہیں۔ فوجداری مقدمے میں کسی بھی شخص کے خلاف عدالت کی جانب سے جاری قانونی کارروائی اپنی جگہ برقرار رہ سکتی ہے، تاہم کسی برسرِ اقتدار وزیر اعلیٰ کی گرفتاری کے معاملے میں متعلقہ آئینی اور قانونی تقاضوں کو پورا کرنا ضروری ہوتا ہے۔

چنانچہ موجودہ صورتحال میں اصل معاملہ صرف سیاسی احتجاج کا نہیں بلکہ عدالت میں زیر سماعت مقدمات، گرفتاری کے وارنٹ، پاسپورٹ سے متعلق احکامات اور ملزمان کی عدالتی پیشیوں سے بھی جڑا ہوا ہے۔ 27 ستمبر کو اگر پی ٹی آئی کی جانب سے اسلام آباد میں احتجاجی سرگرمی ہوتی ہے تو اس دوران سیاسی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ ان رہنماؤں کے خلاف جاری عدالتی احکامات بھی عملی طور پر اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ یوں 26 نومبر احتجاج کیس میں شروع ہونے والی قانونی کارروائی اب اس مرحلے میں پہنچ چکی ہے جہاں پاسپورٹ بلاک ہونے، گرفتاری کے وارنٹ برقرار رہنے اور ممکنہ اسلام آباد آمد کے باعث تحریک انصاف کے متعدد رہنماؤں کے لیے قانونی مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں۔

Back to top button