آئینی عدالت: عمران خان ہسپتال منتقلی کیس، اٹارنی جنرل کے 4 قانونی سوالات تحریری حکم کا حصہ

وفاقی آئینی عدالت نے عمران خان کی شفا ہسپتال منتقلی سے متعلق درخواست پر سپریم کورٹ سمیت متعلقہ عدالتوں کا ریکارڈ طلب کرتے ہوئے اٹارنی جنرل کی جانب سے اٹھائے گئے چار اہم قانونی سوالات کو تحریری حکم کا حصہ بنا دیا۔
وفاقی آئینی عدالت نے قراردیا کہ اٹارنی جنرل کی جانب سے اٹھائے گئے قانونی نکات قابل غور ہیں، جب کہ عدالت نے عمران خان کی ہسپتال منتقلی سے متعلق درخواست سمیت متعلقہ مقدمات کا ریکارڈ طلب کرلیا ہے۔
عدالت نے پہلے سوال کے طور پر یہ نکتہ تحریری حکم کا حصہ بنایاکہ آئین کے تحت بنیادی حقوق کے نفاذ کا اختیار کس عدالت کو حاصل ہے۔
دوسرے سوال میں پوچھا گیاکہ آئین اور پرزن رولز 1978 کے تحت قیدیوں کو کون سے حقوق حاصل ہیں، جب کہ تیسرے سوال میں قیدیوں کے بنیادی حقوق کے حوالے سے ریاست کی ذمہ داریوں کے دائرہ کار اور حدود کا تعین کرنے کا نکتہ اٹھایاگیا۔
چوتھے سوال میں یہ معاملہ شامل کیاگیا کہ اگر ریاست کا کوئی عہدیدار قیدی کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کرےتو اس کے کیا قانونی نتائج برآمد ہوتے ہیں۔
وفاقی آئینی عدالت نے سپریم کورٹ سے عمران خان کی شفا ہسپتال منتقلی سے متعلق درخواست کا تمام ریکارڈ طلب کیا ہے۔
عدالت نے توہین عدالت، ہسپتال منتقلی اور حکومت کی نظرثانی درخواست سے متعلق ریکارڈ بھی منگوالیا ہے۔
عمران خان کی قید پر سابق 7کرکٹ کپتان پریشان کیوں؟
عدالت نے تمام ہائی کورٹس سے بھی اسی نوعیت کے زیرالتوا مقدمات کا ریکارڈ طلب کرتےہوئے ہدایت کی کہ اگر کسی ہائیکورٹ میں قیدیوں کو طبی سہولیات یا نجی ہسپتال منتقلی سے متعلق کوئی مقدمہ زیر سماعت ہےتو اس کا مکمل ریکارڈ وفاقی آئینی عدالت کو بھجوایا جائے۔
وفاقی آئینی عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد اور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو بھی تحریری جواب جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔
سماعت کے دوران اختیارِ سماعت اور بنیادی حقوق سے متعلق قانونی نکات پر بھی غور کیاگیا۔عدالت نے قراردیا کہ آئینی تشریح اور بنیادی حقوق سے متعلق مقدمات میں یہ سوال اہم ہے کہ ان معاملات کی سماعت کا اختیار کس عدالت کو حاصل ہے۔
